Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / ایودھیا مسئلہ کی یکسوئی کیلئے منفرد تحریک ‘مندر اور مسجد کی تعمیر کا اعلان

ایودھیا مسئلہ کی یکسوئی کیلئے منفرد تحریک ‘مندر اور مسجد کی تعمیر کا اعلان

سبکدوش جسٹس پالوک باسو کا ایودھیا فیض آباد کے 7ہزار ہندوؤں اور مسلمانوں کی تائید کا ادعا ‘مسجد بابر سے موسوم نہیں ہوگی
ایودھیا۔20ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایودھیا مسئلہ سیاسی ریگستان اور قانونی دلدل میں پھنسا ہواہے ‘ جبکہ ہائیکورٹ کے ایک سبکدوش جج نے ایک تحریک کی قیادت سنبھال لی ہے تاکہ اس مسئلہ کی پُرامن یکسوئی ہوسکے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں سات ہزار سے زیادہ مقامی عوام بشمول ہندو اور مسلمان کی تائید حاصل ہے ۔ ریٹائرڈ جسٹس پالوک باسو نے کہا کہ ایودھیا اور فیض آباد کے ان تمام افراد نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ایک درخواست پر دستخط کئے ہیں۔ باسو اور ان کے ساتھیوں نے جو فارمولہ پیش کیا ہے وہ محصلہ متنازعہ اراضی پر رام جنم بھومی / بابری مسجد دونوں قائم کئے جائیں گے ۔ تاہم مسجد مغل شہنشاہ بابر کے نام سے موسوم نہیں ہوگی ۔ آلہ آباد ہائیکورٹ کے سبکدوش جج پالوک باسو اس مقامی کوشش کی 18مارچ 2010ء سے قیادت کررہے ہیں ‘ جبکہ 6ماہ بعد ہائیکورٹ نے متنازعہ اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا ۔ ریٹائرڈ جسٹس باسو اور ان کے ساتھیوں نے ایک دستخطی مہم ایودھیا اور فیض آباد میں شروع کی ہے ‘ ان کا ارادہ مقامی ہندوؤں اورمسلمانوں کے 10ہزار دستخطیں حاصل کرنے کا ہے ۔

پالوک باسو نے کہا کہ سات ہزار سے زیادہ دستخطیں حاصل کی جاچکی ہیں ۔ 10ہزار دستخطیں حاصل ہونے کے بعد اُن کی ٹیم حکومت کے توسط سے عدالت سے رجوع ہوگی اور سپریم کورٹ سے اپیل کرے گی کہ امن و ہم آہنگی کے عوامی جذبات کا احترام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ امن کیلئے پہلی چیز یہ ہے کہ ہم نے ایودھیا کے مسئلہ پر گذشتہ 60 تا 70سال خونریزی دیکھی ہے ‘ اس لئے ہم سب کو امن کی کارروائی کیلئے متحد ہوجانا چاہیئے ۔ نرموہی اکھاڑہ کے مشیر قانونی رنجیت لال ورما جو اب باسو کی ٹیم کے اہم ارکان میں سے ایک ہے کہا کہ 10ہزار دستخطیں حاصل ہونے کے بعد ہم سپریم کورٹ میں درخواست پیش کرنے کی کارروائی شروع کریں گے ۔ ہمیں اُمید ہے کہ سپریم کورٹ عوامی جذبات برائے امن و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو پیش نظر رکھے گی ۔ افضال احمد خان نے جو جسٹس پالوک باسو کے ساتھی اور مقامی قائد ہیں کہا کہ چونکہ یہ مسئلہ ابھر آیا ہے ‘ ہم تمام ہمیشہ ایک ہی رائے رکھتے تھے کہ اس کی یکسوئی کسی نہ کسی طرح ہوجانا چاہیئے لیکن سیاست دانوں نے اس مسئلہ کا اپنے ووٹ بینک قائم کرنے کیلئے استحصال کیا اور اب یہ پُرامن سماج کیلئے کینسر بن گیا ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے ۔ باسو کے ایک اہم ساتھی منظر مہدی نے جو ایک مقامی زبان کے روزنامہ کے صحافی ہیں کہا کہ امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں برادریوں کے اکثر افراد سے بات چیت کے عمل کے دوران ربط پیدا کررہے ہیں ۔ ثالثی اور 15روزہ بات چیت گذشتہ پانچ سال سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دونوں قصبوں میں جاری ہے‘ تاکہ عدالت سے باہرمسئلہ کا حل تلاش کیا جاسکے ۔ 30ستمبر 2010ء کو آلہ آباد ہائیکورٹ کی ایک خصوصی بنچ نے فیصلہ سنایا تھا کہ متنازعہ اراضی جو ایودھیا میں واقع ہے جہاں بابری مسجد قائم تھی ‘ تین حصوں میں تقسیم کردی جائے ۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس پر حکم التواء جاری کیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT