Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ای این ٹی دواخانہ میں مریض علاج سے قاصر

ای این ٹی دواخانہ میں مریض علاج سے قاصر

آروگیہ شری اسکیم کے مریضوں کو کئی ماہ کا انتظار ، انتظامیہ کی پہلوتہی
حیدرآباد۔ 13 ستمبر (سیاست نیوز) ای این ٹی (کان، ناک، حلق) دواخانہ میں معمولی علاج بھی نہیں ہورہا ہے۔ سماعت سے محروم اور ناک کی بیماری میں مبتلا افراد کیلئے سرجری ضروری ہوتی ہے اور یہ سرجری خانگی دواخانوں میں کافی مہنگی ہے جس کی وجہ سے غریب اور درمیانی طبقہ کے مریض ای این ٹی سرکاری دواخانہ کوٹھی سے رجوع ہوتے ہیں۔ بغیر خرچ کے آروگیہ شری اسکیم کے تحت علاج کے مریضوں کو لے کر معمولی علاج کیلئے بھی چار تا چھ ماہ کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ دواخانہ میں اعلیٰ عہدیداروں کی عدم نگرانی اصل وجہ ہے۔ دواخانہ کے آؤٹ پیشنٹ شعبہ میں روزانہ عام طور سے 1300 تا 1500 مریض رجوع ہوتے ہیں۔ 125 بستروں پر مشتمل اس دواخانہ سے عام طور پر کان، ناک اور حلق کی بیماریوں میں مبتلا افراد علاج کیلئے رجوع ہوتے ہیں مگر دواخانہ میں معمولی بیماریوں کے علاج کیلئے بھی چار تا چھ ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ صبح 5 بجے سے آؤٹ پیشنٹ کارڈس حاصل کرنے کھڑے ہوکر او پی کارڈ حاصل ہونے کے بعد او پی میں علاج کیلئے جائیں تو وہاں سینئر ڈاکٹرس غیرحاضر رہتے ہیں جبکہ سینئر ڈاکٹر صبح 10:30 بجے کے بعد ہی او پی میں حاضر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جونیر ڈاکٹرس کے ذریعہ ہی علاج کروانا پڑتا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً او پی اور آئی پی کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لینے کے بجائے دواخانہ کے سپرنٹنڈنٹ اور آر ایم اوز صرف اپنے دفتروں تک محدود ہوگئے ہیں۔ پیدائشی طور پر سماعت سے محروم چھوٹے بچوں کو کاکلئیر امپلانٹیشن ضروری ہوتا ہے۔ آروگیہ شری اور ایمپلائز ہیلتھ اسکیم مریضوں کو ڈاکٹرس رازدارانہ طور پر اپنے ذاتی کلینکس سے دواخانہ میں سرجری کیلئے کئی ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایکسرے کیلئے بھی دو تین دن انتظار کرنا پڑتا ہے اور سرجری سے پہلے ٹیسٹ کو دواخانہ کے لیابس میں نہیں بلکہ باہر کرانا پڑتا ہے۔ او پی کارڈس کیلئے چار تا پانچ گھنٹے لمبی قطاروں میں انتظار کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے جو قابل تشویش عمل ہے۔ میاں پور کی رہنے والی سریتا نامی ایک مریضہ نے کہا کہ ناک میں ورم کی وجہ سے سخت تکلیف ہورہی ہے جس کی وجہ سے دو ماہ قبل دواخانہ سے رجوع ہوئی تھی، ڈاکٹرس نے مرض کی تشخیص کرنے کے بعد سرجری کو لازمی قرار دیتے ہوئے چار ماہ بعد رجوع ہونے کا حکم دیا اور وقتی طور پر دوائیں تجویز کی گئیں اور دو ماہ سے دوائیں استعمال کرنے کے باوجود درد میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ میں نے ڈاکٹرس سے تکلیف کے بارے میں بتانے کے باوجود انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ ونستھلی پورم کی رہنے والی اننت لکشمی نے کہا کہ کان میں شدید درد کی وجہ سے میں نے دواخانہ سے رجوع کیا۔ ڈاکٹرس نے معائنہ کے بعد ادویہ اور ایئر ڈراپس کے استعمال کی تجویز کرکے ایک ہفتہ کی دوائیں لکھ کر دیں مگر فارمیسی میں صرف تین دن کی دوائیں دے کر ایئر ڈراپس باہر سے خریدنے کیلئے کہا گیا۔ دیورکنڈہ کے رہنے والے پدیا نے کہا کہ ہمارا بچہ دو دن سے شدید کان کے درد میں مبتلا ہوکر رو رہا ہے۔ صبح 8:30 بجے سے او پی کارڈ کے حصول کیلئے لائن میں کھڑا رہا اور 10:30 بجے میری باری آتے ہی او پی کاؤنٹر کا وقت ختم ہونے پر فوری تالا لگا دیا گیا اور بچہ کو شدید تکلیف ہونے کی بار بار شکایت کرنے کے باوجود او پی کارڈ جاری نہیں کیا گیا بلکہ او پی روم کو ہی تالا لگا دیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT