Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / این ڈی اے حکومت میں ملک کے حالات دگر گوں

این ڈی اے حکومت میں ملک کے حالات دگر گوں

بھارت ماتا …نعرہ نہ لگانے والوں کو کالر پکڑ کر پاکستان کیوں نہیں بھیجا جاتا : اودھو ٹھاکرے
ممبئی 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) این ڈی اے حکومت کو آج کلیدی حلیف شیوسینا کی شدید تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا اور پارٹی صدر اودھو ٹھاکرے نے دعویٰ کیاکہ ملک میں حکومت کے خلاف بے حد ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اُنھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے بیرونی دوروں کا بھی مذاق اُڑایا۔ پارٹی ترجمان ’سامنا‘ میں شائع اداریہ میں بھی پاکستانی میڈیا کی اطلاعات کے حوالہ سے بھی حکومت پر تنقید کی گئی۔ پاکستانی میڈیا میں کہا گیا ہے کہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے پتہ چلایا ہے کہ پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ ہندوستان کی کارستانی ہے۔ شیوسینا نے کہاکہ یہ پڑوسی ملک کا سرخ قالین پر استقبال کرنے کا نتیجہ ہے اور اِس بارے میں خبردار کرنے کے باوجود حکومت نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ اودھو ٹھاکرے نے بھارتیہ کامگار سینا کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو نئی حکومت سے جو اُمیدیں وابستہ تھیں اب ہر گوشہ سے اُنھیں خطرات نظر آرہے ہیں۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ عام آدمی کی پریشانیوں کی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں اور وہ ٹیکسیس کے علاوہ افراط زر کی شرح میں مسلسل اضافہ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ملک کے حالات انتہائی دیگر گوں ہیں اور عوام میں ہر طرف مایوسی پائی جاتی ہے۔ فوجی جوان سرحدوں کی حفاظت کے لئے سخت محنت کررہے ہیں اور کسان کھیتوں میں مشقت اُٹھارہے ہیں۔ حکومت کو عوام کی محنت کی کمائی کی کوئی پرواہ نہیں جو وہ بینکوں میں جمع کرتے ہیں۔ وجئے مالیا جیسے لوگ یہ رقم لے کر ملک سے فرار ہوجاتے ہیں۔ عوام جو سخت محنت کرکے اپنی رقم جمع کرتے ہیں اُنھیں ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔

جنھوں نے کافی اُمیدوں کے ساتھ حکومت کو منتخب کیا اب وہی حکومت عوام پر نئے ٹیکسیس عائد کررہی ہے۔ اشیائے مایحتاج پر تک ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ اُنھوں نے جاننا چاہا کہ آخر حکومت کی پالیسی کیا ہے؟ ادھو ٹھاکرے نے کہاکہ پٹرول اور ڈیزل اب کافی مہنگا ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غذائی اجناس بھی مہنگی ہوجائیں گی۔ اِن حالات میں لوگ زندہ کیسے رہیں گے۔ ٹھاکرے نے کہاکہ برطانیہ میں 3 بڑی صنعتوں کے بند ہونے کی اطلاع کے ساتھ ہی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون جو ارکان خاندان کے ساتھ چھٹی منارہے تھے، فوراً واپس آگئے۔ اِن صنعتوں سے تقریباً 40 ہزار مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کیا ہمارے ملک میں کبھی ایسا ہوا ہے؟ ایک طرف وزیراعظم برطانیہ اپنے ملک واپس ہوتے ہیں لیکن ہمارے وزیراعظم ملک چھوڑ کر جاتے ہیں۔ ٹھاکرے نے کہاکہ بھارت ماتا کی جئے نعرے سے انکار پر یہ کہا جاتا ہے کہ اُنھیں ملک میں رہنے کا حق نہیں۔ آخر پھر انتظار کس بات کا ہے۔ ایسے افراد کا کالر پکڑ کر اُنھیں پاکستان اور بنگلہ دیش نکال پھینکا کیوں نہیں جاتا۔

TOPPOPULARRECENT