Friday , July 28 2017
Home / اداریہ / ایمنسٹی اِنٹرنیشنل کی تشویش

ایمنسٹی اِنٹرنیشنل کی تشویش

ہندوستانی عوام کو نفرت اور اشتعال انگیزی کے ذریعہ منقسم کرنے کی کوششوں کی عالمی اداروں نے بھی شدید مذمت کی ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ کے چیف منسٹر اتر پردیش بن جانے پر تشویش کا اظہار کیا، اور ان کے ماضی کے ریکارڈ کو افسوسناک قرارد یا ہے۔ ایک ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے آدتیہ ناتھ کا رول اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ دستور ہند کے اُصولوں کے مطابق حلف لینے کے بعد ان کا فریضہ بن جاتا ہے کہ وہ اس ملک کے عوام کی خدمت بھی خالص دستوری اقدار کو ملحوظ رکھ کر کی جائے۔ آدتیہ ناتھ کا بحیثیت چیف منسٹر تقرر سیکولرعوام کیلئے حیران کن تھا اور ان کے ماضی کے ریکارڈ کو دیکھ کر ہی سیکولرسیاستدانوں سے لیکر عالمی اداروں نے تک مستقبل کی فکر اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی میڈیا نے بھی آدتیہ ناتھ کے تقرر پر تبصرے کئے ہیں۔ برطانیہ کے اخبار ’ گارجین ‘ نے بھی آدتیہ ناتھ کے تقرر کو مسلم مخالف عصبیت کی کامیابی قرار دیا ہے۔ ہندوستان میں بڑھتی عدم رواداری اور اعتدال پسند عوام کیلئے تشویشناک صورتحال کے درمیان اگر مرکز سے لے کر ریاستوں تک زعفرانی ٹولوں کی طاقت میں اضافہ وقت کا ایک اہم سانحہ بنتا جارہا ہے تو پھر آنے والے دنوں میں خود ایسی طاقتوں کو سہارا دینے والے عوام اپنے لئے ہر روز ایک نئی مصیبت کھڑی کریں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یو پی کیلئے آدتیہ ناتھ کو منتخب کرکے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل پر عمل کیا ہے۔ ایودھیا کا مسئلہ، گاؤ کشی اور مسلمانوں کے خلاف پالیسیوں کو روبہ عمل لانے کیلئے وزیر اعظم مودی کو ایک مضبوط حامی لیڈر کی ضرورت تھی، آدتیہ ناتھ کے تقرر سے یہ واضح ہونا چاہیئے کہ وزیر اعظم مودی نے یو پی کے لئے اپنا ایجنڈہ تیار کرلیا ہے۔ آدتیہ ناتھ جن کے والد ایک روحانی پیشوا مہنت ویدیا ناتھ تھے جنہوں نے ایودھیا تحریک کے نظریات کو آگے بڑھایا تھا، جس کے بعد ہی بابری مسجد کی شہادت کا المیہ واقع ہوا تھا۔ یو پی کے چیف منسٹر کے دادا بھی روحانی پیشوا تھے ڈگ وجئے ناتھ کو مہاتما گاندھی کے قتل کے لئے اشتعال انگیزی برپا کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اب اس دادا کے پوترے یوگی آدتیہ ناتھ کو یو پی کی وزارت اعلیٰ حوالے کی گئی ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ ایک صدی سے چلی آرہی ہندوتوا تحریک کو بام عروج پر پہونچانا ہے۔ اس ہندوتوا نظریہ کی حامل طاقتوں نے ایک سیاسی پلیٹ فارم حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس نے خود کو جمہوریت کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرکے نئی دہلی اور لکھنؤ میں اقتدار تک رسائی حاصل کرلی۔ لکھنؤ اس ملک کی سب سے بڑی آبادی والی ریاست کا دارالحکومت ہے، یہاں جس شخص کو اقتدار مل جائے وہ اپنی طاقت کے بل پر مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور تقدیروں کو لکھنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔ 18سال قبل 10فبروری 1999 کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم پی کی حیثیت سے یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کے مسلح حامیوں نے اتر پردیش کے ضلع مہاراج گنج میں واقع منچ رکھیا موضع میں مسلم اکثریتی علاقہ کے ایک قبرستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن سماج وادی پارٹی کے ورکرس نے اس کوشش کو ناکام بنایاگیا تھا۔ اب یہی لیڈر چیف منسٹر بن چکا ہے تو اس کی قیادت میں یو پی کی صورتحال کے تعلق سے عالمی اور قومی سطح پر اعتدال پسند گروپس کی جو رائے ہے وہ غور طلب ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنی جانب سے تو آدتیہ ناتھ کو اشتعال انگیزی ترک کرنے کا مشورہ دیا ہے مگر جس ایم پی کے خلاف اب تک مخالف مسلم فسادات کروانے کی پاداش میں ایف آئی آر درج ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک گروپ ہندو یووا وانی بھی قائم کیا تھا، اب ایک بڑی طاقت حاصل کرنے کے بعد فرقہ پرستانہ ماحول کو برپا کرنے میں انہیں کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ مگر سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ آیا ایک دستوری عہدہ کی حامل شخصیت کو کھلی چھوٹ دی جائے گی۔ اس ملک کے قانون، دستور، اصول اور جمہوری اقدار کو پامال کرنے کا انھیں اختیار دے گا۔ ان کے تقرر کے ساتھ ہی قومی اور عالمی سطح پر میڈیا و انسانی حقوق کے اداروں نے اپنی آنکھیں کھول دی ہیں تو اب ان اداروں کا کام ہے کہ وہ اپنی کھلی آنکھوں سے آدتیہ ناتھ کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھ کر انھیں اعتدال پسند اور انصاف پسند رہنے کا درس دیں تاکہ وہ بے لگام نہ ہوسکیں۔ اگر انھیں بے لگام کردیا گیا تو پھر ان کا ماضی انہیں اب وہ سب کچھ اختیار کرلینے کیلئے اُکسائے گا جس کے بعد ریاست یو پی اور اس ملک کی سماجی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔ سیاسی درجہ بندی کے اس دور میں آدتیہ ناتھ کج سیاسی اختیارات کا حامل ہونا ہندوستانی سیاست کو عدم سلامتی سے دوچارکردے سکتا ہے اور یہ ایک سیاسی سانحہ کہلائے گا۔

TOPPOPULARRECENT