Tuesday , July 25 2017
Home / Top Stories / ایک ماہ طویل دورہ ایشیاء پر شاہ سلمان کی جاپان آمد

ایک ماہ طویل دورہ ایشیاء پر شاہ سلمان کی جاپان آمد

سعودی صرف تیل کی فروخت پر انحصار کرنا نہیں چاہتا، سعودی تجارتی وفد کا دس طیاروں میں سفر
ٹوکیو ۔ 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شاہ سلمان اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں تجارتی قائدین اس وقت جاپان میں ہیں، جہاں وہ جاپانی قیادت کے ساتھ معاشی تعلقات پر مرکوز بات چیت میں حصہ لیں گے۔ یاد رہیکہ گذشتہ 46 سالوں میں سعودی کے کسی بھی شاہ کا یہ پہلا دورہ ہے حالانکہ حالیہ دنوں میں شاہ سلمان نے بحیثیت ولیعہد جاپان کا دورہ کیا تھا۔ سعودی عرب جاپان کو خام تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ جاپان مشرق وسطیٰ سے جتنا تیل درآمد کرتا ہے اس کا تہائی حصہ سعودی عرب سے خریدا جاتا ہے۔ سعودی عرب اب صرف تیل کی آمدنی پر انحصار نہ کرتے ہوئے اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے علاوہ دوسرے شعبوں پر بھی توجہ مرکوز کرتے ہوئے تیل پر سے اپنا پورا انحصار کم کرنا چاہتا ہے اور اسی سلسلہ میں شاہ سلمان ایشیاء کے ایک ماہ طویل دورہ پر ہیں تاکہ مملکت میں تجارتی رجحان کو فروغ دیتے ہوئے معیشت کو مستحکم کیا جائے۔ دریں اثناء جاپان کے چیف کابینی سکریٹری یوشی ہیدے سوگا نے آج اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جاپان مشرق وسطیٰ میں معاشی طاقت کو مضبوط کرنے اپنا بھرپور تعاون کرنے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترقی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے جس میں ہمارا سعودی ویژن 2030ء بھی شامل ہے۔ یہ ایک ایسا روڈمیاپ ہے جسے گذشتہ سال سعودی عرب نے مملکت کے فروغ اور ترقی کیلئے تیار کیا تھا۔ البتہ انہوں نے ان رپورٹ کی توثیق نہیں کی کہ سعودی عرب میں مختلف ممالک خصوصی معاشی زون قائم کرنے تیار ہیں۔ شاہ سلمان نے جاپان کے زیرخارجہ فومیو کشیدہ سے ملاقات کی اور بعدازاں وزیراعظم شینزوابے سے ملاقات بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے۔ یہ رپورٹس بھی مل رہی ہیں کہ جاپان سعودی کی ملکیت آرامکو تیل کمپنی جسے جزوی طور پر خانگیانے کا کام مکمل ہوچکا ہے، سے اس بات کا خواہاں ہے ٹوکیو اسٹاک ایکسچینج میں بھی آرامکو حصص بردار بن جائے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ علحدہ طور پر سعودی عرب کی دولت اور جاپان کی ٹیلیکام اور توانائی کی کمپنی سافٹ بینک نے باہمی تعاون سے 25 بلین ڈالرس کا ایک خانگی فنڈ بھی قائم کیا ہے جو ٹیکنالوجی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کیلئے کام آئے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ سال تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے بعد کاروبار بھی مندی کا شکار رہا۔ 2016ء میں جاپان نے سعودی عرب سے 2.1 کھرب ین (18.6 بلین ڈالرس) تیل اور گیس کی خریداری میں صرف کئے تھے۔ سعودی عرب سے مندوبین جملہ 10 طیاروں کے ذریعہ کل جاپان پہنچے تھے۔ عہدیداروں کاکہنا ہیکہ شاندار ہوٹلس اور شاندار کاریں کرائے پر دینے والوں کا کاروبار آئندہ چار دنوں تک عروج پر ہوگا کیونکہ مندوبین کی کثیر تعداد کیلئے اطمینان بخش میزبانی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ شاہ سلمان جاپان کے بعد انڈونیشیاء اور ملائشیا روانہ ہوں گے۔ علاوہ ازیں برونائی، چین اور مالدیپ کا دورہ بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT