Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / ایوارڈس پر فخر کریں ، جذبات کو معقولیت پر غالب نہ آنے دیں

ایوارڈس پر فخر کریں ، جذبات کو معقولیت پر غالب نہ آنے دیں

صحافیوں کو پریس کونسل آف انڈیا کے ایوارڈس کی تقریب سے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کا خطاب
نئی دہلی ۔ 16 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج عملی طور پر بعض مصنفین اور دیگر دانشوروں کی جانب سے ایوارڈ واپس کرنے کو عملی طور پر نامنظور کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر ایوارڈس پر فخر کیا جانا چاہئے۔ ان کی ان افراد کو قدر کرنی چاہئے جنہیں یہ ایوارڈس حاصل ہوئے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ جذبات کو ’’معقولیت‘‘ پر غالب نہ آنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات حساس ذہن بعض واقعات سے جو سماج میں پیش آتے ہیں، متاثر ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اظہارخیال اور ایسے واقعات پر اندیشوں کے اظہار میں ’’توازن‘‘ ہونا چاہئے۔ پرنب مکرجی پریس کونسل آف انڈیا کے ایوارڈس صحافیوں اور نیوز فوٹو گرافرس کو عطا کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے باوقار ایوارڈس صلاحیت کا سرکاری اعتراف ہیں۔ قابلیت اور سخت محنت جو ہمارے دوستوں اور قائدین نے اپنے پیشہ میں کی ہے، اس کو تسلیم کرنا ہے۔ ایسے ایوارڈس پر فخر کیا جانا چاہئے اور جو لوگ انہیں حاصل کرتے ہیں، انہیں اس کی قدر کرنا چاہئے۔ وہ واضح طور پر بعض مصنفین، مؤرخین اور دیگر دانشوروں کی جانب سے ان کے ایوارڈس ’’بڑھتی ہوئی عدم رواداری‘‘ کے خلاف جو ملک گیر سطح پر جاری تھی، اپنے ایوارڈس واپس کرنے کے واقعہ کا حوالہ دے رہے تھے۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ حساس ذہن بعض اوقات سماج میں پیش آنے والے چند واقعات سے متاثر ہوجاتے ہیں لیکن ایسے واقعات پر اندیشوں کا اظہار متوازن ہونا چاہئے۔ جذبات کو معقولیت پر غالب آنے نہیں دینا چاہئے۔ اگر اختلاف ہو تو اس کا اظہار مباحث اور تبادلہ خیال کے دوران کیا جاسکتا ہے۔ اس موضوع پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کارکنوں اور خاکوں کو برآمد کرنا یا ان سے اثر قبول کرنا ذرائع ابلاغ کی جانب سے اظہار رائے کا ایک طریقہ ہے۔ ہمیں ہندوستانیوں پر فخر ہونا چاہئے جن میں اتنا اعتماد ہیکہ ہندوستان کا نظریہ اور اقدار اور دستور ہند میں درج اصول کے خلاف کوئی بھی بات برداشت نہیں کرتے۔ ہندوستان ہمیشہ اپنی اصلاح خود کرتا آیا ہے۔ جب کبھی ایسے ضرورت پیش آئی تو اس نے اپنی اصلاح کرلی ہے۔ وہ پریس کونسل آف انڈیا کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے جو قومی یوم صحافت کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ انہوں نے افسانوی کارٹونسٹوں جیسے آر کے لکشمن اور راجندر پوری کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے جواہر لال نہرو کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ کارٹونسٹ وی شنکر نے پنڈت نہرو یا ان کی کارکردگی کو بھی نہیں بخشا تھا ۔ بار بار ان کے کارٹون بنائے تھے۔

TOPPOPULARRECENT