Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / ای وی ایم چیلنج کی 3 جون سے شروعات: الیکشن کمیشن

ای وی ایم چیلنج کی 3 جون سے شروعات: الیکشن کمیشن

ووٹنگ مشینوں پر شک کرنے والوں نے ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا،ای وی ایم کا انٹرنل سرکٹ بدلنا ممکن نہیں، نسیم زیدی کا ادعا

نئی دہلی 20 مئی (سیاست ڈاٹ کام) الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو بگاڑا جاسکتا ہے، یہ بات ثابت کرنے کا چیلنج 3 جون کو شروع ہوگا، الیکشن کمیشن نے آج یہ اعلان کرتے ہوئے ادعا کیاکہ یہ مشینیں بگاڑ سے محفوظ ہیں۔ یہ اعلان ایک ہفتہ بعد سامنے آیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے سیاسی پارٹیوں کو کھلی دعوت دی تھی کہ حالیہ اسمبلی چناؤ میں استعمال شدہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کو ثابت کریں۔ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ 3 جون سے ای وی ایم چیلنج شروع ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ جو لوگ ای وی ایم پر بھروسہ نہیں کررہے ہیں اُنھوں نے اپنے دعوے کی تائید میں ابھی تک کوئی قابل اعتبار یا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ زیدی نے کہاکہ ای وی ایم کا انٹرنل سرکٹ بدلنا ممکن ہی نہیں۔ ہمارے ای وی ایمس طاقتور ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں اور بگاڑ سے محفوظ بھی ہیں۔ زیدی نے عام آدمی پارٹی کے دعوے کو مسترد کردیا کہ ای وی ایمس میں بگاڑ پیدا کی جاسکتی ہے اور کہاکہ اِن مشینوں میں کچھ بھی اُلٹ پھیر ممکن نہیں ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہاکہ انتخابی عمل میں بہتری لانے کی ذمہ داری تمام متعلقین کی ہے اور ای سی اِس ضمن میں تمام ضروری اقدامات کررہا ہے۔ کئی بڑی اپوزیشن پارٹیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اِن مشینوں پر عوام کا بھروسہ ختم ہوچکا ہے۔ بی ایس پی اور عام آدمی پارٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور، گوا اور پنجاب میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں استعمال شدہ مشینوں میں اُلٹ پھیر کی گئی اور بی جے پی کے حق میں نتائج برآمد کئے گئے۔ بعدازاں کئی دیگر پارٹیاں بھی اِس الزام آرائی میں شامل ہوئیں اور الیکشن کمیشن سے پیپر بیالٹس کے طریقے کو دوبارہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ کمیشن پہلے ہی اعلان کرچکا ہے کہ وہ لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے لئے مستقبل کے تمام انتخابات میں ووٹنگ کے لئے کاغذ کے استعمال کو یقینی بنائے گا۔

TOPPOPULARRECENT