Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / ایس پی جی کو اسرائیل سے مزید کاٹ دستیاب

ایس پی جی کو اسرائیل سے مزید کاٹ دستیاب

وی وی آئی پی پروٹیکشن کیلئے مخصوص نسل کے کتوں کی حصولیابی

نئی دہلی ، 7 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان گہرائی اختیار کرنے والے کلیدی روابط کے پس منظر میں نئی دہلی نے یروشلم سے خاص نسل کے چند کتے حاصل کئے ہیں جو دھماکو مادوں کا سونگھ کر پتہ چلانے میں مہارت رکھتے ہیں اور مسلح مشتبہ افراد کا مقابلہ بھی کرتے ہیں۔ اُن کا بھونکنا اور کاٹنا بد اور بدتر ہیں۔ یہ خاص کتے اسپیشل پروٹیکشن گروپ (SPG) کو دستیاب رہیں گے جو وزیراعظم، سابق وزرائے اعظم اور اُن کی فیملیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان وہ مقامات کی سنسر پر مبنی صفائی کیلئے بھی بات چیت چل رہی ہے جہاں ایس پی جی حفاظت یافتہ وی وی آئی پیز دورہ کرتے ہیں۔ اسرائیل کے ایسے کتوں کو کالر سنسر لگا ہوگا اور وہ علاقہ کو چھان مارکر کوئی مشتبہ مادہ یا فرد ہو تو پتہ چلائیں گے اور متعلقہ ڈاٹا موبائل کنٹرول یونٹ کو پہنچائیں گے۔ اس سے ایسے معاملوں میں مدد ملے گی جب کوئی وی وی آئی پی یکایک کسی مقام کا دورہ کرنا چاہتا ہے اور معمول کی تیاری ممکن نہ ہوسکتی ہو۔ اس ضمن میں بھی مذاکرات جاری ہیں کہ سنٹرل پیراملٹری اور ڈیفنس فورسیس کو دستیاب تمام 3,000-4,000 کتوں کو 10 سالہ ٹکنالوجی اَپ گریڈ پروگرام کے تحت عصری صلاحیتوں کی تربیت دی جائے گی تاکہ ان میں ایس پی جی کتوں جیسی قابلیت پیدا کی جاسکے۔ پی ایم او نے داخلہ اور دفاع کی وزارتوں سے کہا ہے کہ مشترک تجویز پیش کریں جس میں کتوں کی ضرورت، ٹریننگ انفراسٹرکچر اور دیگر ٹکنالوجی کو اَپ گریڈ کرنے کی بابت تحریر کیا جائے۔ مخصوص نسل والے کتوں کے علاوہ اسرائیل نے جرمن شیفرڈز اور لیبریڈرز کی خاص نسلوں کو بھی سپلائی کیا ہے جو دھماکو مادوں کا سونگھ کر پتہ چلانے اور حملے کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ اسرائیل نے انڈو۔ تبتن بارڈر پولیس کے ڈاگ ٹریننگ سنٹر کو بہتر بنانے میں بھی مدد کی ہے تاکہ ہر چار ماہ میں 25 ایس پی جی کتوں کو تربیت دی جاسکے۔ 30 کتوں کا گروہ حاصل کرتے ہوئے انھیں شامل کرلیا گیا ہے۔ ان کتوں اور نگہداشت کیلئے درکار تکنیکی سازوسامان اور آئی ٹی بی پی سنٹر نزد چنڈی گڑھ کو ترقی دینے پر 150 کروڑ روپئے کی لاگت آئی ہے۔ وقفے وقفے سے ان کتوں کی رال کی جانچ کیلئے سامان کی حصولیابی ہوئی ہے جس سے ان کی عملی کارکردگی کا اندازہ ہوتاہے اور صحت سے متعلق تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی موقع پر پی ایم کی سکیورٹی کیلئے ایس پی جی 60 کتوں کو استعمال کرتا ہے۔ 60 کتوں کا بیاچ ہر ماہ 13 کنٹل خصوصی غذا کھاتا ہے، ان کو صاف ستھرے ماحول میں رکھا جاتا ہے اور باقاعدگی سے میڈیکل چک اپ اور سویمنگ پول سے گزارا جاتا ہے۔ ایس پی جی کیلئے نہیں بلکہ نیم فوجی دستوں اور ڈیفنس فورسیس کیلئے کام کرنے والے کتوں کو دھماکو اشیاء کا پتہ چلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ بعض کتوں کو صرف طلایہ گردی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جو کتے ایس پی جی اپنے پاس سے ہٹا دے ، ان کو سنٹرل پیراملٹری فورسیس کو استعمال کیلئے بھیج دیا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT