Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / ایودھیا میں مسجد میرباقی نے تعمیر کی تھی

ایودھیا میں مسجد میرباقی نے تعمیر کی تھی

بابر کے شیعہ کمانڈر نے ہندو مسلم کے مابین نفرت کے بیج بوئے : شیعہ وقف بورڈ
لکھنو ۔21 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اُترپردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ نے آج کہا ہے کہ سولہویں صدی کے اوائیل میں بابر کی فوج کے کمانڈر نے ایودھیا میں مندروں کے درمیان ایک مسجد تعمیر کی تھی اور ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کا بیج بویاتھا ۔ صدرنشین بورڈ وسیم رضوی نے آج ایک بیان میں کہاکہ میرباقی اُس وقت بابر کی فوج کے کمانڈر تھے ۔ وہ شیعہ تھے اور اُنھوں نے 1528-29ء میں ایودھیا میں مندروں کے درمیان ایک بڑی مسجد تعمیر کرتے ہوئے ہندوؤں کے خلاف احساسات و جذبات کیلئے مغلیہ فوج کا استعمال کیا تھا ۔ انھوں نے اس تنازعہ کا بیج بویاہے ۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جبکہ بورڈ نے سپریم کورٹ میں اپنا یہ موقف واضح کیا ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ مقام سے کسی قدر فاصلے پر جہاں مسلم اکثریتی علاقہ ہے مسجد تعمیر کی جاسکتی ہے ۔ بورڈ نے 8 اگسٹ کو دائر کردہ اپنے حلف نامہ میں یہ بھی کہا ہے کہ بابری مسجد کا مقام شیعہ جائیداد ہے اور اس تنازعہ کی باہمی یکسوئی کیلئے مذاکرات کا حق بھی اُسے ہی ہے ۔ وسیم رضوی نے کہاکہ شیعہ وقف بورڈ نے باہمی معاہدہ کے ذریعہ متنازعہ مقام سے دور اور مسلم اکثریتی علاقہ میں مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ شیعہ وقف بورڈ اس مسجد کا نام بابر یا اُن کے کمانڈر میر باقی سے موسوم نہیں کرے گا ۔ بورڈ چاہتا ہے کہ اس مسجد کے نام کے ذریعہ تمام تنازعات ختم ہوجائیں ، چنانچہ نئی مسجد کا نام ’’مسجد امن ‘‘ ہوگا ، جس کے ذریعہ ملک میں رواداری کا پیام پھیلے گا ۔ وسیم رضوی نے کہاکہ اُنھوں نے اس معاملے میں عراق اور ایران کے سرکردہ علماء کی رائے بھی حاصل کی ہے اور اُنھوں نے یہ بتایا کہ کسی لڑائی یا تنازعہ کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ، اس مسئلہ کو بات چیت کے ذریعہ اور دوستانہ ماحول میں حل کیا جانا چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ میر باقی کی اس حرکت کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تنازعہ چلا آرہا ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد نے اپنی جان دیدی ۔ آج اس مقام پر مسجد موجود نہیں لیکن چند مسلم علماء جنھیں دہشت گردی کو پھیلانے کیلئے بیرونی ممالک سے فنڈس مل رہے ہیں ، آج بھی اسلام کو رسواء کرنے میں مصروف ہیں۔ انھوں نے کہاکہ میر باقی کی غلط کارستانی کا گوسوامی تلسی داس (رام چرتھ منہاس کے مصنف ) نے حوالہ دیتے ہوئے اُنھیں ایک نیچ شخص قرار دیا ۔

TOPPOPULARRECENT