Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / ایودھیا میں پتھر جمع کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، پہلے مندر کی تعمیر کی تاریخ کا اعلان کیا جائے

ایودھیا میں پتھر جمع کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، پہلے مندر کی تعمیر کی تاریخ کا اعلان کیا جائے

لارڈ رام کے مندر کی موجودہ حالت پر برسراقتدار افراد کو شرم آنی چاہئے، سامنا کا اداریہ

’’رام کے آشیرواد سے اقتدار پر فائز ہونے والے
ان (رام) کے بن باس کے اختتام کو یقینی بنائیں‘‘

ممبئی ۔ 25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا کے متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کو شیوسینا نے ایک ’’قومی کام‘‘ قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ جو لوگ لارڈ رام کے آشیرواد سے اقتدار پر آئے ہیں، انہیں چاہئے کہ اب ان (لارڈ رام) کی جلاوطنی (بن باس) ختم کریں۔ شیوسینا نے ایودھیا میں مندر کی تعمیر کی تیاریوں کے نام پر پتھر جمع کرنے کی مہم پر بالواسطہ طنز کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مندر کی تعمیر کیلئے پتھر جمع کرنے کے بجائے پہلے تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ شیوسینا کے ترجمان مرہٹی روزنامہ ’’سامنا‘‘ نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ ’’لارڈ رام کا مندر تعمیر کرنا ایک قومی کام ہے‘‘۔ مرکز اور مہاراشٹرا میں بی جے پی زیرقیادت حکمراں اتحاد کی اہم حلیف جماعت شیوسینا اپنے اخبار کے اس اداریہ میں مزید لکھا کہ ’’ہم بھی ایودھیا میں رام مندر چاہتے ہیں لیکن ہمارے لارڈ رام ایک بے گھر کی طرح چھپر جیسے مندر میں رہ رہے ہیں۔ لارڈ رام کے مندر کی اس حالت پر برسراقتدار افراد کو شرم آنی چاہئے۔ جو لوگ لارڈ رام کے آشیرواد سے اقتدار پر آتے ہیں اور اعلیٰ عہدہ پر فائز ہوتے ہیں انہیں چاہئے کہ ان (لارڈ رام) کے بن باس کے خاتمہ کی مدت کو یقینی بنائیں۔ شیوسینا نے بی جے پی کی محاذی تنظیموں بالخصوص وشوا ہندو پریشد کی سرگرمیوں کو بالواسطہ طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں 2017ء کے دوران ہونے والے اسمبلی انتخابات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلسل اس مسئلہ کو اٹھایا جانے لگا ہے۔ رام مندر کی تعمیر کیلئے اس مقام پر پتھر بھی پہنچنے لگے ہیں۔ شیوسینا نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ ’’گذشتہ کئی سال سے ہم یہ دیکھتے رہے ہیں کہ (انتخابات کے دوران) ماحول کو خوب گرمایا جاتا رہا ہے اور یہی حال ہم اب پھر دیکھ رہے ہیں۔ پھر ایک مرتبہ ایودھیا کو پتھر پہنچنے لگے ہیں اور کارکن انہیں تراش بھی رہے ہیں لیکن اب یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہیکہ ان تمام پتھروں کا کیا ہوا جو گذشتہ 20 تا 25 سال کے دوران وہاں لائے گئے اور انہیں تراشا گیا تھا؟‘‘۔ سامنا کے اداریہ میں سامنا نے لکھا کہ ’’مندر کی تعمیر ضروری ہے لیکن اس کے لئے پتھر تراشتے رہنا ضروری نہیں بلکہ یہ بہت ضروری ہے کہ رام مندر کی تعمیر کے آغاز کیلئے پہلے تاریخ کا اعلان کیا جائے اور اس تاریخ پر قائم رہیں‘‘۔ واضح رہے کہ وشوا ہندو پریشد کی جانب سے ایودھیا میں مندر کی تعمیر کیلئے راجستھان سے تاحال کئی سو ٹن قیمتی پتھر جمع ہوچکے ہیں۔ یہ مسئلہ چونکہ عدالت میں زیردوران ہے اور وہاں کسی قسم کی تعمیر کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعہ اگرچہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی کہ متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر شروع کی جاسکتی ہے لیکن عملاً عدالتی فیصلے یا فریقین کے باہمی اتفاق کے بغیر اس عملاً کوئی امکان نہیں ہے۔

رام مندر ریمارکس، اترپردیش کے وزیر برطرف
ایودھیا اور متھرا میں مندروں کی تعمیر کیلئے مسلمانوں کو مشورہ مہنگا پڑا
لکھنؤ ۔ 25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے چیف منسٹر اکھیلیش یادو نے سماج وادی پارٹی کے لیڈر اوم پال نہرا کو مملکتی وزیر کے عہدہ سے برطرف کردیا کیونکہ انہوں نے ایودھیا اور متھرا میں مندروں کی تعمیر کیلئے مسلمانوں کو مدد کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان اور کابینی وزیر راجندر چودھری نے پی ٹی آئی سے آج کہا کہ ’’نہرا کو چیف منسٹر نے کل برطرف کردیا۔‘‘ چیف منسٹر اکھیلیش یادو جو حکمراں سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر بھی ہیں، یہ قدم ایک ایسے وقت اٹھایا ہے جب رام مندر کا مسئلہ پھر ایک مرتبہ موضوع بن گیا جب وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کیلئے دو لاریوں کے ذریعہ ایودھیا کو پتھر پہنچائے گئے۔ اوم پال نہرا نے 23 ڈسمبر کو منعقدہ ایک تقریب میں کہا تھا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ایودھیا اور متھرا کے متنازعہ مقامات پر مندروں کی تعمیر کیلئے آگے آئیں اور مدد کریں تاکہ وشوا ہندو پریشد جیسی تنظیمیں اپنی شناخت سے محروم ہوسکیں۔ نہرا نے بجنور میں کہا تھا کہ ’’رام مندر اگر ایودھیا میں نہیں تو پھر کہاں تعمیر کیا جائے گا؟ یہ ایک حساس اور جذباتی مسئلہ ہے۔ متھرا میں جہاں ہم لارڈ کرشنا کی پوجا کرتے ہیں وہاں کیسے کوئی مسجد ہوسکتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان مسائل کو ختم کرنے کے بارے میں سوچیں اور درحقیقت وہ کارسیوا کیلئے آگے آئیں اور کہیں کہ ان مقامات پر مندر تعمیر کئے جائیں۔ ہمیں ان (وی ایچ پی) کے جال میں نہیں پھنسنا چاہئے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT