Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ایمسیٹ III کے اعلان پر ملا جلا ردعمل کوچنگ سنٹرس میں جشن ، رینکرس غم سے نڈھال

ایمسیٹ III کے اعلان پر ملا جلا ردعمل کوچنگ سنٹرس میں جشن ، رینکرس غم سے نڈھال

حیدرآباد ۔ 3 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ میں میڈیکل کورسیس میں داخلوں کے ٹسٹ ایمسیٹ III کے انعقاد کے حکومت کے فیصلہ پر کہیں خوشی کہیں غم کی کیفیت ہے ۔ جن طلبہ کو ایمسیٹ II میں رینک نہیں مل سکا وہ ایمسیٹ III کے لیے اپنے آپ کو تیار کررہے ہیں ۔ انہیں قسمت آزمانے کا ایک اور موقع ہاتھ آیا ہے ۔ کوچنگ سنٹرس میں تو ایمسیٹ III کی اطلاع سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ انہیں کوچنگ کے ذریعہ کمائی کا پھر موقع مل گیا ہے ۔ دوسری طرف رینکرس اور ان کے والدین ایمسیٹ II کی منسوخی پر رو رہے ہیں ۔ میڈیکل اکیڈیمیاں اور کوچنگ انسٹی ٹیوٹس نے ایمسیٹ II کی منسوخی کے ساتھ ہی امیدواروں کو فون کالس شروع کردئیے اور 33 ہزار روپئے فیس پر میڈیکل انٹرنس کے لیے ایک ماہ کی کوچنگ کا آفر دے رہے ہیں ۔ ایمسیٹ III کالجس اور کوچنگ سنٹرس کے لیے بزنس بن گیا ہے ۔ جب کہ امیدواروں کے سرپرستوں کی جیب پر کوچنگ فیس زائد بوجھ بن گئی ہے ۔ پہلے ہی والدین ایمسیٹ کے لیے بچوں کی تعلیمی تیاری پر دو تا 4 لاکھ روپئے خرچ کرچکے ہیں ۔ ہر طالب علم پر انٹر میڈیٹ کے سال اول کے لیے ایک لاکھ روپئے اور سال دوم کے لیے ایک لاکھ روپئے خرچ کئے جاچکے ہیں ۔ دس ماہ طویل مدتی ٹریننگ پر مزید دو لاکھ روپئے خرچ کئے گئے ۔ تلنگانہ حکومت کی طرف سے شروع میں ایمسیٹ 2 مئی سے ملتوی کرتے ہوئے 15 مئی کو منعقد کرنے کی وجہ سے کوچنگ کلاسیس کو بھی مزید فیس وصول کرتے ہوئے وسعت دی گئی ۔ اس دوران مرکز نے NEET کا لزوم عائد کیا ۔ اس امتحان کے لیے کوچنگ پر بھی والدین کو مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا ۔ NEET امتحان کی تیاری کی کوچنگ کے لیے فی کس تیس ہزار روپئے وصول کیے گئے ۔ پھر مرکز نے اچانک اس سال NEET امتحان سے استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ۔ جو امیدوار کوچنگ کے لیے اڈوانس رقم ادا کیے تھے کوچنگ سنٹرس اس کی واپسی سے انکار کرنے کی شکایات عام ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT