Friday , September 22 2017
Home / مضامین / ایمسیٹ پیپر افشا اسکام، تلنگانہ کی رسوائی

ایمسیٹ پیپر افشا اسکام، تلنگانہ کی رسوائی

سیاسی انحراف، اپوزیشن کو سپریم کورٹ سے توقعات

محمد نعیم وجاہت
اسکامس ہندوستان میں عام بات ہے۔ تاہم تلنگانہ ایمسٹ II کے پیپرس افشاء ہونے کے اسکامس نے طلبہ برادری اور ان کے ارکان خاندان کو مایوس کردیا ہے۔ عوام میں پائے جانے والے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس کی سی آئی ڈی کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے طلبہ و ان کے سرپرستوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی محکمہ جاتی تحقیقات کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔ ہندوستان بھر میں جنوبی ہند کی ریاستیں تعلیمی اعتبار سے اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ پیشہ ورانہ کورسیس کے مسابقتی امتحانات میں ملک بھر میں تلگو ریاستوں کے طلبہ کا مظاہرہ شاندار ہوتا ہے۔ ہر امتحان میں ایک تا 10 رینکس میں تلگو ریاستوں کے طلبہ کا شمار ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے تمام تر احتیاطی اقدامات کے باوجود اسکامس منظر عام پر آتے ہیں۔ ماضی میں موبائیل بلو ٹوتھ اسکام نے سنسنی پھیلادی تھی۔ اس مرتبہ تلنگانہ ایمسٹ II میڈیکل امتحان کے پرچہ افشاء ہونے کی اطلاعات سے طلبہ برادری میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ تلنگانہ کے ایک علاقہ کے طلبہ نے پڑوسی ریاست آندھراپردیش کے وجئے واڑہ میں ایک کوچنگ سنٹر پر کوچنگ لی اور تلنگانہ ایمسٹ II امتحان سے ایک ہفتہ 10 دن قبل کوچنگ سے غائب ہوگئے اور تلنگانہ ایمسٹ II کا امتحان حیدرآباد میں تحریر کیا اور انھیں اندرون 1000 رینکس حاصل ہوئے جس سے ان کے ساتھ کوچنگ حاصل کرنے والے طلبہ میں تشویش پھیل گئی کیوں کہ جو طلبہ کوچنگ سنٹرس کے امتحانات میں قابل لحاظ مظاہرہ نہیں کرتے تھے انھیں اندرون ایک ہزار رینکس کیسے حاصل ہوسکتے ہیں اور انھیں طلبہ نے ایمسٹ I تلنگانہ ایمسٹ I آندھراپردیش میں حصہ لیا تھا تو انھیں 15 تا 20 ہزار کے درمیان رینکس حاصل ہوئے اور مختصر عرصہ کی کوچنگ میں ان کے رینکس ہزاروں سے گھٹ کر سوؤں کیسے ہوگئے، اس پر فکرمند تھے۔ ان سے بہتر مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے اپنے والدین اور سرپرستوں کے سامنے شکوک کا اظہار کیا۔ طلبہ اور سرپرستوں کی شکایات پر یہ مسئلہ اخبارات کے ذریعہ منظر عام پر آیا۔ جس پر حکومت تلنگانہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔ ڈی جی پی تلنگانہ انوراگ شرما نے ایمسٹ II پرچوں کے افشاء کی سی آئی ڈی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر صحت تلنگانہ لکشما ریڈی نے بھی جے این ٹی یو سی اور ہیلت یونیورسٹی کو محکمہ جاتی تحقیقات کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کوچنگ سنٹرس کے انتظامیہ اور اعلیٰ عہدیداروں کی ملی بھگت سے یہ اسکام ہوا ہے اور ایک ایک طالب علم سے پرچوں کے افشاء کے لئے 30 تا 40 لاکھ روپئے وصول کئے گئے۔ درمیانی افراد نے کوچنگ انتظامیہ اور طلبہ کے سرپرستوں کے درمیان رابطہ پیدا کرنے میں انتہائی اہم رول ادا کیا۔

واضح رہے کہ میڈیکل کالجس اور نشستوں کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے داخلوں میں مسابقت پائی جاتی ہے اور خانگی میڈیکل کالجس کے انتظامیہ مینجمنٹ کوٹہ کی نشست 80 لاکھ تا ایک کروڑ روپئے میں فروخت کررہے ہیں جس کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی مافیا نے ایک منظم سازش کے تحت تلنگانہ ایمسٹ II کے پرچوں کا افشاء کیا ہے۔ چند مفاد پرست عناصر کی مجرمانہ حرکت سے نہ صرف تلنگانہ کا تعلیمی نظام متاثر ہوا ہے۔ محنت اور دلچسپی سے دن رات پڑھتے ہوئے اپنے مستقبل کو روشن بنانے کی کوشش کرنے والے طلبہ کے عزائم پر پانی پھر گیا ہے۔ اس اسکام کے منظر عام پر آنے کے بعد ایمسٹ II امتحان تحریر کرنے والے لاکھوں طلبہ ان کے والدین اور سرپرستوں میں تجسس پایا جاتا ہے کہ پرچوں کے افشاء کے بعد حکومت دوبارہ تلنگانہ ایمسٹ III امتحان منعقد کرے گی یا پرچے افشاء ہونے والے سنٹرس کی نشاندہی کرتے ہوئے انھیں سنٹرس کے طلبہ کے لئے علیحدہ امتحان کا انعقاد کرے گی۔ اس اسکامس کے دونوں تلگو ریاستیں تلنگانہ اور آندھراپردیش سے تار جڑے ہوئے ہیں۔ طلبہ اور ان کے سرپرست سی آئی ڈی تحقیقات کے اعلان سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس اسکام کے پیچھے بڑے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ وہ راست طور پر منظر عام پر نہیں آئے تاہم درمیانی افراد کے ذریعہ طلبہ اور سرپرستوں سے ربط کیا۔ انھیں دوسری ریاستوں کے شہروں کو طلب کرتے ہوئے معاملت طے کی اور جن طلبہ سے بھاری رقم وصول کی گئی اُنھیں کسی ایسے مقام پر ایک ہفتہ تک خصوصی تربیت دی گئی جس کی وجہ سے انھیں اعلیٰ نشانات حاصل ہوئے ہیں۔ تلنگانہ ایمسٹ II اسکام منظر عام پر آنے کے بعد اتوار یعنی آج منعقد ہونے والے نیٹ کے امتحان کے لئے طرح طرح کی باتیں ہورہی ہیں۔ اس امتحان کے سودے بازی ہوجانے کی افواہیں گشت کررہی ہیں جس سے طلبہ اور ان کے سرپرستوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ حکومت طلبہ اور ان کے والدین کو اعتماد میں لے۔ تلنگانہ ایمسیٹ II میں جو غلطیاں ہوئی ہیں اس کا ازالہ کرتے ہوئے محنتی طلبہ کے ساتھ انصاف کرے۔

اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش میں کانگریس حکومتوں کی بحالی کے بعد ریاست تلنگانہ میں کانگریس کے علاوہ دوسری اپوزیشن جماعتوں میں خوشی کی لہر دیکھی  جارہی ہے۔ واضح رہے کہ متذکرہ دونوں ریاستوں میں حکمراں جماعت کانگریس ارکان اسمبلی کی بغاوت کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے عوامی منتخب حکومتوں کو برخاست کرتے ہوئے صدر راج نافذ کردیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے دونوں ریاستوں کے گورنرس کے فیصلوں کو غلط قرار دیتے ہوئے کانگریس حکومتوں کو دوبارہ بحال کردیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ مرکز کی بی جے پی حکومت کے لئے بڑا جھٹکا ثابت ہوا۔ کیونکہ بی جے پی نے ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا نہ صرف نعرہ دیا بلکہ اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش میں کانگریس کی عوامی منتخب حکومتوں کو غیر جمہوری انداز میں برخاست بھی کیا تھا جس پر پارلیمنٹ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر جہاں کانگریس کے حلقوں میں جشن دیکھا گیا وہیں بی جے پی کیمپ میں مایوسی دیکھی گئی اور بی جے پی اس مسئلہ سے پیچھا چھڑانے میں مصروف رہی۔ ان دو ریاستوں میں کانگریس حکومتوں کی بحالی کا ریاست تلنگانہ میں کانگریس نے بھی خیرمقدم کیا۔ جبکہ دوسری اپوزیشن جماعتوں نے خاموشی کو ترجیح دی۔ کانگریس کے خیرمقدم کی بھی وجہ ہے۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد پہلی حکومت تشکیل دینے والی ٹی آر ایس نے اقتدار کے 25 ماہ کے دوران کانگریس ،تلگودیشم، وائی ایس آر کانگریس، بی ایس پی اور سی پی آئی کے 47 ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ کو انحراف کے ذریعہ اپنی پارٹی میں شامل کیا۔ سوائے بی ایس پی کے تمام جماعتوں نے سیاسی انحراف کرنے والے اپنی جماعتوں کے ارکان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کی اسپیکر اسمبلی اور صدرنشین کونسل کو یادداشت پیش کی۔ انحراف قانون میں لچک ہونے سے کارروائی کے لئے کوئی وقت یا مدت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے اسپیکر اسمبلی اور صدرنشین کونسل نے اپوزیشن جماعتوں کی شکایت پر قطعی کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں کی پیش کردہ یادداشتوں کو خارج کیا ہے۔ اسپیکر اور صدرنشین کونسل سے جلد کارروائی نہ ہونے پر کانگریس اور دوسری جماعتیں ہائیکورٹ سے رجوع ہوئیں۔تاہم ہائیکورٹ نے اسپیکر اسمبلی کے دائرہ کار میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا جس پر ان جماعتوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ میں ارکان اسمبلی کے انحراف کے خلاف فیصلہ دیا ہے جس سے تلنگانہ کانگریس قائدین اپنے حق میں فیصلہ آنے کی توقع کررہے ہیں۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش میں بڑے پیمانے پر سیاسی انحراف ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے دونوں ریاستوں کے انحراف کے مسئلہ کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ انھیں اُمید ہے کہ سپریم کورٹ انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی و ارکان قانون ساز کونسل کے خلاف کارروائی کرنے کا جائزہ لینے کے لئے اسپیکر اور صدرنشین کو مہلت دیتے ہوئے فیصلہ کیلئے مدت کا تعین کرے گی اور اس مدت کے دوران اسپیکر اور صدرنشین کو فیصلہ کرنا لازمی ہوجائے گا۔

سیاسی انحراف کے قانون میں ایک لچک ہے۔ 1/3 ارکان اگر سیاسی انحراف کرتے ہوئے تو اس کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ ایسے ارکان کی رکنیت محفوظ رہے گی۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر انھیں کوئی نقصان نہیں ہوگا جہاں تک تلگودیشم کا معاملہ ہے تلنگانہ میں تلگودیشم کے 15 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے جن میں 12 ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں۔ تلگودیشم کے ایک لوک سبھا رکن نے بھی ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 3 ارکان اسمبلی اور ایک رکن پارلیمنٹ تمام ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں۔ بی ایس پی کے 2 ارکان اسمبلی تھے وہ بھی ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے۔ سی پی آئی کا ایک واحد رکن اسمبلی منتخب ہوا تھا۔ وہ بھی ٹی آر ایس میں شامل ہوگیا۔ لہذا کانگریس کے سوا دوسری جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو یقین ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی اور اس معاملہ میں حکمراں ٹی آر ایس بھی پوری طرح مطمئن ہے۔ کانگریس کے 21 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے جن میں 7 ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ہیں۔ 2 ارکان اسمبلی کا انتقال ہوگیا۔ ضمنی انتخابات میں 2 حلقوں پر بھی ٹی آر ایس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ٹی آر ایس کا ماننا ہے کہ کانگریس کے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی بھی محفوظ ہیں۔ تاہم کانگریس کا استدلال ہے کہ تمام ارکان اسمبلی ایک ساتھ ٹی آر ایس میں شامل نہیں ہوئے بلکہ کبھی ایک تو کبھی 2 اس طرح ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں اور انھیں سپریم کورٹ سے انصاف ملنے کی اُمید ہے۔

TOPPOPULARRECENT