Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / ایودھیا مقدمہ میں اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی کیخلاف فرد جرم، مجرمانہ سازش کا الزام

ایودھیا مقدمہ میں اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی کیخلاف فرد جرم، مجرمانہ سازش کا الزام

الزامات سے بری کرنے کی درخواست سی بی آئی خصوصی عدالت میں مسترد، ملزمین کی ضمانت منظور، دو علیحدہ مقدمات کی سماعت
لکھنؤ 30 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے بی جے پی کے سرکردہ قائدین ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کو آج ضمانت دے دی جو بابری مسجد کے انہدام سے متعلق ایک مقدمہ کی سماعت کے لئے اس عدالت میں حاضر ہوئے تھے۔ بی جے پی لیڈر ونئے کٹیار، وی ایچ پی قائد وشنو ہری ڈالمیا اور ماضی میں ہندوتوا کی شعلہ بیان مقرر رہی سادھوی ریتھمبرا کو بھی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ تمام بھی مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت میں حاضر ہوئے تھے۔ سی بی آئی کے خصوصی جج ایس کے یادو نے ان تمام کو فی کس 50,000 روپئے کے شخصی مچلکہ پر یہ ضمانت دی۔ اس عدالت نے 89 سالہ ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، 83 سالہ جوشی، 58 سالہ اوما بھارتی کے علاوہ 62 سالہ ونئے کٹیار، 86 سالہ وشنو ہری ڈالمیا اور 53 سالہ سادھوی رتھمبرا کے خلاف 6 ڈسمبر 1992 ء کو ایودھیا میں بابری مسجد کی انہدام کے مقدمہ میں ہندوستانی تعزیری ضابطہ کی دفعہ 120 (بی) کے تحت مجرمانہ سازش کا الزام بھی وضع کی ہے۔ ان ملزمین نے قبل ازیں مقدمے اور الزامات سے دستبرداری کی درخواست پیش کی تھی جس کو عدالت نے مسترد کردیا۔ ملزمین نے الزامات وضع کرنے کے خلاف بحث کرتے ہوئے اپنی درخواستوں میں ادعا کیا تھا کہ مسجد کی انہدامی میں ان کا کوئی رول نہیں ہے بلکہ انھوں نے مسجد کی انہدامی کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن جج ایس کے یادو نے ان کے استدلال کے ساتھ درخواست کو مسترد کردیا۔ اس عدالت میں 16 ویں صدی کی بابری مسجد کی انہدامی سے متعلق دو الگ الگ مقدمات کی سماعت جاری ہے۔ دوسرے مقدمہ کے دیگر چھ ملزمین میں رام ولاس ویدانتی، بائیکنتھ لال شرما، چمپت رائے بنسل، مہنت نریتی، گوپال داس، دھرم داس اور ستیش پردھان شامل ہیں۔ ان تمام ملزمین پر مجرمانہ سازش کے علاوہ مذہب، ذات پات و نسل کی بنیاد پر عوام کے مختلف طبقات میں مخاصمت پیدا کرنے، ایک مخصوص مذہب کی توہین کے ارادہ سے عبادت گاہ کو منہدم کرنے کے الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں۔ ویدانتی اور دیگر پانچ ملزمین کے خلاف قومی اتحاد و یکجہتی کو خطرہ میں ڈالنے، مذہبی جذبات مجروح کرنے کے دانستہ ارادہ سے شرپسند کارروائیوں میں ملوث ہونے، عوام میں شر فساد پھیلانے کے مقصد سے اشتعال انگیز بیانات جاری کرنے کے الزامات کے تحت ہندوستانی تعزیری ضابطہ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اڈوانی، جوشی اور بھارتی 25 اور 26 مئی کو مقدمہ کی سماعت کے موقع پر عدالت میں حاضر نہیں ہوئے تھے۔ بعدازاں جج ایس کے یادو نے کہا تھا کہ سماعت کے التواء یا شخصی حاضری سے استثنیٰ کی مزید کسی درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا اور اُنھیں 30 مئی کو عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت کی تھی۔ اڈوانی صبح خصوصی عدالت کو روانگی سے قبل انتہائی اہم ترین شخضیات (وی وی آئی پی) کے گیسٹ ہاؤز پہونچے جہاں اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام و تباہی کو ایک ایسا ’جرم‘ قرار دیا تھا جس نے دستور کے سیکولر تانے بانے کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کٹیار، رتمبھرا اور ڈالمیا کے بشمول دیگر چار سرکردہ بی جے پی قائدین کے خلاف مجرمانہ سازش کا الزام بحال کرنے سی بی آئی کو اجازت دی تھی۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے بی جے پی کے ایک سرکردہ لیڈر اور راجستھان کے گورنر کلیان سنگھ کو حاضری سے دستوری استثنیٰ دیا۔

TOPPOPULARRECENT