Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / ایودھیا ملکیت تنازعہ پر سپریم کورٹ میں 5 ڈسمبر سے قطعی سماعت

ایودھیا ملکیت تنازعہ پر سپریم کورٹ میں 5 ڈسمبر سے قطعی سماعت

کسی بھی صورت میں سماعت ملتوی نہیں ہوگی، بنچ کی وضاحت، فریقوں اور حکومت یوپی کو دستاویزات کے انگریزی ترجمہ کیلئے مہلت

نئی دہلی۔ 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی کی ملکیت کے تنازعہ پر 5 ڈسمبر سے قطعی سماعت شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ واضح کردیا کہ کسی بھی صو رتمیں کوئی التواء نہیں دیا جائے گا۔ اس مسئلہ پر دیڑھ گھنٹہ کی گرماگرم بحث کے بعد عدالت عظمیٰ اس متفقہ نتیجہ پر پہنچی کہ الہ آباد ہائیکورٹ کی طرف سے 2010ء میں دیئے گئے فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیلوں کی سماعت 5 ڈسمبر سے شروع ہوگی۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے رولنگ دی تھی کہ ایودھیا میں 2.77 ایکر متنازعہ اراضی تین فریقوں سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام لالہ میں مساویانہ طور پر تقسیم کی جائے۔ جسٹس دیپک مصرا کی قیادت میں خصوصی طور پر تشکیل شدہ بنچ نے اپیل دائر کرنے والے فریقوں سے کہا کہ متعلقہ دستاویزات کا جو آٹھ مختلف زبانوں میں ہیں، اندرون 12 ہفتے (تقریباً تین ماہ) انگریزی میں ترجمہ کروایا جائے۔ اس بنچ نے جس میں جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنذیر بھی شامل ہیں، حکومت اترپردیش کو ہدایت کی کہ ہائیکورٹ میں ریکارڈ شدہ شہادتوں کا اندرون 10 ہفتے انگریزی ترجمہ کروایا جائے۔ عدالت نے یہ واضح کردیا کہ فریقوں کو اس (عدالت عظمیٰ) کی طرف سے تعین کردہ نظام الاوقات کی سختی کے ساتھ پابندی کرنا چاہئے اور کسی بھی صورت میں (بحث کے) التواء کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لارڈ رام لالہ کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے سینئر وکیل سی ایس ویدیا ناتھن اور حکومت اترپردیش کی پیروی کرنے والے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل تشارمہتا نے اس مقدمہ کی عاجلانہ سماعت کیلئے اصرار کیا لیکن سینئر وکلاء کپل سبل، انوپ جارج چودھری اور راجیو دھون نے جو دیگر فریقوں کی پیروی کررہے ہیں، اس مقدمہ کی آئندہ سال جنوری سے قبل سماعت کے آغاز کے حق میں نہیں تھے۔

TOPPOPULARRECENT