Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / ایغور مسلمانوں کو پاسپورٹ کے حصول کیلئے ڈی این اے رپورٹ کا لزوم

ایغور مسلمانوں کو پاسپورٹ کے حصول کیلئے ڈی این اے رپورٹ کا لزوم

بیجنگ ۔ 7 جون (سیاست ڈاٹ کام) چین کے مسلم اکثریتی علاقہ ژنجیانگ جو سرحدی ڈسٹرکٹ ہے، وہاں اب مسلمانوں کیلئے نئی شرائط عائد کی گئی ہیں اور وہ یہ کہ اگر وہ اپنا پاسپورٹ بنوانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی ڈی این اے رپورٹ بھی درخواست فارم کے ساتھ داخل کرنی پڑے گی۔ یکم ؍ جون سے مسلمانوں کو جن کی اکثریت کا تعلق ایغور قبیلے سے ہے اور جویلی قزاق کے خودمختار علاقہ کے باشندے ہیں، انہیں پاسپورٹ کے حصول کیلئے درخواست کے ساتھ ساتھ ڈی این اے نمونہ، فنگرپرنٹس (انگلیوں کے نشان)، وائس پرنٹس (آواز کا نمونہ) اور اپنی ایسی تصویر جو ’’تھری ڈی‘‘ میں ہو، منسلک کرنی پڑے گی۔ اخباریلی ڈیلی نے یہ بات بتائی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ ایغور فرقہ کے مسلمان ہمیشہ ہی ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے کی شکایت کرتے آئے ہیں۔ انہیں اپنے مذہبی امور پر بھی آزادی سے عمل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مذکورہ بالا نئی پالیسی کا اطلاق رمضان المبارک کے مقدس ماہ کے آغاز سے صرف ایک روز پہلے کیا جارہا ہے۔ پاسپورٹ کی درخواست کے علاوہ تائیوان کیلئے داخلہ پرمٹس، دورخی پرمٹس برائے ہانگ کانگ اور مکاؤ کے حصول کیلئے بھی انہیں مندرجہ بالا تمام شرائط کی تکمیل کرنی پڑے گی جبکہ شرائط کی تعمیل نہ کرنے والوں کو پاسپورٹس اور دیگر سفری دستاویزات جاری نہیں کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT