Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / ایماں زباں سے ہی نہیں دل سے بھی چاہئے

ایماں زباں سے ہی نہیں دل سے بھی چاہئے

کوئی شخص ایمان سے مشرف ہونا چاہے تو بظاہر اس کی زبان سے ایمانی کلمہ پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن دل سے ایمان لانے کے بعد ہی وہ سچا مومن ہوتا ہے۔ صوفیہ کرام کے نزدیک بعض لوگ وہ ہیں جو ایمان میں آجاتے ہیں تو بعض وہ ہیں کہ ایمان اُن میں آجاتا ہے۔ جو ایمان میں آجائے وہ مومن کہلاتا ہے لیکن جس میں ایمان آجائے وہ مومن گَر ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ روٹی آگ میں جائے تو جل جاتی ہے مگر کوئلہ میں آگ آجاتی ہے تو وہ خود آگ بن جاتا ہے۔ چنانچہ مولائے رومؒ نے اپنی مثنوی شریف میں ایک حکایت بیان فرمائی ہے کہ حضرت بایزید بسطامیؒ کے زمانے میں ایک آتش پرست تھا جس سے لوگوں نے کہا کہ مسلمان ہوجا تو نجات پاجائے گا۔ اُس نے جواب دیا   ؎
گفت ایں ایماں اگر ہست اے مرید
آنکہ دارد شیخ عالم بایزید
کہا کہ اے دعوت دینے والے  !  اگر ایماں ایسا ہے جیسا کہ شیخ عالم بایزید (بسطامی) علیہ الرحمہ کا ایمان تھا   ؎
من ندارم طاقتِ آں تابِ آں
کاں فزوں آمد زکوشش ہائے جاں
مجھ میں وہ طاقت اور وہ تاب نہیں کہ جان توڑ کوشش سے بھی ویسا ایمان مل سکے   ؎
گرچہ در ایمان و دیں ناموقنم
لیک در ایمانِ اوبس مومنم
اگرچہ ایمان اور دین کے بارے میں منہ سے میں کچھ نہیں کہتا لیکن اُن (بایزیدؒ) کے ایمان پر ایمان لاتا ہوں۔
یعنی حضرت بایزید ؒ کے جیسا ایمان واقعی رب تعالیٰ تک پہنچا دیتا ہے   ؎
باز  ایماں  خود گر  ایمانِ  شماست
نے بداں میلستم ونے مشتہاست
پھر اگر تم اپنے جیسے ایمان کی طرف مجھے بلاتے ہو تو مجھے اب اس کی طرف نہ رغبت ہے اور نہ اس کی مجھے ضرورت ہے۔
چنانچہ قرآن پاک میں بھی ارشاد ربانی ہے ’’ ٰٓیاَیُّھَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْٓا  اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ  وَرَسُوْلِہٖ  یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لاچکے ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر (نساء۔ ۱۳۶)‘‘
یہاں پہلا لفظ اَمَنُوْا (میم مفتوح کے ساتھ) ماضی مطلق ہے اور دوسرا اٰمِنُوْا (میم مکسور کے ساتھ) امر کا صیغہ ہیَ جو لوگ ایمان لاچکے اُن کو پھر ایمان لانے کے حکم سے کیا مراد ہے؟ اس کے متعدد مفہوم بیان کئے گئے ہیں جیسے۱۔ عام مومنوں کو جو زبان سے ایمان لاچکے انھیں دل سے ایمان لانے کا حکم ہے۔  یا  ۲۔جو پہلے ایمان تو لاچکے اب اس ایمان پر قائم رہنے کا حکم ہے۔  یا ۳۔ پہلے اجمالی ایمان لائے تھے اب تفصیلی ایمان لانے کا حکم ہے۔  یا  ۴۔ پہلے تقلیدی ایمان لائے تھے اب تحقیقی ایمان لانے کا حکم ہے۔اس لئے صوفیہ کرام فرماتے ہیں ایمان کے تین درجے ہیں۔ پہلا درجہ ایمان بالبُرہان جو عوام کا ایمان ہے۔ دوسرا درجہ ایمان بالمشاہدہ و العیان جو خواص کا ایمان ہے اور تیسرا درجہ ایمان بالفناعن غیر الرحمان جو اخص الخواص کا ایمان ہے جس کو ایمان بالغیب بھی کہاجاتا ہے۔
بعض وقت دلی اطمینان کے لئے ایمان بالغیب کی تصدیق عینی مشاہدہ سے بھی کی جاتی ہے جیسا کہ سورئہ بقرہ کی آیت (۲۶۰) کے بموجب حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اس پر کامل یمان و یقین رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ مُردوں کو ضرور زندہ فرماتا ہے‘ اپنے قلبی اطمینان کے لئے اس کے مشاہدہ کی درخواست فرمائی تو حق تعالیٰ نے اپنے خلیل کو حکم دیا کہ کسی چار پرندوں کو پہلے پال کر اپنی طرف مانوس کرلو پھر انھیں ذبح کرکے اُن کے ٹکڑے پہاڑوں پر رکھ دو اور انھیں بلائو۔ چنانچہ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیااور اپنے پاس انھیں پکار کر بلایا تو وہ پرندے فورًا زندہ ہوکرآپ کے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئے۔
درس بصیرت:
۱    ایمان سے مشرف ہونے کے لئے حسب طریقہ زبان سے پہلے کلمۂ شہادت بظاہر ادا کرنا پڑتا ہے۔
۲    لیکن زبان سے ایمان لانا کافی نہیں بلکہ دل سے ایمان لانا اصل ایمان ہے۔
۳    عام سادہ لوح آدمی یا پھر چالاک منافق شخص اگر صرف زبان سے اسلام قبول کرلے تو وہ حقیقی معنٰی میں مومن نہیں۔ مومنِ صادق کے لئے دل سے ایمان لانا ضروری ہے۔
۴    جس میں ایمان رَس بس جائے وہ نہ صرف خود سچا مومن ہوتا ہے بلکہ مومن گر بھی بن جاتا ہے یعنی اس کے ایمانی انوار و کیفیات سے متاثر ہوکر دوسرے بھی مومن بن جاتے ہیں۔
۵    سورئہ نساء کے قرآنی الفاظ ’’ ٰٓیاَیُّھَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْٓا  اٰمِنُوْا ۔۔۔‘‘میں یہی حکم ہے کہ زبانی یا بیانی ایمان لانے والے جنانی یعنی دل سے بھی ایمان لے آئیں۔

TOPPOPULARRECENT