Friday , October 20 2017
Home / سیاسیات / ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے

ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے

سپریم کورٹ میں بی جے پی لیڈر سبرامنین سوامی کی درخواست ‘ تنازعہ سے علیحدہ سماعت پر زور
نئی دہلی 22 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی لیڈر سبرامنین سوامی نے آج سپریم کورٹ میں ایک تازہ درخواست پیش کی اور عدالت سے استدعا کی کہ ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے جہاں 1992 میں بابری مسجد کو شہید کردیا گیا تھا ۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی قیادت والی ایک بنچ کے روبرو یہ درخواست پیش کی گئی ۔ بنچ نے کہا کہ یہ درخواست بھی اس بنچ سے رجوع کی جائیگی جو پہلے ہی مندر ۔ مسجد تنازعہ سے متعلق دوسری درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے ۔ سبرامنین سوامی کا کہنا تھا کہ اس تازہ درخواست کی علیحدہ سماعت کی جانی چاہئے تاہم بنچ نے جس میں جسٹس یو یو للت بھی شامل تھے کہا کہ یہ درخواست ایک اور بنچ سے رجوع کی جا رہی ہے جو ایودھیا مسئلہ پر پہلے ہی دوسری درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے ۔ بنچ نے ریمارک کیا کہ اگر متعلقہ بنچ یہ سمجھتی ہے کہ اس درخواست کی علیحدہ بنچ پر سماعت کی جانی چاہئے تو پھر اس کی علیحدہ سماعت کی جائیگی تاہم اگر متعلقہ بنچ سمجھتی ہے کہ اس کو بھی دوسرے مقدمات کے ساتھ شامل کرلیا جائیگا تو پھر یہ اس بنچ کے صوابدید پر ہے ۔ سوامی نے اپنی درخواست میں ادعا کیا کہ اسلامی ممالک میں جو روایات چل رہی ہیں ان کے مطابق ایک مسجد کو عوامی مقاصد جیسے سڑکوں کی تعمیر وغیرہ کیلئے دوسرے مقام پر منتقل کیا جاسکتا ہے جبکہ ایک مندر اگر تعمیر کردی جاتی ہے تو پھر اس کو چھوا بھی نہیں جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک تقدس کا معاملہ ہے کسی مندر کو مسجد کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا ۔ ایک مسجد مذہب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے ۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کی دستوری بنچ کا ایک اکثریتی فیصلہ بھی ہے جبکہ برطانیہ 1991 کے ہاوز آف لارڈز کے بموجب ایک مندر اگر تعمیر کی جاتی ہے تو اگر وہ خستہ حالت میں بھی ہے تو اس کو چھوا تک نہیں جاسکتا ۔ سوامی نے اپنی درخواست میں ادعا کیا کہ ایسے میں بنیادی حقیقت یہ ہے کہ رام مندر رام جنم بھومی پر ہی موجود تھی اور اس کے حق میں مسجد کی موجودگی سے زیادہ ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ ہائیکورٹ میں تنازعہ سے متعلق جو درخواستیں ہیں انکی جلد یکسوئی کیلئے ہدایات دی جائیں۔ عدالت نے اس مقام پر جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے 67 ایکر اراضی سے متصل کسی طرح کی مذہبی سرگرمی سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT