Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / این آئی ٹی سرینگر میں بیرونی طلبہ احتجاج سے کشیدگی

این آئی ٹی سرینگر میں بیرونی طلبہ احتجاج سے کشیدگی

احاطہ میں مندر کی تعمیر اور باب الداخلہ پر قومی پرچم لہرانے کی تجویز ، اپوزیشن کانگریس کی سخت تنقید
سرینگر ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سرینگر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (این آئی ٹی) کیمپس میں آج زبردست کشیدگی پھیل گئی جب احتجاجی طلبہ نے دورہ کنندہ مرکزی ٹیم کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا اور این آئی ٹی کے ان چند عہدیداروں کے خلاف فی الفور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جو مبینہ طور پر ’’قوم دشمن‘‘ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کی تین رکنی ٹیم آج صبح یہاں پہنچی اور کشیدگی کے خاتمہ کیلئے احتجاجی طلبہ سے بات چیت کی۔ اس ٹیم میں ڈائرکٹر (فنی تعلیم) وزارت فروغ انسانی وسائل، ڈپٹی ڈائرکٹر فینانس فضل محمود اور این آئی ٹی بورڈ آف گورنر کے چیرمین ایم جے زارابی شامل ہیں۔ وزارت فروغ انسانی وسائل نے این آئی ٹی سرینگر کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینے اور احتجاجی طلبہ کی شکایات کی سماعت کیلئے یہ ٹیم روانہ کی تھی۔ بعض احتجاجی طلبہ نے الزام عائد کیا ہیکہ این آئی ٹی سرینگر کے چند عہدیدار مبینہ طور پر قوم دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے ان افسران کے تبادلے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کیمپس کے باب الداخلہ پر روزانہ قومی پرچم لہرانے کی اجازت دی جائے۔ احتجاجی طلبہ نے اس کیمپس کو سرینگر سے جموں منتقل کرنے اور کیمپس کے احاطہ میں مندر تعمیر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

گذشتہ دنوں دیگر مقامات کے طلبہ نے کیمپس میں جلوس منظم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس ہونا چاہتے ہیں۔ جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب اپوزیشن کانگریس نے آج این آئی ٹی سرینگر کے طلبہ پر پولیس کے بے رحمانہ لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تعین وقت کے ساتھ صورتحال سے نمٹنے میں کوتاہیوں کو اجاگر کرنے کیلئے تحقیقات کروائی جائیں۔ پارٹی کے ریاستی سینئر نائب صدرشیام لال شرما نے پریس کانفرنس سے کہا کہ ہم این آئی ٹی سرینگر کے طلبہ پر بے رحمانہ لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرتے ہیں جس میں کئی طلبہ شدید زخمی ہوگئے ہیں اور اس واقعہ کی جامع تحقیقات کروانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ قبل ازیں انہوں نے سینئر کانگریس کارکنوں کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی تھی جو صورتحال کا جائزہ لینے اور ریاستی حکومت کی مکمل ناکامی پر تنقید کرنے کیلئے منعقد کیا گیا تھا۔

خاص طور پر پرامن طلبہ پر غیرمتناسب طاقت کے استعمال اور بے رحمانہ لاٹھی چارج کی اس اجلاس میں مذمت کی گئی۔ سینئر نائب صدر ریاستی کانگریس نے طلبہ کو عدم تحفظ کے احساس اور جاریہ صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اور ان کے والدین نے صورتحال کے غیرضروری طور پر سنگین ہوجانے اور طلبہ کے خلاف ناجائز طاقت کے استعمال پر پارٹی کو شدید تشویش ہے اور ریاستی کانگریس طلبہ اور ان کے والدین کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتی ہیکہ صورتحال کو غیرضروری طور پر سنگین ہونے سے روکنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں اور صورتحال سے نمٹنے میں کوتاہیوں کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کروائی جائے۔ شرما نے کہا کہ بیرون ریاست طلبہ اور ان کے والدین میں شدید عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے طلبہ وطن واپس ہوجانے کے خواہاں ہے۔ بعض طلبہ نے اندیشے ظاہر کئے کہ بچوں کی جانچ اور نمبرات دینے میں علاوہ ازیں نمبرات کا میمورنڈم تیار کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ان کے اندیشوں کا ازالہ کرنے کے مقصد سے مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی نے طلبہ کو تیقن دیا کہ امتحانات کے اختتام اور نتائج کے اعلان تک وزارت کی ایک ٹیم این آئی ٹی کے احاطہ میں تعینات رہے گی۔

TOPPOPULARRECENT