Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / ایم ڈی جنرل میڈیسن میں داخلے کیلئے ضرورت مند طالب علم کو 5.80 لاکھ روپئے کی امداد

ایم ڈی جنرل میڈیسن میں داخلے کیلئے ضرورت مند طالب علم کو 5.80 لاکھ روپئے کی امداد

حیدرآباد۔ 14 مارچ (نمائندہ خصوصی) زندگی کے مختلف شعبوں میں مسلمانوں کی ترقی کیلئے ’’تعلیم‘‘ بہت ضروری ہے۔ اگر مسلم والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کریں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں ترقی کی منزل طئے کرنے سے نہیں روک سکتی۔ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ نونہالان ملت میں ذہانت و صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، انہیں صرف صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں میں ایسے کئی خاندان ہیں جو حصول علم کو اولین اہمیت دیتے ہیں، ساتھ ہی دین کو بھی مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں، ایسے ہی خاندانوں میں کڑپہ کے متوطن شیخ نذیر احمد کا خاندان بھی شامل ہے۔ کڑپہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے شیخ نذیر الدین کے چار بیٹے ہیں جو تمام کے تمام تعلیم یافتہ ہیں اور دعوت دین کی سرگرمیوں میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ ان کے بڑے بیٹے مفتی ہیں اور بورا بنڈہ کے ایک مدرسہ میں پڑھاتے ہیں۔ دوسرا بیٹا ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے۔ تیسرے بیٹے نے بی ٹیک اور ایم ٹیک کیا ہے اور فی الوقت ملازمت کی تلاش میں ہے، سب سے چھوٹے بیٹے نے آٹو کیاڈ میں ڈپلوما کیا ہے اور اس خاندان کا وہ ذریعہ آمدنی بنا ہوا ہے۔ قارئین! اصل کہانی شیخ نذیر احمد کے دوسرے بیٹے شیخ عبدالصمد کی ہے جنہوں نے بھاسکر میڈیکل کالج رنگاریڈی سے ایم بی بی ایس کیا اور منی پال یونیورسٹی کے داخلہ ٹسٹ برائے ایم ڈی میں سارے ہندوستان میں 34 واں مقام حاصل کیا۔ منی پال یونیورسٹی کا شمار نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کی باوقار یونیورسٹیز میں ہوتا ہے۔ انہیں ایم ڈی جنرل میڈیسن میں داخلہ کیلئے 13.82 لاکھ روپئے درکار تھے، اگرچہ شیخ عبدالصمد نے دوست احباب سے کچھ قرض حاصل کیا اور گھر میں موجود زیورات فروخت کرکے 8 لاکھ روپئے جمع کرلئے، اس کے باوجود انہیں 5.80 لاکھ روپئے کی ضرورت تھی، ایسے میں اس قدر کثیر رقم کا انتظام بہت مشکل ہوجاتا ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں ملت کا درد رکھنے والی شخصیتوں کی کمی نہیں، ان میں ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور سیکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین اور ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ جناب رضوان حیدر بھی شامل ہیں۔ الحمدللہ ! ہمدردانہ ملت کی فہرست میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ان میں ممتاز ماہر امراض چشم ڈاکٹر ہدایت اللہ اور جناب عبدالکبیر قابل ذکر ہیں۔ ان پانچ شخصیتوں نے اپنی طرف سے جملہ 5.80 لاکھ روپئے ڈاکٹر شیخ عبدالصمد کے حوالے کئے۔ اس طرح ایم ڈی کرنے کے خواہاں اس نوجوان کی سال اول کی فیس جمع ہوگئی۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے 1.75 لاکھ روپئے، سیکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے ایک لاکھ روپئے، ان کے داماد اور فیض عام ٹرسٹ کے ٹرسٹی جناب رضوان حیدر نے 75 ہزار روپئے ، ڈاکٹر ہدایت اللہ خاں نے ایک لاکھ اور جناب عبدالکبیر نے 1.3 لاکھ روپئے اس نوجوان کو پیش کئے اور اُمید ظاہر کی کہ مستقبل میں یہ نوجوان دوسرے ضرورت مند نونہالانِ ملت کی مدد کرے گا۔ راقم الحروف سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالصمد نے بتایا کہ ان کا تعلق کڑپہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں اگڑی سے ہے اور انہوں نے کے جی سے لے کر ایم بی بی ایس تک امتیازی کامیابیاں حاصل کی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کسی بڑے اسکول کے طالب علم نہیں ہے بلکہ الفا اسکول کڑپہ سے ایس ایس سی امتیازی نشانات سے کامیاب کئے۔ انٹرمیڈیٹ انہوں نے کڑپہ کے ہی کرشنا ریڈی چنتپا سے کیا اور امتیازی کامیابی حاصل کی۔ ایمسیٹ میں بہترین رینک لانے پر ضلع رنگاریڈی کے بھاسکر میڈیکل کالج میں انہیں فری سیٹ مل گئی اور پھر ڈاکٹر بننے سے متعلق ان کا خواب 2013ء میں شرمندۂ تعبیر ہوا۔ شیخ عبدالصمد کے مطابق اگرچہ انہیں بینکوں سے اعلیٰ تعلیم کیلئے سودی قرض حاصل ہوسکتا تھا، لیکن انہوں نے ایسا قرض لینے سے صاف انکار کردیا۔ واضح رہے کہ شیخ نذیر احمد اور ان کے چاروں فرزندان دعوت دین کا مقدس فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ اس باریش نوجوان کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ وہ ڈاکٹر ہیں بلکہ وہ تو ہمیں پہلی ملاقات میں کسی دینی مدرسہ کے معلم نظر آئے۔ ڈاکٹر عبدالصمد نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں، جناب افتخار حسین کا بطورِ خاص شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ہمدردان ملت نے انہیں تعلیمی امداد فراہم کرتے ہوئے جہاں سودی قرض سے بچایا، وہیں ملت کے دوسرے ہونہار طلبہ کو پیام بھی دیا ہے کہ وہ غربت سے مایوس نہ ہوں بلکہ تعلیمی میدان میں اپنے قدم آگے بڑھاتے جائیں۔ ملت کے نوجوان کے نام پیام میں اس نوجوان نے کہا کہ ’’نماز کی پابندی، والدین کی فرماں برداری، بزرگوں کا احترام، چھوٹوں سے پیار، پڑوسیوں سے حسن سلوک، محنت اور جدوجہد انسان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں‘‘۔ واضح رہے کہ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ ملت میں تعلیم عام کرنے، غربت مٹانے اور مصیبت زدوں کی مدد میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ان دونوں اداروں کی شراکت داری میں حیدرآباد سے لے کر اُترپردیش اور دہلی سے لے کر کشمیر تک فلاحی خدمات انجام دیئے جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT