Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / ایک فرض شناس جج کی حق گوئی

ایک فرض شناس جج کی حق گوئی

غضنفر علی خان
مالیگاؤں میں 2006 ء کے بم دھماکوں کے مقدمہ میں 8 ملزمین کو بری کردیا گیا ۔ خصوصی قومی تحقیقاتی ایجنسی کی عدالت کے فاضل جج وی وی پاٹل نے اپنے فیصلہ میں نہ صرف ان رہا شدہ 8 ملزمین کو تمام الزامات منصوبہ سے بری کردیا ہے بلکہ مہاراشٹرا کی اے ٹی ایس پر یہ ریمارک بھی کیا ہے کہ اس کے عہدیداروں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور جو الزامات ملزمین پر لگائے تئے تھے ان کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ یہ تو ہوئی بات ملزمین کے بری ہونے کی ۔ اصل بات کا تعلق جج کے اس ریمارک کا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مسلمان کے ہاتھوں اپنے مسلم بھائیوں کا قتل ناممکن بات ہے ۔ جسٹس پاٹل نے فیصلہ میں اپنے اس خیال کو واضح انداز میں بڑی جراء ت اور بیباکی سے ظاہر کیا ہے۔ مالیگاؤں کی حمیدہ مسجد کے باہر واقع ایک قبرستان میں ہوئے اس دردک ناک حادثہ میں 37 افراد شہید ہوئے تھے اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ یہ دلخراش واقعہ شب برات کے موقع پر ہوا ۔ شب برات کے بارے میں یہ مستند ہے کہ اس شب پر مسلمان اپنی درازی عمر ، وسعت رزق اور اپنی مغفرت کے لئے خالق کائنات سے گڑگڑا کر دعائیں مانگتا ہے ۔ خواہ سال بھر ایک عام مسلمان کا عمل کچھ رہا ہو لیکن شب برات کو وہ پاک و صاف لباس زیب تن کر کے اللہ کے گھر پہنچ کر صرف عبادت اور دعائیں کرتا ہے ۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی کا الزام تھا کہ محمدیہ مسجد سے متصل قبرستان میں جو بم دھاکہ ہوا تھا وہ دراصل مسلمانوں کی جانب سے دونوں فرقوں میں منافرت پیدا کرنے کی ایک کوشش تھی ۔ ہمیشہ کی طرح مالیگاؤں بم دھماکہ میں بھی تحقیقات کرنے والی ایجنسی نے گھنٹوں منٹوں ممیں یہ قیاس کردیا تھا کہ واردات میں شرپسند مسلمان مبینہ طور پر ملوث ہیں ۔ کارروائی کے دوران بلا امتیاز مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ 2006 ء سے 2016 ء تک یہ مقدمہ چلتا رہا گویا دس سال کی طویل مدت تک وہ مسلم نوجوان جن کو جرم کی پاداش میں ماخوذ کیا گیا تھا جیلوں میں اپنے ناکردہ گناہ کی سزا کاٹتے رہے۔ عمر کے دس سال بڑا عرصہ سمجھتا ہے اور ان حالات میں جبکہ 10 سال بعد عدالت یہ کہہ کر انہیں رہا کردے کہ ان کے خلاف ٹھوس ثبوت نہیں ہے تو انہیں عمر گزشتہ کے دس سال حکومت سے واپس طلب کرنے کا حق ہو جاتا ہے ۔ عمر گزشتہ تو واپس نہیں ہوسکتی البتہ انہیں مالی اور معاشی طور پر مدد پہنچاکر ان کے زخموں کو کسی حد تک مندمل کیا جاسکتا ہے ۔

فاضل جج نے غیرمعمولی جراء ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب یہ کہا کہ اگر ملزمین (جو اب آزاد ہیں اور بری ہوئے ہیں) مذہبی منافرت پیدا کرنے کیلئے دھماکے کئے تھے تو ان کیلئے گنیش وسرجن کا موقع بھی تھا۔ اگر وہ چاہتے تو وسرجن کے دن خون خرابہ کرسکتے تھے۔ عین شب برات کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماع میں ایک مسجد کے قریب دھماکہ کرنے کی انہیں کوئی ضرورت نہ تھی۔ جسٹس موصوف نے یہ بھی کہا کہ ’’مسلمان کے ہاتھوں اپنے مسلم بھائیوں کا قتل وہ ایسے مقدس موقع پر بالکلیہ طریقہ پر ناممکن بات ہے‘‘۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ بالآخر کون اس دردناک دھماکہ کا ذمہ دار ہے اس لئے جسٹس پاٹل بین السطور یہ بات کہہ دی کہ جن مسلمانوں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا تھا وہ بم دھماکے کے مجرم نہیں ہیں۔ رہا مسلمانوں کے ہاتھوں دوسرے مسلم بھائیوں کے قتل کا مسئلہ تو جسٹس پاٹل نے یہ بات موقع واردات کے پس منظر میں بھی کہی ہے۔ عفو و در گزر ، مغفرت اور رحمت کی طلب کی رات کیسے کوئی مسلمان اپنے مسلم بھائیوں کا قتل کرسکتا ہے ۔ یہ ناممکن ہے۔ ہمارے عدلیہ میں ابھی حق گو اور بیباک لوگ شامل ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان ہی صاف ستھرے اور مقبولیت پسند ذہنوں کی وجہ سے نظام عدلیہ کا وقار عوام میں برقرار ہے۔ عدلیہ قابل تعریف ہے کہ جب کبھی ایسے مواقع آئے ہیں جہاں دونوں فرقوں کے درمیان کے معاملہ میں عدلیہ کو انصاف کرنا پڑتا ہے تو وہ پوری عدل گستری کا مظاہرہ کرتا ہے جس کا اعلیٰ ترین نمونہ این آئی اے کی عدالت کے جج جسٹس پاٹل نے قائم کی ہے ۔ یہ کوئی جذباتی بات نہیں تھی۔ کسی جج کیلئے شخصی جذبات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ جج کو تو حالات اور شہادتوں کے ترازو میں ہر بات تولنی اور سمجھتی پڑتا ہے ۔ یہاں جذبات کا سوال نہیں اٹھتا۔ یہ بات اس لئے بھی کہی جارہی ہے کہ مہاراشٹرا کے موجودہ مکدر اور فرقہ پرست ماحول میں ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ جسٹس پاٹل پر بلا ضرورت تنقید بھی کریںگے لیکن وہ جو راہ حق کے مسافر ہوتے ہیں وہ جانتے ہیںکہ یہ پرخار راستہ ہے ، یہاں صرف کانٹے ہی کانٹے ہوتے ہیں ۔ جسٹس پا ٹل بھی اس سچائی سے واقف ہیں، انہیں معلوم ہے کہ فرقہ پرست عناصر ان سے کیسا رویہ اختیار کرے گی۔

فرقہ پرست جو چاہے کریں اور کہیں لیکن ملک میں حق و انصاف کا ساتھ دینے والوں کی تعداد میں زیادہ ہے سیکولر طاقتیں ۔ بہ آواز بلند کہہ سکتیں ہیںکہ جسٹس موصوف نے حق گوئی سے کام لیا جائے۔ 8 بے گناہوں کو بری کرنا اور ایسا کر نے کی قانونی وجوہ پیش کرنا کسی معمولی شخص کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ان کی نظر میں 8 ستمبر 2006 ء کو ہوئے دھماکوں کے پس منظر کا جو خاکہ اے ٹی ایس نے کھینچا ہے وہ بنیادی طور پر غلط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی اسے قبول نہیں کرسکتا ۔ ان کا مشاہدہ ہے کہ مالیگاؤں میں شب برات سے پہلے گنیش وسرجن جلوس نکالا گیا تھا ۔ اگر مسلمانوں کو دھماکے کرنے ہوتے تو وہ گنیش جلوس کے موقع پر کرتے، ان کا مطلب یہ تھا کہ کیوں مسلمان اپنے مذہبی موقع پر خود اپنی مسجد میں دھماکہ کر کے خود اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو قتل کرتے۔ حالانکہ وسرجن کا موقع ان کے پاس تھا۔ صاف ظاہر ہیکہ جسٹس پاٹل اے ٹی ایس کی تحقیقات اور ان سے متعلق دستاویزات سے قطعی مطمئن نہیں تھے ۔ جن 8 مسلم نوجوانوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا ، ان کے خلاف قانونی کارروائی ٹھوس بنیادیں نہیں تھیں۔ ملزمین کا مجرمانہ پیش نظر گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے کافی نہیں تھا ۔ اے ٹی ایس کے عہدیداروں نے انتہائی غفلت اور لاپرواہی سے الزامات وضع کئے تھے ۔ یہ بات دیگر اس قسم کے مقدمات کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے ۔ گجرات کے مسلم کش فسادات تو واقعات اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی کی منہ بولتی تصویر بن گئے ہیں ۔ مکہ مسجد بم دھماکہ میں بھی یہی ہوا تھاکہ بے گناہ لوگوں کو اس طرح قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا جس طرح مالیگاؤں میں کیا گیا ۔ جسٹس پاٹل نے ایک نئی راہ کھول دی ہے۔ حق و انصاف کی جنگ جب تک چلے گی اس وقت تک انصاف پسند ججس اپنی جراء ت کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ جسٹس پاٹل نے انصاف پسندی کی ایک ایسی مثال قائم کی ہے جو مدتوں یاد رہے گی اور جب تک یاد رہے گی انصاف پسندوں کی تعریف و توصیف کا سلسلہ بھی جاری رہے گا ۔ منہ دیکھی بات کہنا تو سب ہی کو آتا ہے لیکن تلخ حقائق کو سمجھنے اور پرکھنے کے بعد حق گوئی سے کام لینے کیلئے بڑ ے جگر کی ضرورت ہوتی ہے جو جسٹس پاٹل میںموجود ہے۔ ان کا یہ ریمارک لائق صد آفرین ہے۔

TOPPOPULARRECENT