Saturday , October 21 2017
Home / سیاسیات / ایس ٹی ، ایس سی اور او بی سی کے کوٹوں میں کمی کی عظیم اتحاد کی سازش

ایس ٹی ، ایس سی اور او بی سی کے کوٹوں میں کمی کی عظیم اتحاد کی سازش

بکسر (بہار) ۔ 26 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کوٹوں میں دخل اندازی کی مبینہ کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج بہار کے عظیم اتحاد پر الزام عائد کیا کہ وہ ایس ٹی، ایس سی اور او بی سی کے تحفظات میں اس سے پانچ فیصد کم کرکے اسے ’’ایک مخصوص فرقہ‘‘ کو دینے کی سازش کررہا ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ اس کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ’’مہاسوارٹھ‘‘ (عظیم موقع پرست) کی تحفظات کے مسئلہ پر عوام کو گمراہ کرنے کی سازش ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستور سازوں کے تحفظات پر مباحث سے صاف ظاہر ہوتا ہیکہ تحفظات مذہب کی بنیاد پر نہیں دیئے جاسکتے۔ سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہیکہ تحفظات 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ چنانچہ ایک حد مقرر ہے لیکن وہ سازش کررہے ہیں کہ اپنے خفیہ منصوبہ کے ذریعہ دلتوں، مہادلتوں، پسماندہ افراد اور انتہائی پسماندہ افراد کیلئے مختص تحفظات کا پانچ فیصد حصہ ایک مخصوص فرقہ کو دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک انتہائی پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک غریب خاتون کے بطن سے پیدا ہونے کا درد اچھی طرح سمھجتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے عہد کیا کہ دلتوں، مہادلتوں اور پسماندہ افراد کے وفوق تحفظ کریں گے۔ وہ بکسر میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ مودی نے عظیم اتحاد کے قائدین نتیش کمار، لالو پرساد اور سونیا گاندھی پر الزام عائد کیا کہ وہ تحفظات کے مسئلہ پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مخالف بی جے پی اتحاد کو ووٹ دے کر برسراقتدار لایا جائے تو ’’جنگل راج‘‘ واپس آ جائے گا اور اغواء اور خواتین پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ چیف منسٹر بہار نتیش کمار، آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد بدعنوان افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے تازہ ترین مثالیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ارکان اسمبلی اور انتخابی امیدوار مبینہ طور پر رشوت خوری کے ملزم ہیں۔ انہوں نے ’’سودے معاوضہ لیکر طئے کروائے ہیں‘‘۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتابنرجی کی بہار کے رائے دہندوں سے نتیش کمار کو دوبارہ منتخب کرنے کی اپیل کو صرف خود کو خبروں میں رکھنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ ممتابنرجی قومی سیاست میں بھی اپنا اثرورسوخ رکھتی ہیں، یہ اپیل کی گئی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر نے الزام عائد کیا کہ یہ قومی سیاست میں برقرار رہنے کی مایوسانہ کوشش ہے جسے دیگر سیاسی پارٹیوں نے نظرانداز کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT