Wednesday , October 18 2017
Home / ہندوستان / ایودھیا کے متنازعہ مقام پر مسجد و مندر بنانے کی تجویز

ایودھیا کے متنازعہ مقام پر مسجد و مندر بنانے کی تجویز

فیض آباد ڈیویژنل کمشنر کو 10ہزار درخواستوں پر مشتمل یادداشت
فیض آباد ؍ ایودھیا ۔ 14 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایودھیا تنازعہ کی یکسوئی کیلئے فیض آباد ڈیویژنل کو پیش کردہ ایک مکتوب میں اس مقام پر ایک مسجد اور ایک مندر تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس مکتوب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے ایک سابق جج پلوک باسو کی قیادت میں کی جانے والی اس مساعی میں ہندو اور مسلم طبقات کے تقریباً 10,000 ارکان نے دستخط کی ہے ۔ ڈیویژنل کمشنر سوریہ پرکاش مشرا نے جو اس تنازعہ کے ثالثی بھی ہیں کہا کہ ایودھیا تنازعہ سے متعلق مجھے ایک یادداشت موصول ہوئی ہے جس سے منسلک نقولات پر چند دستخطیں بھی ہیں۔ تاہم میں نے اس مسئلہ پر ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ باسو نے کہاکہ انھیں اُمید ہے کہ سپریم کورٹ اس یادداشت کا نوٹ لے گا ۔ یہ مکتوب جس پر 10,502 دستخطیں ہیںگزشتہ روز داخل کی گئی تھی ۔ انھوں نے کہاکہ ’’ہم نے اس عمل کو مجاز شخص ( فیض آباد ڈیویژنل کمشنر) کے ذریعہ سپریم کورٹ پہونچادیا ہے ۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ ، امن و ہم آہنگی کیلئے عوامی جذبات کا احترام کرے گی ‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ متنازعہ مقام پر رام مندر اور مسجد تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے 30 ستمبر 2010 ء کی رولنگ میں اُس کو جہاں پہلے کبھی بابری مسجد موجود تھی اس کے دو حصے نرموہی اکھاڑا اور رام لالہ کے ایک دوست میں تقسیم کی تھی اور ایک حصہ مسلمانوں کو دیا تھا جو اُترپردیش کے سنی سنٹرل وقف بورڈ کے حصہ میں گیا ہے ۔ باسو نے کہاکہ اس مسئلہ کی یکسوئی کے لئے ان کی مقامی مساعی 18 مارچ 2010 ء کو شروع کی گئی تھی ۔ بابری مسجد مقدمہ کے ایک فریق ہاشم انصاری نے ماضی میں اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت گیان داس کے ساتھ بیرون عدالت تصفیہ پر بات چیت کی تھی ۔ جس میں 70 ایکر پر محیط متنازعہ احاطوں کو 100 فیٹ بلند فصیل کے ذریعہ تقسیم کرتے ہوئے ایک مسجد اور ایک مندر بنانے کی بات کہی گئی تھی ۔ تاہم وشواہندوپریشد ( وی ایچ پی ) نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی توہین قرار دیا تھا ۔ اس مقدمہ کے سبب سے عمر رسیدہ فریق ہاشم انصاری کا اس سال جولائی میں انتقال ہوگیا ۔

TOPPOPULARRECENT