Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ایک ہزار پر 900 روپئے، شمس آباد میں لوٹ مار کا بازار

ایک ہزار پر 900 روپئے، شمس آباد میں لوٹ مار کا بازار

عوام کو شدید مشکلات، غریب افراد بے یار و مددگار
شمس آباد ۔ 12 نومبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے پانچ سو اور ایک ہزار کی نوٹوں کا چلن بند ہونے سے ہر ایک شخص کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دو دنوں سے کاروباری ادارے کافی متاثر ہوئے ہیں۔ عوام صرف بینکوں کی قطار میں ہی نظر آئے۔ سڑکیں بھی سنسان ہی تھے۔ مقامی افراد نے اپنے اپنے آدھار کارڈ زیراکس دیگر چار ہزار روپئے تبدیل کرلئے لیکن امروہہ، اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ و دیگر ریاستوں سے یہاں کام کرنے آنے والے افراد کو کافی مشکلات پیش آئی۔ انہیں چلر کیلئے 500 روپئے کے بدلے 400 اور 1000 کے بدلہ900  روپئے دیئے گئے۔ 100 روپئے کی قلت غریب عوام کو آج سمجھ میں آ گئی۔ غرباء کے ساتھ ساتھ لکھ پتی اور کروڑپتی بھی 500 اور 1000 روپئے کے نوٹس رکھتے ہوئے بھی مجبور نظر آئے۔ تقریباً بینکس میں آج عوام صبح 7 بجے سے قطار میں کھڑے نظر آئے اور شام 6 بجے تک بھی عوام بینکوں میں نظر آئے۔ زائد کاؤنٹرس نہ ہونے سے بھی عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پوسٹ آفس میں 2 بجے کے بعد سے رقم کی تبدیلی کی گئی جہاں پر بھی عوام کا ہجوم دکھائی دیا۔ حکومت کے اس اچانک اقدام سے ہر شخص متاثر ہورہا ہے۔ کرانہ دکان پر عوام کو مجبوراً 500 یا 1000 روپئے کی خریدی کرنی پڑ رہی ہے۔ چلر نہ ہونے کے بہانے سے دکاندار بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تقریباً ہر مقام پر 500 اور 1000 روپئے لینے سے انکار کردیا گیا۔ برقی بلز کی ادائیگی کیلئے 500 کے نوٹس حاصل کئے گئے۔ اس کے علاوہ صرف پٹرول پمپس پر 500 روپئے پٹرول ڈالنے پر ہی نوٹ کو قبول کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT