Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ایوارڈس واپس کرنے والے شعراء ، ادیبوں اور دانشوروں کو سلام

ایوارڈس واپس کرنے والے شعراء ، ادیبوں اور دانشوروں کو سلام

ملک میں مذہبی فرقہ پرستی کی سخت مخالفت ، کانگریس کے مرکزی قائد غلام نبی آزاد کا خطاب
حیدرآباد ۔ 19 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز): قائد اپوزیشن راجیہ سبھا مسٹر غلام نبی آزاد نے کہا کہ مرکزی حکومت سیکولرازم کی محافظ ہوتی ہے تاہم نریندر مودی کے زیر قیادت بی جے پی حکومت ’ باڑ فصیل ‘ کو کھانے کا کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا وہ فرقہ پرستی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اپنے ایوارڈس واپس کرنے والے ادیبوں اور دانشوروں کو تاریخی چارمینار کے دامن میں کھڑے ہو کر ان کے جذبہ کو سلام کرتے ہیں اور کہا کانگریس پارٹی مذہبی فرقہ پرستی کی مخالفت کرتی ہے ۔ راجیو گاندھی سدبھاونا یادگار کمیٹی کی جانب سے چارمینار پر منعقد کی گئی سلور جوبلی تقریب میں آل انڈیا کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری مسٹر ڈگ وجئے سنگھ سے سدبھاونا ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس تقریب کی صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ر یڈی نے صدارت کی ۔ اس موقع پر سابق مرکزی وزیر مسٹر ایس جئے پال ریڈی قائد اپوزیشن اسمبلی مسٹر کے جانا ریڈی قائد اپوزیشن کونسل مسٹر محمد علی شبیر ، ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر ملو بٹی وکرامارک سابق صدور پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر وی ہنمنت راؤ مسٹر پنالہ لکشمیا سابق وزراء ڈاکٹر جے گیتار یڈی ، مسز سبیتا اندرا ریڈی ، مسٹر ڈی ناگیندر ارکان پارلیمنٹ مسٹر جی سیکھندر ریڈی ، مسٹر ایم اے خاں ، مسٹر آنند بھاسکر سابق ارکان پارلیمنٹ مسٹر پونم پربھاکر ، مسٹر جی ویویک ، مسٹر موھو گوڑیشکی ، مسٹر راجگوپال ریڈی ، مسٹر ایم انجن کمار یادو ارکان قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین مسٹر ایم اے پربھاکر مسٹر پی سدھاکر ریڈی جنرل سکریٹری آل انڈیا یوتھ کانگریس کمیٹی مسٹر سید عظمت اللہ حسینی صدر تلنگانہ یوتھ کانگریس مسٹر انیل کمار یادو صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخر الدین سابق صدر مسٹر محمد سراج الدین سکریٹریز تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر محمد جاوید احمد ، مسٹر صمد خاں سابق فلور لیڈر بلدیہ گریٹر حیدرآباد مسٹر ایس محمد واجد حسین کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ مسٹر غلام نبی آزاد نے کہا کہ فصلوں کو جانوروں سے بچانے کے لیے باڑ لگائی جاتی ہے ۔ اس طرح مرکزی حکومت سیکولرازم کی محافظ ہوتی ہے تاہم مرکزی وزراء حکمران بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ ارکان اسمبلی اور چیف منسٹرس فرقہ پرستی کا زہر اگلتے ہوئے سیکولرازم کے لیے خطرہ بن رہے ہیں تاہم وہ چارمینار کے دامن میں کھڑے ہو کر فرقہ پرستی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اپنے ایوارڈس واپس کرنے والے ادیبوں اور دانشوروں کو سلام کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایوارڈس واپس کرنے والے 90 فیصد افراد ہندو ہیں سرکاری فرقہ پرستی کو ان ادیبوں نے طمانچہ رسید کردیا ۔ غلام نبی آزاد نے اعظم خاں کا نام لیے بغیر کہا کہ اترپردیش کے ایک وزیر نے اقوام متحدہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اخلاق کے قتل پر مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے جب تک ہمارے ملک میں سیکولر ذہنیت رکھنے والے افراد موجود ہیں تب تک ہمیں اقوام متحدہ یا سیکوریٹی کونسل کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف مٹھی بھر فرقہ پرست طاقتیں ملک میں امن و امان کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں مگر اس سے مسلمانوں کو ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ادیبوں نے ایوارڈس واپس کرتے ہوئے فرقہ پرستی کی مخالفت کی ہے جو سیکولرازم اور مسلمانوں کی جیت ہے ۔ سیکولرازم کی بقاء کے لیے صحافت کا رول بھی ناقابل فراموش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہندو مسلم سیکھ عیسائی تمام مذہبی فرقہ پرستی کی مخالفت کرتی ہے ۔ کانگریس کے لیے پہلے ملک کے مفادات بعد میں پارٹی کے مفادات عزیز ہیں ۔ غلام نبی آزاد نے راجیو گاندھی کے 5 سالہ دور حکومت میں بیرونی ممالک سے ہندوستان کے تعلقات ملک میں ترقی کے لیے فوج ، ڈیفنس ، آئی ٹی ، ہوا بازی ، زراعت ، دیہی ترقیات ، عدلیہ ، الیکشن کمیشن میں کئے گئے اصلاحات اور اس کے انقلابی اثرات پر بھی روشنی ڈالی ۔ سابق مرکزی وزیر مسٹر ایس جئے پال ریڈی نے کہا کہ راون کے 10 سر تھے جب کہ بی جے پی کے 100 سر ہیں ۔ مندر کے نام پر نفرت کا جال پھیلانے کے خلاف 25 سال قبل راجیو گاندھی نے سدبھاونا یاترا کا چارمینار سے آغاز کیا تھا ۔ اور نفرت کا جواب محبت سے دیا تھا ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ 1990 میں آنجہانی راجیو گاندھی نے فرقہ پرستی کا خاتمہ کرنے کے لیے سدبھاونا یاترا کا آغاز کیا ۔ 25 سال بعد ملک دوبارہ اسی صورتحال سے گذر رہا ہے ۔ بیف کھانے پر دادری میں ایک مسلمان کو ہلاک کردیا گیا ۔ مذہب کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے تمام کانگریس قائدین کو راجیو گاندھی کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ راجیو گاندھی سدبھاونا ایوارڈ حاصل کرنے پر غلام نبی آزاد کو مبارکباد دی گئی اور انہوں نے کہا کہ آلیر میں جب 5 مسلم نوجوانوں کا انکاونٹر کردیا گیا تھا تب سب سے پہلے اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اس کی سی بی آئی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ سکریٹری آل انڈیا کانگریس کمیٹی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے بیف کے نام پر اترپردیش اور ہماچل پردیش میں مسلمانوں پر حملے کرنے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ نریندر مودی کے زیر قیادت مرکزی حکومت آر ایس ایس کا آلہ کار بن چکی ہے ۔ پرانے شہر میں فرقہ پرست جماعتیں فسادات کرانے کی سازش کررہی ہیں ۔ دن میں ایک دوسرے پر تنقید کررہی ہیں رات میں ایک دوسرے سے گلے مل رہی ہیں ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے 25 سال سے سدبھاونا تقریب کا انعقاد کرنے پر کمیٹی کو مبارکباد پیش کی اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں مجلس سے کوئی مفاہمت نہ کرنے تنہا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ۔ تقریب کی ابتداء میں بین مذہبی ، دعائیہ اجتماع کا اہتمام کیا گیا ۔ کانگریس کے رکن راجیہ سبھا آنند بھاسکر نے امن کا حلف دلایا ۔ سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر سید یوسف ہاشمی نے سدبھاونا یاترا کمیٹی کے ایوارڈس حاصل کرنے والوں پر روشنی ڈالی ۔ صدر سدبھاونا کمیٹی مسٹر جی نرنجن نے تقریب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT