Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / ایمرجنسی اور مظفر نگر فساد پر آوازیں نہیں اٹھیں: مرکزی وزیر

ایمرجنسی اور مظفر نگر فساد پر آوازیں نہیں اٹھیں: مرکزی وزیر

نئی دہلی۔14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے آج نامور مصنفین سے ان کے بطور احتجاج ایوارڈس واپس کرنے کے سلسلہ میں ان سے سوال کیا کہ آخر ایمرجنسی اور مظفر نگر فسادات کے بعد انہوں نے آواز کیوں نہیں اٹھائی۔ معقولیت پسند کلبرگی کے قتل اور دادری سانحہ میں ایسی کیا خاص بات ہے جس کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سخت دکھ پہنچتا ہے جبکہ ملک میں ایسے واقعات ہوتے ہیں لیکن ایسے واقعات پر عوام کو اپنے ایوارڈس واپس نہیں کرنے چاہئیں۔ ایمرجنسی میں جمہوری حقوق بشمول صحافت کی آزادی کچل دی گئی تھی۔ مظفر نگر فسادات میں کثیر تعداد میں اقلیتی طبقہ کے افراد قتل اور بے گھر ہوئے تھے لیکن کسی بھی نامور مصنف نے بطور احتجاج اپنی آواز نہیں اٹھائی اور نہ ایوارڈ واپس کیا۔ ایوارڈ صلاحیت اور علم کی بنا ء پر دیا جاتا ہے ۔ ہر شخص کو اس پر فخر ہونا چاہئے۔ بطور احتجاج ایوارڈ واپس کرنا نامناسب ہے۔ تاہم مرکزی وزیر نے مزید سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر شہ نشین پر بیٹھ کر کوئی بحث چھیڑنا نہیں چاہتے۔ مرکزی وزیر ثقافت مہیش شرما پہلے ہی اس پر تفصیلی بیان دے چکے ہیں۔ حکومت پر اپوزیشن کی تنقید کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے روی شنکر پرساد نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ اس سلسلہ میں بہت کچھ کہہ چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT