Tuesday , March 28 2017
Home / شہر کی خبریں / ایس ایس سی امتحانات کیلئے خفیہ ایجنسیوں کی خدمات

ایس ایس سی امتحانات کیلئے خفیہ ایجنسیوں کی خدمات

خصوصی اسکواڈ س کی تشکیل ‘نقل نویسی ‘ تلبیس شخصی کو روکنے موثر اقدامات
حیدرآباد۔20مارچ (سیاست نیوز) ریاست میں جاری ایس ایس سی امتحانات میں دھاندلیوں پر محکمہ تعلیم کی جانب سے خصوصی نگاہ رکھی جا رہی ہے اور شہر کے علاوہ اضلاع میں جاری ان امتحانات میں تلبیس شخصی اور نقل نویسی کے واقعات کے متعلق محکمہ کو شکایات وصول ہورہی ہیں اور محکمہ تعلیم کی جانب سے ان شکایات کے ازالہ کے لئے اور اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کے لئے خفیہ ایجنسیوں کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی تعلیمی پالیسی کس حد تک درست ہے یہ کہنا مشکل ہے لیکن ایس ایس سی امتحانات کے شفاف انعقاد کے لئے حکومت نے بورڈ آف سیکینڈری کو جو چھوٹ فراہم کر رکھی ہے اس کا بورڈ کی جانب سے بھر پور فائدہ اٹھایا جانے لگا ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں کے بموجب پرانے شہر کے امتحانی مراکز بالخصوص ان امتحانی مراکز پر گہری نظریں مرکوز ہیں جو گنجان آبادیوں والے علاقہ میں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ خانگی اسکولو ںمیں امتحانی مراکز کی تعداد میں کٹوتی کے ساتھ اب خانگی اور سرکاری اسکولوں میں موجود امتحانی مراکز میں جاری سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی اسکواڈ کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے بعض اضلاع سے بھی اس طرح کی شکایات موصول ہوئی ہیں جہاں امتحانی مراکز کے ذمہ داروں کی جانب سے فی پیپر کے اعتبار سے کامیاب کروانیکی ضمانت دی گئی ہے۔ بورڈ آف سیکینڈری کے عہدیداروں کے مطابق جن امتحانی مراکز کے متعلق یہ شکایات موصول ہوئی ہیں ان شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کی طمانیت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شکایت میں کس حد تک صداقت ہے اسی لئے ان خانگی و سرکاری اسکولوں میں ہمہ وقتی اسکواڈ روانہ کیا جا رہا ہے جن کے متعلق اس طرح کی سنگین شکایات موصول ہوئی ہیں۔ دونوں شہروں کے علاوہ نظام آباد ‘ رنگاریڈی‘ میدک‘ ظہیرآباد‘ کھمم کے بعض علاقوں سے یہ شکایات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد محکمہ تعلیم اور بورڈ آف سیکینڈری نے خفیہ ایجنسیوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور شکایات درست ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کے علاوہ خانگی اسکولوں کے الحاق کی تنسیخ کے متعلق سفارش کی جائے گی کیونکہ امتحانات میں کسی بھی قسم کی عدم شفافیت ‘ نقل نویسی اور تلبیش شخصی سنگین جرم ہے اور اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت کاروائی کی جا سکتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT