Wednesday , April 26 2017
Home / Top Stories / ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور رام راجیہ کے قیام کا عہد

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور رام راجیہ کے قیام کا عہد

مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی مخالفت، رام نومی شوبھا یاترا سے پروین توگاڑیہ اور دیگر ہندوتوا قائدین کا خطاب
مسجد مالا کنٹہ کے قریب اشتعال انگيزی کے بعد کشیدگی

حیدرآباد۔/5اپریل، ( سیاست نیوز) سری رام نومی شوبھا یاترا کا آج پُرامن طور پر اختتام عمل میں آیا لیکن اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرنے والے وشوا ہندو پریشد کے انٹرنیشنل سکریٹری پروین توگاڑیہ نے پھر ایک مرتبہ زہرافشانی کرتے ہوئے اشتعال انگیز تقاریر کی۔ شوبھا یاترا کے اختتام کے بعد سلطان بازار ہنومان ویایم شالہ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پروین توگاڑیہ نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ہوکر رہے گی اور ملک میں رام راجیہ بھی قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے مغل سلطنت کے بانی ظہیرالدین بابر کے خلاف اشتعال انگیز ریمارکس کئے اور کہا کہ ان کا تعلق ہندوستان سے نہیں بلکہ منگولیا سے تھا اور اس ملک میں ان کی یادگار ناقابل برداشت ہے۔ پروین توگاڑیہ نے کہا کہ ایودھیا ہی بھگوان رام کا مقام پیدائش ہے اور اس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ ایودھیا میں کوئی مسجد نہیں بنے گی اور مسئلہ کی یکسوئی کیلئے بات چیت کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ایودھیا میں ہی رام مندر ہے۔ وی ایچ پی کے سکریٹری نے یہ انتباہ دیا کہ دنیا کی کوئی طاقت رام مندر بننے سے نہیں روک سکتی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70 سال میں کسی بھی حکومت نے رام مندر کی تعمیر یا رام راج کے قیام کیلئے کوشش نہیں کی ہے جبکہ 95 لاکھ مسلمان طلبہ کو تعلیم کیلئے امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ 6 کروڑ ہندو طلبہ کو کوئی بھی امداد نہیں ملتی۔ حکومت کی لاپرواہی سے 15 کروڑ سے زائد ہندو نوجوان ملک میں بیروزگار ہیں اور ان کی ترقی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔

پروین توگاڑیہ کو آج اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب جلسہ عام میں شرکاء کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ قبل ازیں آج دوپہر سری رام نومی شوبھا یاترا کا آغاز منگل ہاٹ سیتا رام باغ سے ہوا اور اس یاترا کی صدارت بی جے پی رکن اسمبلی گوشہ محل ٹی راجہ سنگھ نے کی۔ شوبھا یاترا مختلف مقامات سے گذرتے ہوئے بیگم بازار علاقہ پہنچی جہاں پر راجہ سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ رام مندر کی تعمیر کیلئے ایودھیا جانے کیلئے تیار ہے اور اس نے یہاں کی عوام کے تعاون کی اپیل کی۔ راجہ سنگھ نے کہا کہ اتر پردیش میں ملا کا دور ختم ہوچکا ہے اور یوگی کی حکمرانی کا آغاز ہوچکا ہے۔ شوبھا یاترا کے موقع پر برنداون سے خصوصی طور پر مدعو کئے گئے سوامی برج موہن مہاراج نے ریاست میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی مخالفت کی اور کہا کہ سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے ووٹ بینک کیلئے اس قسم کے اقدامات کررہی ہیں۔ برج موہن مہاراج نے کہا کہ مسلمانوں کو مختلف سبسیڈیز اور اسکیمات سے رجھانے والی سیاسی پارٹیوں کو اترپردیش میں منہ توڑ جواب ملا ہے۔ مہاراج نے مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست میں ہندوؤں کو  ہراساں کررہی ہیں اور آئندہ انتخابات میں انہیں بھی سبق سکھایا جائے گا۔

سیاسی مقاصد کی غرض سے ہی ریاست میں مسلمانوں کو بہترین اسکیمات اور تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں۔ گاؤ کشی پر امتناع قانون پر عمل آوری کی جانی چاہیئے اور حیدرآباد میں سب سے زیادہ گاؤ ہتھیا ہوتی ہے۔ شوبھا یاترا کے موقع پر حیدرآباد سٹی پولیس نے سیکورٹی کے وسیع ترین انتظامات کئے تھے اور کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر مہیندر ریڈی نے شہر کے کمانڈ ان کنٹرول سے راست نگرانی کی۔ شوبھا یاترا کے موقع پر شہر کے مختلف مقامات پر زعفرانی پرچم لگائے گئے تھے اور موٹر سیکلوں پر ریالیوں کی شکل میں کئی نوجوان جئے سری رام کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر دیکھے گئے۔شوبھا یاترا کے اختتام پر واپس لوٹنے والے بعض شرپسند عناصر کی جانب سے معظم جاہی مارکٹ مالا کنٹہ مسجد پر گلال اور پانی کی بوتلیں پھینکنے سے ہلکی سی کشیدگی پیدا ہوگئی۔ بیگم بازار پولیس کو مقامی عوام نے اس حرکت سے واقف کروایا اور پولیس نے وہاں پہنچ کر معائنہ کیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT