Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / ایک ملک کیلئے دہشت گرد دوسرے ملک کیلئے شہید نہیں ہوسکتا

ایک ملک کیلئے دہشت گرد دوسرے ملک کیلئے شہید نہیں ہوسکتا

NEW DELHI, AUG 5 (UNI)- A TV grab shows Union Home Minister Rajnath Singh speaking at Rajya Sabha on his latest Pakistan visit to participate in a Convention of Home Ministers of SARCC countries, in New Delhi on Friday. UNI PHOTO-2U

وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا پارلیمنٹ میں بیان، سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے دورۂ پاکستان کے بعد ردعمل

نئی دہلی۔5 اگست (سیاست ڈاٹ کام) برہان وانی واقعہ کے پس منظر میں ہندوستان نے پاکستان سے کہہ دیا کہ ایک ملک کے لئے دہشت گرد، دوسرے ملک کے لئے شہید نہیں ہوسکتا اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی سارک کنونشن مجرمانہ واقعات کی باہمی مدد کے سلسلہ میں ایک سارک دہشت گرد جرائم نگرانکار ڈیسک قائم کرے گا۔ راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں اپنے دورۂ پاکستان کے بارے میں از خود بیان دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ انہوں نے دہشت گردی کو تقدیس فراہم کرنے والے سارک ارکان سے کہہ دیا ہے کہ وہ اس کی سرپرستی نہ کریں۔ ایک ملک کے لئے دہشت گرد اور دوسرے ملک کیلئے شہید یا کسی کے لئے بھی مجاہد آزادی نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ موثر اقدامات کئے جانے چاہئیں تاکہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو مقدموں اور سزائوں سے بچنے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہشت گرد بشمول لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور جیش محمد کے مسعود اظہر جو ہندوستان کو مطلوب ہیں، پاکستان میں روپوش ہیں۔ پاکستان نے حال ہی میں حسب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی کشمیر میں فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد انہیں شہید اور مجاہد آزادی قراردینے پر ہندوستان کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔

راجناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے ابھی تک سارک کنونشن برائے مجرمانہ معاملات کی باہمی امداد کی منظوری نہیں دی ہے۔ پاکستان اب بھی اپنے اتفاق رائے سے سارک کو مطلع کرنے سے قاصر رہا ہے کہ دہشت گردی اور منشیات جرائم کا نگرانکار ڈیسک قائم کیا جانا چاہئے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان جتنی جلد ان مسائل پر کارروائی کرے اتنا ہی اچھا ہوگا۔ انہوں نے امید اور خواہش ظاہر کی کہ جلد ہی کارروائی کی جائے گی۔ راجناتھ سنگھ نے اپنی تقریر کے بارے میں پارلیمنٹ کو بتایا جو انہوں نے اسلام آباد میں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمام رکن ممالک جنہوں نے سارک کنونشن برائے باہمی امداد مجرمانہ مسائل کی منظوری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی دہشت گردی اور بری دہشت گردی میں فرق و امتیاز کرنے کی غلطی نہ کی جائے۔ ضروری ہے کہ تمام موثر اقدامات ان سرکاری یا غیر سرکاری افراد کے خلاف کئے جائیں جو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی یا اس کی تائید کررہے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، سخت کارروائی دہشت گردوں کے خلاف شروع کی جانی چاہئے

لیکن افراد، تنظیموں، اداروں اور ممالک کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے جو دہشت گردی کی تائید کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرکے انہیں ان کے متعلقہ ممالک کی تحویل میں دے دینا چاہئے تاکہ وہ قانون کا سامنا کرسکیں۔ راجیہ سبھا میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ایوان میں دہشت گردی جیسے سنگین مسائل پر جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اس سے نہ صرف ایوان کے بلکہ ملک کے اتحاد کی عکاسی ہوتی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ سارک کے ایجنڈے کی تکمیل کے نمایاں موضوعات میں دہشت گردی، نشہ آور ادویہ کی غیر قانونی منتقلی، سائبر جرائم اور انسانی بردہ فروشی شامل تھے۔ شرکت کرنے والے ممالک نے دہشت گردی اور اس کی تمام توسیعات کی شدت سے مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ کے سلسلہ میں انہوں نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے کہ کسی بھی ملک کی جانب سے دہشت گردی کی تقدیس نہیں کی جانی چاہئے اور نہ اس کی سرپرستی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں کا احترام کیا جانا چاہئے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کرتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT