Saturday , June 24 2017
Home / اداریہ / ایک کھلا اسکام…

ایک کھلا اسکام…

اک پیار ہی وہ تلخ حقیقت ہے جہاں میں
انکار کے پردے میں بھی اقرار کرے ہے
ایک کھلا اسکام…
تلنگانہ راشٹرا سمیتی حکومت کو میاں پور اراضی اسکام پر اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے میں تامل ہورہا ہے تو اس سے مزید کئی شبہات پیدا ہوں گے۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی صاف ستھری حکمرانی پر اُنگلیاں اُٹھیں گی۔ اراضی اسکام کا واویلا کھڑا کرنے والی اپوزیشن یہ وضاحت چاہتی ہے کہ آخر شہر کے مضافات میں بڑے پیمانہ پر سرکاری اراضی کو ہڑپ لینے کا اسکام حکومت کی علم و اطلاع کے بغیر کس طرح ہوسکتا ہے۔ عام خیال یہ پیدا ہورہا ہے کہ حکمراں طبقہ کے لوگوں نے مل کر سرکاری اراضیات پر ہاتھ صاف کیا ہے۔ کانگریس، بی جے پی، تلگودیشم اور سی پی ایم کے علاوہ جے اے سی سربراہ کودنڈا رام نے میاں پور اراضی اسکام پر چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی خاموشی کو نشانہ بنایا ہے۔ 632 ایکڑ پر مشتمل 15000 کروڑ لاگتی اراضی کا اسکینڈل حکومت کی شبیہہ کو مشکوک بنادیتا ہے تو ٹی آر ایس کو آنے والے اسمبلی انتخابات تک اپنی صفائی کی تیاری کرنی پڑے گی۔ کے سی آر کی 3 سالہ حکمرانی کو اسکینڈلس سے بھرا ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے تلگودیشم قائدین نے چیف منسٹر پر رشوت خوروں اور مجرموں کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا۔ اپوزیشن حلقوں میں شدت کے ساتھ یہ مطالبہ ہورہا ہے کہ چیف منسٹر اس اسکام کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیں۔ بڑے اسکام کے رونما ہونے کے باوجود ان کی زبان خاموش ہے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ اتنا بڑا اسکام حکمراں پارٹی کے قائدین کے ملوث ہوئے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ کے سی آر کو اپنا اعتبار اور صاف ستھرے امیج کے حق میں اسکام کے بارے میں وضاحت کرنی چاہئے۔ بی جے پی نے سنگین نتائج کی بھی دھمکی دے دی ہے۔ اس سنسنی خیز میاں پور اراضی اسکام کی تحقیقات اور میڈیا رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی قائدین کا مبینہ رول رہا ہے۔ اسکام نے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اراضی کی خریداری سے متعلق جن معاملوں اور دستاویزات کو سامنے لایا جارہا ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سرکاری اراضی کو ہڑپنے کے لئے متبادل ناجائز طریقہ اختیار کئے گئے تھے۔ اگرچیکہ ٹی آر ایس کے اہم قائدین کے نام منظر عام پر لائے گئے ہیں مگر ان میں سچائی کو تلاش کرنے والوں کو مایوسی بھی ہورہی ہے۔ جن قائدین کو ملوث بتایا جارہا ہے انھوں نے اپنے سیاسی کیرئیر پر داغ آنے نہیں دیا ہے۔ اب مسئلہ چونکہ بہت بڑی رقم والی اراضی کا ہے تو یہ اسکام حکمراں طبقہ کے ذمہ داروں کی ناک کے نیچے ہی ہوا ہے۔ مگر جس اراضی اسکام میں ٹی آر ایس کے اہم لیڈر کے نام کو گھسیٹا گیا ہے آخر یہ نام ظاہر کس نے کیا۔ یہ بھی ایک معمہ ہے کیوں کہ چیف منسٹر کے دفتر کے سوا اسکام میں ملوث افراد کے نام معلوم نہیں ہوسکتے۔ مگر بہ یک وقت مقامی میڈیا کو اسکام میں ملوث ٹی آر ایس لیڈر کا نام کس طرح حاصل ہوا۔ یہ حیران کن بات نہ سہی حکمراں پارٹی کے اندر پائی جانے والی ناراضگیوں کو عیاں کرتی ہے۔ سی ایم او ذرائع کے حوالے سے یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ ٹی آر ایس کے اعلیٰ قائدین اسکام میں ملوث بتائے گئے۔ ٹی آر ایس لیڈر سے خوش نہیں ہیں۔ جو اکثر چیف منسٹر اور ان کے ارکان خاندان کے خلاف منفی تبصرے کرتے رہتے ہیں۔ ٹی آر ایس سے وابستگی رکھنا اور ٹی آر ایس کے وفادار ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ ریاست میں جہاں مختلف سیاسی مراکز کا وجود عمل میں آرہا ہے تو آئندہ دو سال کے دوران حکمراں پارٹی کو بدنام کرنے کے بعد بھی ہتھکنڈے آزمائے جائیں گے۔ میاں پور اراضی اسکام کو لے کر ٹی آر ایس کے جن قائدین پر شبہات پیدا کئے گئے ہیں اُنھیں آئندہ انتخابات سے دور رکھنے کی بھی ایک درپردہ کوشش ہوسکتی ہے۔ پارٹیوں میں دل بدلی اور نئے سیاسی آقاؤں کی تلاش کا عمل کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اگر کانگریس، تلگودیشم یا کسی اور پارٹی کو چھوڑ کر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین آئندہ پھر سے اپنی اپنی پارٹیوں میں واپس جانا چاہتے ہیں تو کچھ نہ کچھ سیاسی چالیں منظر عام پر آئیں گی۔ بہرحال میاں پور اراضی اسکام کے حوالے سے حکمراں پارٹی اور اس کے قائدین کو کیا سیاسی قیمت چکانی پڑے گی یہ آئندہ انتخابات ہی بتائیں گے۔ فی الحال سیاسی بلیک میلنگ کے ذریعہ ایک بڑی سرکاری اراضی کے اسکام کو وقت کے ساتھ دبایا جاتا ہے تو یہ تلنگانہ عوام کے سامنے ایک کھلی دھاندلی والا کیس ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT