Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ایک بی جے پی اور دو ٹی آر ایس ارکان کے ووٹ خطرہ میں

ایک بی جے پی اور دو ٹی آر ایس ارکان کے ووٹ خطرہ میں

ٹی آر ایس رکن پر ہریش راؤ برہم ، معاملہ چیف منسٹر سے رجوع
حیدرآباد ۔ 17۔ جولائی (سیاست نیوز) صدر جمہوریہ کے انتخاب کے لئے رائے دہی میں بعض ارکان کی جانب سے غلطی کرنے کی اطلاعات ملی ہے کیونکہ ان ارکان نے دوسرا بیالٹ پیپر دینے کی خواہش کی جس سے اندازہ ہوا کہ انہوں نے ووٹ دینے میں گڑبڑ کردی۔ اطلاعات کے مطابق ٹی آر ایس کے 2 اور بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے رائے دہی کے سلسلہ میں پہلے جاری کردہ بیالٹ پیپر کو ضائع کرتے ہوئے دوسرا بیالٹ پیپر جاری کرنے کی عہدیداروں سے خواہش کی ۔ انہوں نے عہدیداروں کو یہ نہیں بتایا کہ ووٹ ڈالتے ہوئے ان سے کیا غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ قواعد کے مطابق دوسرا بیالٹ پیپر جاری نہیں کیا جاتا ، لہذا ان ارکان کو مایوسی کے ساتھ واپس ہونا پڑا۔ یا تو ان ارکان نے ایک امیدوار کی جگہ دوسرے کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا یا پھر مقررہ مقام پر نشان نہیں لگایا جس کے باعث وہ دوسرے بیالٹ پیپر کی خواہش کر رہے تھے ۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی موتی ریڈی یادگیری ریڈی کو اس سلسلہ میں وزیر امور مقننہ ہریش راؤ کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔ یادگیری ریڈی جو حلقہ اسمبلی جنگاؤں کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ بیالٹ پیپر کے ساتھ پولنگ بوتھ سے باہر آئے اور ووٹ دینے کے طریقہ کار کے بارے میں عہدیداروں سے استفسار کرنے لگے۔ وہاں قریب میں موجود ہریش راؤ نے برہمی کا اظہار کیا ۔ یادگیری ریڈی نے انہیں اپنی غلطی سمجھانے کی کوشش کی جس پر ہریش راؤ نے کہا کہ مجھ سے نہیں بلکہ اب چیف منسٹر سے وضاحت کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ یادگیری ریڈی کے معاملہ کو چیف منسٹر سے رجوع کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے دو مرتبہ ارکان اسمبلی کے ساتھ اجلاس میں سخت وارننگ دی تھی کہ ایک بھی ووٹ ضائع نہ ہونے پائیں ۔ اگر ووٹوں کی گنتی میں یادگیری ریڈی کا ووٹ ناقابل قبول قرار دیا جائے گا تو چیف منسٹر ان کے خلاف سخت کارروائی کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ غلطی کرنے والے رکن اسمبلی کو بیکار سمجھا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ یادگیری ریڈی کے علاوہ ٹی آر ایس کے ایک اور رکن اسمبلی کے یادیا نے بھی ووٹ ڈالنے میں غلطی کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے دونوں امیدواروں کو ووٹ دیا۔ حکومت نے ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری اور وزیر امور مقننہ ہریش راؤ کو ارکان کی رہنمائی کیلئے مقرر کیا تھا۔ رائے دہی میں حصہ لینے کے بعد بعض ارکان اسمبلی آپس میں رائے دہی کے طریقہ کار کے بارے میں گفتگو کرتے دیکھے گئے اور ان میں سے بعض کی گفتگو سے اندازہ ہورہا تھا کہ شائد انہوں نے غلطی کردی ہے۔ اس طرح کے مشتبہ ارکان کے ناموں کو چیف منسٹر کے پاس پیش کیا جائے گا اور ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی حقیقت سامنے آئے گی ۔ بتایا گیا ہے کہ بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی ووٹ ڈالنے کے بعد پریشان دکھائی دیئے اور ساتھی ارکان سے ووٹنگ کے طریقہ کار کے بارے میں استفسار کر رہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT