Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / ایل او سی کے پاس پاکستان کی تین دن میں تیسری شلباری، 2 افراد ہلاک

ایل او سی کے پاس پاکستان کی تین دن میں تیسری شلباری، 2 افراد ہلاک

فائر بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ، کئی سرحدی دیہات نشانہ ، درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا

56 انچ کے سینہ پر سوالیہ نشان؟
ایک سال میں فائر بندی کی 268 مرتبہ خلاف ورزی

جموں 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں آج لائن آف کنٹرول کے پاس پاکستانی آرمی نے مورٹار بم فائر کئے اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی جس کے نتیجہ میں دو اشخاص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے تین دنوں میں یہ فائر بندی کی تیسری خلاف ورزی ہے۔ اِس سے قبل پاکستانی دستوں کی فائرنگ اور شلباری کے نتیجہ میں ایک خاتون ہلاک ہوئی تھی اور تین افراد زخمی ہوئے تھے۔ پی آر او وزارت دفاع جموں لیفٹننٹ منیش مہتا نے کہاکہ ہندوستانی آرمی سخت اور مؤثر طور پر جواب دے رہی ہے نیز آخری اطلاعات تک فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ راجوری کے ڈپٹی کمشنر شاہد اقبال چودھری نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ نوشیرہ پٹی میں ایل او سی کے پاس پاکستانی آرمی کی آج کی فائرنگ اور شلباری کے نتیجہ میں دو ہلاکتیں ہوئیں اور تین دیگر افراد کو زخم آئے۔ اُنھوں نے کہاکہ پاکستانی آرمی نے صبح 7.15 بجے نوشیرہ سیکٹر میں ایل او سی کے پاس چھوٹے اسلحہ، خودکار ہتھیاروں، 82mm اور 120mm مورٹار بموں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ ایل او سی کے قریب جن 5 گاؤں کو نشانہ بنایا گیا وہاں سے مزید زائداز100  افراد محفوظ تر مقامات کو منتقل ہوچکے ہیں۔

عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستانی دستے جن گڑھ ، بھوانی، لام بیلٹس کو نشانہ بنارہے ہیں۔ گزشتہ روز جب پاکستانی رینجرس نے بین الاقوامی سرحد کے پاس سیز فائر کی خلاف ورزی کی تب ایک بی ایس ایف جوان کو معمولی زخم آیا تھا۔ 10 اور 11 مئی کو پاکستانی دستوں نے جموں و کشمیر میں ایل او سی کے قریب شہری علاقوں پر مورٹار شل فائر کرتے ہوئے 35 سالہ ایک خاتون کو ہلاک اور دیگر دو کو زخمی کیا تھا۔ ضلع راجوری کی نوشیرہ تحصیل میں پاکستانی کارروائی کے تناظر میں علاقے کے اسکولوں کو 11 اور 12 مئی کو بند رکھا گیا۔ مختلف سرحدی دیہاتوں سے زائداز 1500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لئے تخلیے کے منصوبے پر عمل شروع کردیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ حکومت نے کہا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسیس نے گزشتہ ایک سال میں 268 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے۔ اِن واقعات میں 9 افراد کی جان گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مملکتی وزیر دفاع سبھاش بھمرے نے کہا تھا کہ اپریل 2016 ء اور مارچ 2017 ء کے درمیان سب سے زیادہ 88 خلاف ورزیاں نومبر 2016 ء میں دیکھی گئیں جس کے بعد اکٹوبر 2016 ء میں 78 اور رواں سال مارچ میں فائر بندی کے 22 واقعات پیش آئے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیز فائر نومبر 2003 ء سے نافذ العمل ہے۔ ڈپٹی کمشنر چودھری نے بتایا کہ اِس شلباری کے سبب 27 خاندان متاثر ہوئے ہیں اور کئی مکانات بشمول ایک اسکول کو جزوی یا شدید نقصان ہوا ہے۔ کئی مویشی بھی مارے گئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT