Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / ایشز 2015ء میں ہوم اڈوانٹیج کا کتنا اثر؟

ایشز 2015ء میں ہوم اڈوانٹیج کا کتنا اثر؟

لندن ، 11 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) حالیہ ایشز سیریز میں انگلینڈ کی فتح کی خاص بات یہ ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم صرف 18 ماہ پہلے آسٹریلیا کے مقابل 0-5 سے شکست فاش سے دوچار ہوئی تھی، اس لئے موجودہ ایشز سیریز کی جیت کو انگلینڈ کی بڑی شاندار واپسی قرار دیا جا رہا ہے۔ 19 ویں صدی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ نے اپنی سرزمین پر مسلسل چار ایشز سیریز میں کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ 14 سال میں کھیلی گئی سات ایشز سیریز میں سے نصف سے زائد میں میزبان ٹیم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایشز جسے کرکٹ کی دنیا میں سب سے کانٹے کا مقابلہ کہا جاتا ہے، اب غیردلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ٹسٹ کرکٹ کے ماہر اینڈریو سائمن کے مطابق 2002ء سے پہلے تک 117 ایشز ٹسٹ میچوں میں میزبان ٹیم کامیاب رہی، 98 میچوں میں مہمان ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔ ان میچوں میں ہار جیت کا تناسب 1.19 رہا۔ 2002ء کے بعد سے 25 ایشز ٹسٹ میچوں میں میزبان ٹیم کامیابی رہی جبکہ سات میں مہمان ٹیم نے فتح حاصل کی اور یوں ہار جیت کا تناسب 3.57 رہا۔ سابق انگلش اسپنرگرائم سوان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں بنائی جانے وکٹیں دھیمی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے بیٹسمین تیز اور اچھال والی وکٹوں پر کھیلتے ہوئے اپنی خامیوں کا شکار نہیں ہوتے لیکن جب وہ آسٹریلیا جاتے ہیں تو وہ باؤنسی وکٹوں پر تیز بولروں کا سامنا نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ جب آپ انگلینڈ آتے ہیں اور گیند سوئنگ ہوتی ہے یہاں تک کہ کاؤنٹی کھیلنے والے مہمان ٹیم کے بیٹسمینوں کو بھی ٹسٹ میچوں میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

TOPPOPULARRECENT