Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / ایس پی کانگریس اتحاد پر چراغ پا مودی کی اکھلیش پر سخت تنقید

ایس پی کانگریس اتحاد پر چراغ پا مودی کی اکھلیش پر سخت تنقید

1984ء میں ملائم سنگھ پر کانگریس لیڈر کے قاتلانہ حملہ کو بیٹے نے فراموش کردیا، قنوج میں انتخابی ریالی سے وزیراعظم کا خطاب
قنوج۔15 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے سماج وادی پارٹی کو کانگریس کے ساتھ ماقبل انتخابات مفاہمت کے لیے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس (مفاہمت) کا انہوں نے ایک ایسی فلم سے تقابل کیا جس میں دو حریف انٹرول (وقفہ) کے بعد ایک دوسرے کے دوست ہوجاتے ہیں۔ مودی نے یہاں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش نہیں جانتے کہ کانگریسی افراد کس حد تک ’’چالباز‘‘ ہیں۔ مودی نے اکھلیش کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ 1984 میں ان کے والد ملائم سنگھ پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور یہ حملہ مبینہ طور پر ایک کانگریسی لیڈر نے کیا تھا۔ مودی نے نوٹ بندی کے مسئلہ پر مسلسل تنقیدیں کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کی مذمت کی اور کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ان (مودی) کے خلاف ہر قسم کے الزامات عائد کررہے ہیں اور واضح کیا کہ ’’ملک کے لوگ اب کافی باخبر ہوگئے ہیں اور جھوٹ سے کام نہیں چل سکتا۔‘‘ کانگریس نے مفاہمت پر کھلیش کو سخت ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’اترپردیش کے سیاسی اسٹیج پر یہ ایک فلم ہے۔ جس میں مخالفین نے ’’27 سال یو پی بے حال‘‘ جیسے نعروں کے ذریعہ ایک دوسرے کی تنقیدی کی تھی اور فلم کے پہلے حصہ میں یاترائوں کا اہتمام کیا تھا۔ اب انٹرویل کے بعد ایک دوسرے کے دوست بن گئے ہیں اور ایک دوسرے کو قبول کرچکے ہیں۔

مودی نے کہا کہ انتخابات کے اعلان سے قبل کانگریس اور ایس پی ایک دوسرے کے خلاف مہم چلا رہے ہیں لیکن انتخابی مفاہمت کے لیے انٹرویل (فلمی وقفہ) کے بعد ایک ساتھ ہوگئے ہیں۔ اکھلیش کی شریک حیات ڈمپل کے حلقہ لوک سبھا کے تحت موجود حلقہ ابھی قنوج کے عوام سے مودی نے کہا کہ ’’اس پی۔ کانگریس اتحاد آپ کے خوابوں کو چکناچور کردیگا۔‘‘ کانگریس سے مفاہتم پر اکھلیش کو باربار نشانہ بناتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’’میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اکھلیش یہ کیسے بھول گئے کہ 1984ء میں ایک کانگریسی نے ملائم سنگھ یادو پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہوسکتا ہے کہ کسی نے ان ہی سے دوستی کرلی جنہوں نے اس کے والد کا قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہیں معاف نہیں کیا جانا چاہئے۔‘‘ مودی نے کہا کہ ’’کیا سیاست انتی گرگئی ہے کہ کرسی کی محبت میں اس قسم کی سازشیں کی جائیں‘‘ مودی نے ایک واقعہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اترپردیش ودھان سبھا میں بحیثیت اپوزیشن لیڈر ملائم سنگھ کی طرف سے کی جانے والی مسلسل تنقیدوں سے بیزار ہوکر ایک کانگریس لیڈر نے 4 مارچ 1984ء کو ان پر گولی چلائی تھی۔ میں اکھلیش سے کہنا چاہتا ہوں کہ کانگریس کی گود میں بیٹھنے سے قبل وہ اس واقعہ کو یاد رکھیں۔‘‘ اکھلیش۔راہول اتحاد پر چراغ پا مودی نے کہا کہ ’’اکھلیش جی کو ابھی تجربہ کم ہے، کانگریس والے کتنے چالباز ہیں یہ ان (اکھلیش) کی سمجھ میں نہیں آتا لیکن ملائم جی کو اس کا پتہ تھا۔‘‘

TOPPOPULARRECENT