Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / اینمی پراپرٹی آرڈیننس کے ازسر نو نفاذ کی شدید مخالفت

اینمی پراپرٹی آرڈیننس کے ازسر نو نفاذ کی شدید مخالفت

سکیولر تانے بانے پر ضرب اور اقلیتوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ، کانگریس ایم پی حسین دلوائی کا تاثر
ممبئی،  24 اگست (سیاست ڈاٹ کام)اینمی پراپرٹی(ترمیمی اورتوثیق )آرڈنینس2016کو دوبار نافذ نے کرنے کے لیے کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور سنیئر سیاستداں حسین دلوائی نے صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی اور وزیراعظم نریندرمودی سے اپیل کی ہے کہ اس قانون کونافذ کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے ہزاروں شہری متاثر ہوں گے ۔واضح رہے کہ مودی حکومت نے تین مرتبہ اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے ۔ حسین دلوائی نے مودی کو روانہ کیے جانے والے مکتوب میں اس آرڈننس کے نفاذکے بعد پیدا شدہ مسائل کو اجاگر کیا ہے اور مزید کہا کہ ہزاروں شہری اس کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہوں گے اوریہ ان کے حقوق کے خلاف ہے ،بلکہ ہمارے دستورہندکے اصولوں اور ضوابط کے منافی ہے ۔ حسین دلوائی کے مطابق انہوں نے اس تعلق سے ماہرین سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے اس آرڈننس پرتشویش کا اظہار کیا ہے ،بلکہ مذکورہ قانون کو ملک کے سیکولر تانے بانے کے لیے نقصان دہ قراردیا ہے ۔اس سے سب سے زیادہ ملک کی اقلیتوں کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے وزیراعظم مودی سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں

اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اینمی پراپرٹی یعنی دشمن کی املاک کے سلسلے میں اس آرڈننس کو دوبارہ نفاذ نہ ہو۔بلکہ مرکزی اس تعلق سے وابستہ تمام ماہرین اور نامور افراد کا اجلاس طلب کرے اور ان سے تبادلہ خیال کیا جائے تاکہ اس معاملہ میں ایک جامع اور ٹھوس بل تیار کیا جائے ،جس پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث ہواور تبادلہ خیال کیا جاسکے ۔چوتھی مرتبہ اس تعلق سے آرڈننس پیش کرنا ،ملک میں ایک غلط مثال بن جائے گی اور ایک خطرناک طریقہ کو اپنانا ٹھیک نہیں ہوگا۔ممبران پارلیمان پرمشتمل ایک سیلیکٹ کمیٹی پہلے ہی اس معاملے میں تشویش کا اظہار کرچکی ہے ۔بلکہ اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے شہریوں کے متعدد حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ آرڈننس غیر دستوری اورسخت مسائل پیدا کرے گااور سیلیکٹ کمیٹی نے اس کے بارے میں کئی نکات پیش کیے ہیں۔ دراصل ملک کی تقسیم کے بعد جوشہری پڑوسی ملک چلے گئے اوران کی جائیدادوں کو لیکر مسائل پیدا ہوگئے

جس کے بعد 1950اور پھر 1960 کی دہائی میں مرکزی حکومت نے اینمی پراپرٹی قانون منظورکیا ،جس کے اترپردیش میں ایک معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد حکومت نے اینمی پراپرٹی آرڈننس تین مرتبہ پیش کیا اور چوتھی مرتبہ اسے پیش کرنے کی تیاری تھی ،لیکن مارچ میں حسین دلوائی سمیت متعدد ممبران پارلیمنٹ کمی درخواست پر اسے سلیکیٹ کمیٹی کے روبروجائزے کے لیے پیش کردیا گیا،کمیٹی نے کئی نکات پیش کیے اور سفارشات بھی کی ہیں۔ وزیراعظم مودی کو روانہ کیے جانے والے مکتوب پر دودرجن سے زائدممبران پارلیمنٹ نے دستخط کیے ہیں۔ان کے ساتھ دیگر شخصیات اور معززین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔مولانا کلب صادق،مولانا کلب جواد،مولانا مرما یعقوب عباس،مولانا سیدحمیداللہ حسن،مولانا علی ناصرسعیدعباقتی آغا روحی،ایڈوکیٹ شکیل قاضی ،رفیق ڈیسائی،اشرف احمدشیخ،یونس صدیقی،مولانامحمد علی تقوی،مولانا شیخ محمد عسکری،ذوالفقار احمد،جمشید زیدی اور اعجازعرفی قاسمی اور خود حسین دلوائی شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT