Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ایم آئی ایم کارکنوں کی گواہی کو ’ خدائی سچ ‘ نہیں سمجھا جاسکتا

ایم آئی ایم کارکنوں کی گواہی کو ’ خدائی سچ ‘ نہیں سمجھا جاسکتا

چندرائن گٹہ حملہ کیس

فیصلے میں جج کا ریمارک ۔ استغاثہ سازش کے پہلو کو ثابت کرنے میں یکسر ناکام
حیدرآباد /30 جون ( سیاست نیوز ) چندرائن گٹہ حملہ کیس میں محمد پہلوان اور دیگر 9 کی براء ت یہ ثابت کرتی ہے کہ استغاثہ کی جانب سے اس کیس میں ماخوز ملزمین کو سزا دلانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن عدالت کی جانب سے تحقیقات میں کئی خامیاں ہونے کے نتیجہ میں جرم ثابت کرنے میں ناکام ہوئے ۔ 30 اپریل سال 2011 کو بارکس علاقہ میں رکن اسمبلی چندرائن گٹہ اکبر اویسی پر مبینہ حملے کے الزام میں پولیس چندرائن گٹہ نے 14 ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کے کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے اس کیس کی تحقیقات کو سنٹرل کرائم اسٹیشن ( سی سی ایس ) پولیس کے حوالے کردیا گیا ۔ حالانکہ اس کیس میں دو اہم دفعات 307 ( اقدام قتل ) اور 120B ( مجرمانہ سازش ) تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ لیکن کیس کی تحقیقات کو سی سی ایس کے حوالے کرتے ہوئے اے سی پی رتبہ کے عہدیدار کو تحقیقاتی عہدیدار مقرر کیاگیا تھا ۔ اتنا ہی نہیں حکومت نے سرکاری وکیل ہونے کے باوجود شہر کے ایک سینئیر ایڈوکیٹ ای اوما مہیشور راؤ کو سرکاری خرچ پر اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا تھا ۔ اکثر اقدام قتل نوعیت کے مقدمہ کی تحقیقات سب انسپکٹر یا انسپکٹر رتبہ کا عہدیدار کرتا ہے لیکن اس حملے کیس میں خاص طور پر اے سی پی رتبہ عہدیدار کو مقرر کیا گیا تھا اور کیس کی تحقیقات کو اس وقت کے اعلی پولیس عہدیداروں نے اپنی راست نگرانی میںجاری رکھتے ہوئے ایک کیس تیار کروایا تھا ۔ سماعت کے مکمل ہونے کے بعد جج نے اپنے فیصلے میں استغاثہ کی خامیوں کی نشاندہی کی جس کے تحت مجرمانہ سازش کے پہلو کو بچکانہ اور جھوٹا قرار دیا ۔ جج نے اپنے فیصلے میں یہ بتایا کہ اس کیس کے زیادہ تر گواہ ایم آئی ایم پارٹی سے ہیں اور ان کی گواہی کو ’ خدائی سچ ‘ نہیں سمجھا جاسکتا ۔ تحقیقات کے دوران ضبط کی گئی شئے کی بنیاد پر ملزمین کے خلاف سازش ثابت کی نہیں جاسکتی ۔ فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر ملزمین کو سازش کے تحت سزا سنائی جاتی ہے تو انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ۔ چنانچہ کمزور شواہد کی بنیاد پر ملزمین کے خلاف سازش ثابت نہیں کی جاسکتی اور اس کیس میں زبانی اور دستاویزی شواہد پر یقین نہیں کیا جاسکتا جس کے نتیجہ میں محمد پہلوان سے لیکر دیگر 14 ملزمین کے خلاف سازش ثابت نہیں ہوتی ۔

TOPPOPULARRECENT