Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / ایل او سی پر دراندازی کی پانچویں کوشش ناکام، جنگجو ہلاک، آپریشن جاری

ایل او سی پر دراندازی کی پانچویں کوشش ناکام، جنگجو ہلاک، آپریشن جاری

 

سرینگر 10جون (سیاست ڈاٹ کام ) فوج نے شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں لائن آف کنٹرول کے گریز سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک جنگجو کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ یہ 6جون سے شمالی کشمیر میں ایل او سی پر ناکام بنائی جانے والی دراندازی کی پانچویں کوشش ہے ۔ دوسری جانب ایل او سی کے اوڑی سیکٹر میں 9جون کو دراندازی کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد جنگجوؤں اور فوجیوں کے مابین شروع ہونے والے تصادم میں ایک اور جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ مزید ایک جنگجو کی ہلاکت کے ساتھ اوڑی سیکٹر میں مارے گئے جنگجوؤں کی تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شمالی کشمیر میں ایل او سی پر 7جون سے دراندازی کی پے درپے پانچ کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے 14جنگجوؤں کو ہلاک کیا جاچکا ہے ۔ تاہم 8جون کو دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے دوران ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہوگئے تھے ۔ سرکاری ذرائع نے ’یو این آئی‘ کو بتایا کہ گریز سیکٹر میں تعینات فوجیوں نے جنگجوؤں کے ایک گروپ کو سرحد کے اس پار داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب جنگجوؤں کو ہتھیار ڈال کر خودسپردگی اختیار کرنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے خودکار ہتھیاروں سے فوجیوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ طرفین کے مابین ہونے والی ابتدائی فائرنگ میں ایک جنگجو کو ہلاک کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ فوجیوں کی مزید کمک گریز سیکٹر روانہ کرکے وہاں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ آخری اطلاعات ملنے تک گریز سیکٹر میں آپریشن جاری تھا۔فوجیوں نے جمعہ کو ضلع بارہمولہ میں ایل او سی کے اوڑی سیکٹر میں دراندازی کی ایک بڑی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے6 دراندازوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
کشمیر میں ہڑتال کے بعد معمولات زندگی بحال
دریں اثناء وادی کشمیر میں جنوبی ضلع شوپیان کے 19 سالہ نوجوان عادل فاروق ماگرے کی ہلاکت کے خلاف ایک روزہ ہڑتال کے بعد معمولات زندگی بحال ہوگئے ۔ وادی میں جمعہ کو مکمل ہڑتال کے سبب معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی تھی۔ ضلع شوپیان کے گنہ پورہ میں 6 جون کی شام کو 19 سالہ عادل فاروق اس وقت جاں بحق اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے تھے جب سیکورٹی فورسز نے گاؤں میں شروع کردہ جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے والے لوگوں پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول دیے تھے ۔ عادل احمد گورنمنٹ ڈگری کالج شوپیان میں گریجویشن سال اول کا طالب علم تھا۔ علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اس ہلاکت پر جمعہ کو مکمل ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT