Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ایشیاء میں ہندا ور برونائی کے مساویانہ مفاد و ذمہ داریاں

ایشیاء میں ہندا ور برونائی کے مساویانہ مفاد و ذمہ داریاں

دہشت گردی کیخلاف مہم میں دونوں ملکوں کے تعاون پر زور، برونائی یونیورسٹی میں نائب صدر حامد انصاری کا لکچر
بندرسیری بیگاوان ۔ 3 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری نے آج کہا کہ مشترکہ ایشیائی پڑوس کی ترقی، خوشحالی و سلامتی میں ہندوستان اور برونائی کی مساویانہ ذمہ داری اور مفادات مضمر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں سمندری راہداریوں کے تحفظ کی برقراری بھی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ حامد انصاری نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے انسداد بالخصوص معلومات کے تبادلہ کے ذریعہ رقومات کی فراہمی کو روکنے کیلئے ہندوستان اور برونائی کے مابین تعاون میں مزید توسیع کی جائے۔ انہوں نے برونائی یونیورسٹی میں ’ہند ۔ برونائی : امن، ترقی و خوشحالی میں ساجھیداری‘ کے زیرعنوان اپنے خطاب میں کہا کہ تجارتی معیشتوں کی حیثیت سے ہندوستان اور برونائی کا مفاد اس بات میں مضمر ہے کہ سمندری علاقوں کی سلامتی اور سمندری راہداریوں کا تحفظ برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے مشترکہ ایشیائی پڑوس میں ترقی و خوشحالی کیلئے ہمارے دونوں ملکوں کے مساویانہ مفادات اور ذمہ داریاں ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نہ صرف باہمی طور پر فائدہ بخش باہمی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں

بلکہ علاقائی ساجھیداروں کے ساتھ ادارہ جاتی سطح پر کام اور ہمارے علاقہ میں سازگار و پائیدار امن سلامتی اور معاشی ترقی کے ماحول کو فروغ دیا جائے‘‘۔ واضح رہیکہ ہندوستان اور برونائی میں گذشتہ روز جنوبی چینی سمندر پر چین کے چلاقائی ادعا جات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ چین کے دعوؤں سے جنوب مشرقی ایشیاء میں بحری جہازوں اور کشتیوں کی آزادانہ آمد و رفت متاثر ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جنوبی چینی سمندر کے بارے میں چین نے جزیروں کے 90 فیصد علاقوں پر اپنا ادعا کیا ہے۔ اس علاقہ میں اہم سمندری راہداریاں بھی شامل ہیں جہاں سے کئی تجارتی جہاز گذرتے ہیں۔ برونائی میں آسیان کے دیگر رکن ممالک ملائیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ جنوبی چینی سمندر پر اپنا ادعا بھی کیا ہے۔ جنوبی چینی سمندر کی راہداریوں سے دنیا بھر کے نصف سے زیادہ کارگو جہاز گذرتے ہیں۔ حامد انصاری نے کہا کہ ہندوستانی بحری جہازوں نے برونائی کا دورہ کیا اور برونائی کی بحری کشتیاں ہندوستان میں مشترکہ مشقوں میں حصہ لے چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان سرگرمیوں سے دفاعی شعبہ میں ہمارے تعاون کو وسعت کی نئی بنیادیں فراہم ہوئی ہیں

جن میں مختلف شعبوں کے تحت دفاعی اہلکاروں کی تربیت بھی شامل ہے‘‘۔ حامد انصاری نے عسکریت پسندی سے بڑھتی ہوئے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت دنیا کے تمام امن پسند ممالک کیلئے ایک سنگین چیلنج بن گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم اپنے ہمخیال ممالک کے مضبوط تعاون کے ساتھ اس لعنت کی مکمل سرکوبی کا عہد کرچکے ہیں اور ہم عالمی دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے برونائی کے ساتھ اپنے تعاون کو وسعت دینے سے دلچسپی رکھتے ہیں بالخصوص معلومات کے تبادلوں کے ذریعہ دہشت گردی کیلئے فراہم کی جانے والی رقومات کو روکنا ضروری ہے‘‘۔ حامد انصاری نے کہا کہ ہندوستان ساحلی سلامتی اور مختلف المیوں سے نمٹنے کیلئے برونائی کے ساتھ قریبی ٹاؤن کے راستے تلاش کرنے کا خواہشمند ہے۔ ہندوستان اور برونائی کئی بیرونی اداروں میں بشمول اقوام متحدہ اور دولت مشترکہ میں اصلاحات کے بشمول مختلف مسائل پر ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔ نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ ’’ہم اس تہذیب کی نمائندگی کرتے ہیں جو ہمارے سیارے کو مادر ارض کہتا ہے۔ چنانچہ ہندوستان کیلئے یہ فطری امر ہیکہ وہ ماحولیاتی تبدلی کے سنگین اثرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ جذبہ لیکن مختلف ذمہ داریوں کے ساتھ صف اول میں شامل رہے۔

TOPPOPULARRECENT