Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / ایریزونا میں ٹرمپ اور ہلاری کلنٹن کی اہم جیت ریاست کے قدامت پسند ووٹرس کی زبردست تائید

ایریزونا میں ٹرمپ اور ہلاری کلنٹن کی اہم جیت ریاست کے قدامت پسند ووٹرس کی زبردست تائید

واشنگٹن۔ 23 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلاری کلنٹن اور ری پبلیکن پارٹی لیڈر ڈونالڈ ٹرمپ نے ریاست ایریزونا میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جنوب مشرقی ریاست ایریزونا میں امیگریشن بڑا مسئلہ رہا ہے اور اس حیثیت سے ٹرمپ کے لیے یہ معرکہ آسان رہا۔ امیگریشن کے تعلق سے ڈونالڈ ٹرمپ کا موقف بہت واضح ہے اور وہ اس کے سخت مخالف ہیں۔ رائے دہی سے یہ بات پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ ان کا یہی پیغام ریاست کے قدامت پسند رائے دہندوں کو پسند آیا۔ دوسری طرف ایریزونا میں لاطینی باشندوں یعنی میکسیکو اور دیگر پڑوسی ممالک سے آنے والے عوام کی تعداد بھی کافی بڑھ رہی ہے اور اسی اقلیتی طبقہ کے ووٹوں سے ہلاری کلنٹن کی جیت یقینی ہوئی، لیکن ڈیموکریٹک پارٹی میں ہلاری کلنٹن کے مدمقابل امیدوار برنی سینڈرز آئڈہو اور یوٹا جیسی چھوٹی ریاستوں میں اچھی کامیابی حاصل کر نے کی وجہ سے اب بھی ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

سیاٹل میں جیت کے بعد اپنے خطاب میں ہلاری کلنٹن  نے منگل کو بروسلز میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر بھی بات کی اور اس حوالے سے اپنے ری پبلیکن امیدوار کے بیانات پر سخت نکتہ چینی کی۔ اس سے قبل منگل کو ہی ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا تھا کہ ان کا منصوبہ ہے کہ وہ امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی لگا دیں گے اور یہ کہ مشتبہ دہشت گردوں کو تکلیف پہنچانا چاہئے۔ہلاری کلنٹن نے کہا تھا کہ ’ہم پیچیدہ اور بہت پر خطر دنیا میں رہتے ہیں اور ہمیں ایک ایسا کمانڈر اِن چیف چاہیے جو ہمیں ایک مضبوط قیادت فراہم کر سکے، جو سمجھ دار ہو اور ان خطروں سے نمٹنے میں ثابت قدم رہے۔‘ انہوں نے ٹرمپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’ہمیں ایسے لیڈر کی ضرورت نہیں ہے جو مزید خوف پیدا کرے۔‘ ایریزونا میں کامیابی سے ٹرمپ کو پورے 58 مندوبین کی حمایت حاصل ہوئی جس سے ان کا موقف پہلے سے مزید بہتر ہوگیا۔ری پبلیکن  پارٹی لیڈر اور ان کے مدمقابل امیدوار پوری کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں کسی طرح روکا جا سکے لیکن ان کی جیت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT