Saturday , March 25 2017
Home / Top Stories / ایس پی لیڈر کی نظر میں نریندر مودی اور امیت شاہ سب سے بڑے دہشت گرد

ایس پی لیڈر کی نظر میں نریندر مودی اور امیت شاہ سب سے بڑے دہشت گرد

اترپردیش کے انتخابی جلسوں میں رائے دہندوں کو ڈرانے دھمکانے کا الزام
لکھنو۔20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور ریاستی وزیر نے آج وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ایک تنازعہ چھیڑدیا ہے جس پر مرکز میں برسر اقتدار جماعت نے شدید اعتراض کیا ہے اور کہا کہ نازیبا الفاظ کے استعمال سے سماج وادی پارٹی کی مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔ اترپردیش کے وزیر راجندر چودھری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں (مودی، امیت) بھی ریاست میں ووٹوں کی خاطر خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں اور یہ دونوں دہشت گرد ہیں… اور ہماری جمہوریت پر خوف طاری کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے قابل ذکر کوئی کام نہیں کیا ہے اور پارٹی قائدین اندھا دھند الزامات عائد کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ اکھلیش یادو کابینہ کے وزیر راجندر چودھری نے کہا کہ بی جے پی کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ اترپردیش کے انتخابات میں شکست یقینی ہے اور اس کا مظاہرہ بہار سے بھی ابتر رہے گا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم اور بی جے پی کے صدر انتخابی ریالیوں میں حکمران سماجوادی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ نریندر مودی نے کل یہ الزام عائد کیا تھا کہ سماج وادی پارٹی حکومت، مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر عوام سے امتیازی سلوک کررہی ہے جس پر سماج وادی پارٹی لیڈر نے آج شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امیت شاہ رائے دہندوں کو شہ نشین سے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں جتی کہ بعض اوقات ان کے رویہ سے پارٹی ورکرس بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ بی جے پی سماج وادی لیڈر کے اس بیان کو قابل اعتراض قرار دیا اور کہا کہ قومی قائدین کے خلاف اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ بی جے پی کے نائب صدر اور اترپردیش کے انچارج اوم ماتھر نے کہا کہ سماج وادی پارٹی مایوسی اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے اور وزیراعظم کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال پر اترپردیش کے عوام ضرور سبق سکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش کے انتخابات میں حکمران سماج وادی پارٹی مائل بہ شکست ہے اور مایوسی کے عالم میں غیر غلط الفاظ کا استعمال کیا جارہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT