Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / ای ڈی نوٹس ملتے ہی شاہ رخ خان بدل گئے

ای ڈی نوٹس ملتے ہی شاہ رخ خان بدل گئے

عدم رواداری پر ایوارڈس واپس کرنے والے جاہل، میناکشی لیکھی
نئی دہلی ۔ 4 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) شاہ رخ خان پر بی جے پی قائدین کی تنقیدوں کے بعد ایک اور پارٹی ایم پی میناکشی لیکھی نے آج یہ دعویٰ کیا ہیکہ انفورسٹمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کی نوٹس ملنے کے بعد فلم اداکار نے اس طرح کا تبصرہ کیا ہے۔ اس سے پہلے بی جے پی نے یوگی آدتیہ ناتھ کے ریمارک سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ میناکشی لیکھی نے ان تمام کو جنہوں نے ملک میں بڑھتی عدم رواداری کے خلاف ایوارڈس واپس کردیئے ’’جاہلوں‘‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ کانگریس کے دور میں ان تمام کی سرپرستی کی گئی تھی۔ میناکشی لیکھی نے آج ایک پروگرام سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ دنیا کو یہ بتانا چاہتی ہیں کہ شاہ رخ خان کو 26 اکٹوبر کو ای ڈی نوٹس ملی اور پھر یکم ؍ یا 2 نومبر کو ہندوستان عدم روادار بن گیا۔ جہاں تک عدم رواداری کا تعلق ہے یہ لوگ ناخواندہ ہیں اور انہیں یہ نہیں معلوم کہ کانگریس کے دوراقتدار میں ملک کی تاریخ کیا تھی۔ لیکھی نے کہا کہ اگر ای ڈی نوٹس نہ ہوتی تو پھر کیا وجہ ہے کہ شاہ رخ خان نے اس وقت کچھ نہیں کہا جب تسلیمہ نسرین کو ملک سے نکال دیا گیا اور جب سلمان رشدی کی کتاب پر امتناع عائد کیا گیا تھا۔ شاہ رخ خان کو 1984ء مخالف سکھ فسادات اور مرچ پور یا گوہانا واقعات پر بھی آواز اٹھانی چاہئے تھی۔

 

محض مسلمان ہونے پر نشانہ بنانے کی مخالفت : شیوسینا
ممبئی ۔ 4 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے بعض گوشوں کے تنقیدی حملوں کے شکار بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کو آج مہاراشٹرا میں حکمراں حلیف شیوسینا سے اس وقت تائید حاصل ہوگئی جب اس پارٹی نے کہا کہ شاہ رخ خان کو محض اس لئے نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے کہ وہ ایک مسلمان ہے اور یہ کہ ہندوستان میں اقلیتی طبقہ روادار ہے۔ شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ ’’یہ ملک روادار ہے اور مسلمان بھی روادار ہیں۔ شاہ رخ خان کو محض مسلمان ہونے کے سبب نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے‘‘۔ اس دوران فلم اداکار انوپم کھیر نے بھی شاہ رخ خان کے حافظ سعید سے تقابل پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ بی جے پی کے بعض ارکان کو اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT