Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ایک کروڑ اراضی کو سیراب کرنے کے سی آر کا اعلان جھوٹ کا پلندہ

ایک کروڑ اراضی کو سیراب کرنے کے سی آر کا اعلان جھوٹ کا پلندہ

مسلم تحفظات پر بھی عوام کو گمراہ کیا گیا۔ صدر تلنگانہ پی سی سی اتم کمار ریڈی
حیدرآباد 17 اگسٹ (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے تلنگانہ میں ایک کروڑ ایکر اراضی کو پانی سیراب کرنے کے اعلان کو جھوٹ کا پلندہ قرار ددیا۔ 2014 ء تک 98.47 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کی حکمت عملی تیار ہوجانے اور کانگریس کی جانب سے 30 آبپاشی پراجکٹس کے کام شروع ہوجانے کا دعویٰ کیا اور کہاکہ کمیشن اور کنٹراکٹ کے ذریعہ ہزاروں کروڑ روپئے کا غبن کرنے کا الزام عائد کیا۔ آج کانگریس سے آبپاشی پراجکٹس پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری و انچارج تلنگانہ کانگریس اُمور مسٹر ڈگ وجئے سنگھ، انچارج سکریٹری مسٹر آر سی کنٹیا، ایس سی سیل کے قومی صدر مسٹر کے راجو، قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر، مسٹر ایس جئے پال ریڈی، محمد خواجہ فخرالدین، مسٹر سید عظمت اللہ حسینی، مسز عظمیٰ شاکر، محمد جاوید ، جابر پٹیل، عتیق صدیقی، صدر گریٹر دیگر قائدین موجود تھے۔ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ ریاست تلنگانہ میں جملہ 2 کروڑ 83 لاکھ ایکر اراضی ہے

جس میں صرف ایک کروڑ 11 لاکھ ایکر اراضی پر ہی کاشت ہوسکتی ہے۔ حیدرآباد اسٹیٹ میں 4 لاکھ ایکر اراضی پر کاشت ہوا کرتی تھی۔ کاکتیہ دور، آصفیہ دور اور نظام کے دور حکومت میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ 2004 ء تک ریاست کے حکمرانوں نے کوشش سے 47 لاکھ ایکر اراضی کو پانی سیراب کیا جارہا تھا۔ 2004 ء میں کانگریس 2014 ء تک 30 آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات سے 51.47 لاکھ ایکر اراضی کو پانی سربراہ کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے تعمیری کاموں کا آغاز کیا گیا۔ اس طرح ریاست میں 98 لاکھ ایکر اراضی کو پانی سربراہ کرنے کا منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔ کانگریس کے دور میں شروع کردہ تمام پراجکٹس کے 80 تا 90 فیصد کام مکمل ہوچکے ہیں۔

صرف 18 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے پر تمام پراجکٹس مکمل ہوسکتے ہیں۔ مگر ان پراجکٹس کا اعزاز کانگریس کو جانے کے خوف سے چیف منسٹر کے سی آر نے ان پراجکٹس کے کاموں کو زیرالتواء رکھا ہے۔ صرف 13 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے لئے تلنگانہ حکومت کی جانب سے دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے کے ٹنڈرس طلب کئے۔ جس طرح دلت کو چیف منسٹر بنانے اور مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے معاملہ میں چیف منسٹر جھوٹ بولا ہے۔ اس طرح ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے معاملہ میں جھوٹ بولا ہے۔ پراجکٹس کی ری ڈیزائننگ کے نام پر پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کی قیمت کو 35 ہزار کروڑ سے 85 ہزار کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔ نظام دور کی اراضیات کے علاوہ سرکاری اراضیات کو فروخت کرتے ہوئے پراجکٹس کی ری ڈیزائننگ کی جارہی ہے۔ علیحدہ تلنگانہ کے حصے میں 69 ہزار کروڑ روپئے کا قرض آیا تھا۔ صرف ڈھائی سال میں ٹی آر ایس حکومت نے تلنگانہ کے قرض میں دوگنا اضافہ کردیا ہے۔ انھوں نے کانگریس کی جانب سے تعمیر کردہ آبپاشی پراجکٹس اور زیرالتواء پراجکٹس کی تفصیلی رپورٹ پیش کی اور صرف 13 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے لئے دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کا چیف منسٹر تلنگانہ پر الزام عائد کیا ۔

TOPPOPULARRECENT