Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / اے بی بردھن کا انتقال بائیں بازو کا ناقابل تلافی نقصان

اے بی بردھن کا انتقال بائیں بازو کا ناقابل تلافی نقصان

سید ولی اللہ قادری
3 جنوری کی صبح جب اخبار سیاست میں کامریڈ  اے بی بردھن کے انتقال کی خبر پڑھی تو آنکھوں میں اندھیرا چھاگیا ۔ حالانکہ یہ ایک روشن دن تھا ۔ چمکیلی دھوپ نکلی ہوئی تھی لیکن ایسا محسوس ہوا جیسے ہر طرف تاریکی چھاگئی ہو ۔ کمیونزم ایک تحریک ہے اور کوئی بھی تحریک شخصیات کی مرہون منت نہیں ہوتی ۔ شخصیات تحریک نہیں بناتیں بلکہ تحریک شخصیات تخلیق کرتی ہے۔ نظریئے اور اصول اپنی جگہ رہتے ہیں چاہے ان پر کوئی عمل پیرا رہے نہ رہے ۔ اے بی بردھن بائیں بازو کی نہیں بلکہ پرولتاری فلسفہ بردھن کی طاقت تھا ۔ لیکن بہرحال کامریڈ اردھیندو بھوشن بردھن کی کمیونسٹ تحریک کے لئے ناقابل فراموش ہیں اور رہیں گی ۔ وہ آنے والے دور کے اور موجودہ دور کے کمیونسٹوں کے لئے ایک مینارہ نور تھے اور رہیں گے ۔
وہ ایک منکسر المزاج شخص تھے ۔ اتنے کہ اپنے حریفوں کی تنقید بے جا کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرلیتے تھے لیکن اتنے بے لچک بھی تھے کہ اصولوں سے انحراف کو قطعی برداشت نہ کرتے تھے چاہے یہ منحرف پارٹی کا کوئی کارکن ہو یا کوئی قائد ۔ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے لئے ہمیشہ ایک سخت گیر کامریڈ تھے ۔ ان کے ساتھ طویل عرصہ تک کام کرنے والے سی پی آئی لیڈر اتل کمار انجان کا کہنا ہے کہ جتنے دن وہ ان کے ساتھ کام کرتے رہے ، وہ ان کے کیریئر کے سخن ترین دن تھے ۔ ان کے بقول بردھن کو کسی بھی موضوع پر صرف منطق اور حقیقت کی بنیاد پر ہی قائل کیا جاسکتا تھا ۔
وہ وسیع پیمانے پر ایک قابل احترام سیاست داں رہے ۔ ان کی مقبولیت انتخابی طاقت اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی توسیع سے ماورا تھی ۔ وہ 25 سپٹمبر 1924 کو برطانوی ہند کی بنگال پریسیڈنسی کے علاقہ باریسال (جو اب بنگلہ دیش میں ہے) میں پیدا ہوئے تھے ۔ انھوں نے 15 سال کی عمر میں جب وہ حصول تعلیم کے سلسلہ میں ناگپور منتقل ہوئے ، کمیونزم اختیار کیا ۔ ناگپور یونیورسٹی کے کل ہند وفاق برائے طلباء (آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن) کی 1940 میں رکن بنے ۔ انھوں نے یہیں سے معاشیات میں پوسٹ گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی اور نامور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) میں شامل ہوگئے ۔ جس پر ان دنوں امتناع عائد تھا ۔
انھوں نے مختلف شعبوں جیسے پارچہ بافی ، برقی ، ریلوے اور دفاع وغیرہ کے کارکنوں کے ساتھ کام کیا ۔ اس طرح انھیں کئی شعبوں کے کارکنوں کے ساتھ ٹریڈ یونین میں کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل تھا ۔ انھوں نے ناگپور سے کئی انتخابی مقابلوں میں حصہ لیا اور صرف ایک بار 1957 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے مہاراشٹرا رکن اسمبلی منتخب ہوئے ۔ انھوں نے مہاراشٹرا کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجہ میں یکم مئی 1960 کو ریاست مہاراشٹرا تشکیل پائی ۔
کامریڈ بردھن 1980کی دہائی میں دہلی منتقل ہوئے اور قومی سیاست میں حصہ لینے لگے ۔ جب اندر جیت گپتا بحیثیت وزیر داخلہ متحدہ محاذ حکومت میں شریک ہوئے تو انھوں نے سی پی آئی کے معتمد عمومی کے عہدہ سے استعفی دے دیا تو کل ہند ٹریڈ یونین کانگریس (اے آئی ٹی یو سی) کے 1994 میں جنرل سکریٹری رہنے والے اے بی بردھن کو ان کا جانشین یعنی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کا معتمد عمومی 1995 میں منتخب کرلیا گیا ۔ وہ 1996 سے 2012 تک سی پی آئی کے معتمد عمومی رہے ۔ وہ اس سے پہلے پارٹی کے نائب معتمد عمومی تھے ۔ وہ کافی عرصہ تک اندر جیت گپتا اور متحدہ محاذ کے ایک اور نمایاں وزیر چترانن مشرا کے زیر اثر رہے ۔ لیکن بعد میں انھوں نے اپنی نئی راہ اختیار کی ۔

وہ سیکولر ہندوستان کے ہمیشہ حامی رہے ۔ انھیں بی جے پی کے نامور قائد لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا کے جواب میں تحریک چلانے کے لئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ اڈوانی کی رتھ یاترا نے اپنے پیچھے ایک خونی لکیر چھوڑی تھی ۔ ان کے مابعد منڈل اور کمنڈل دور کے اہم کرداروں جیسے تلگودیشم کے چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ ہمیشہ خوشگوار تعلقات رہے ۔ 1996 سے 1998 کے درمیان بائیں بازو نے یوپی اے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ۔ 2004ء کے عام انتخابات میں جب عوام نے ایک منقسم فیصلہ سنایا تو بائیں بازو کو ایک تاریخی موقع ملا ۔ سی پی آئی ایم کے آنجہانی قائد ہرکشن سنگھ سرجیت کا یہ ایک شاندار کارنامہ تھا کہ انھوں نے بائیں بازو کو کانگریس کے قریب کیا اور یو پی اے تشکیل دیا ۔ کامریڈ بردھن نے بھی اس سلسلہ میں اہم کردار انجام دیا تھا ۔

بردھن کے مقام اور مرتبہ میں اس وقت زبردست اضافہ ہوا جب کانگریس نے صدارتی امیدوار کے لئے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش شروع کی ۔ بائیں بازو نے کانگریس کے تجویز کردہ کئی ناموں کو مسترد کردیا حالانکہ کانگریس پرنب مکرجی کو صدر جمہوریہ بنانے کے لئے اصرار کررہی تھی جو سی پی آئی (ایم) کے لئے بھی قابل قبول تھے ۔ جب بات چیت ٹوٹنے کے قریب تھی تو بردھن نے تجویز پیش کی کہ صدر جمہوریہ کے عہدہ پر کسی خاتون کو فائز کیا جانا چاہئے ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس وقت کی گورنر راجستھان پرتبھا پاٹل کا نام تجویز کیا ۔ بردھن نے اس کی تائید کی اور اس تجویز کو قطعیت دے دی گئی ۔ سی پی آئی نے اسکی مخالفت اور سی پی آئی (ایم) نے اس کی تائید کی رائے دہی میں سی پی آئی غیر حاضر رہی ۔
کامریڈ اے بی بردھن اولین کمیونسٹ قائد تھے جنھوں نے برسرعام اعتراف کیا کہ ہند ۔ امریکہ نیوکلیئر معاہدہ پر منموہن سنگھ حکومت کے ساتھ تعلقات منقطع کرنا بائیں بازو کی غلطی تھی ۔
بردھن بسیار نویس بھی تھے ۔ انھوں نے ای ایم ایف نمبودری پد اور دیگر کے اشتراک سے کئی کتابیں تحریر کی ہیں ۔
7 ڈسمبر 2015ء کو کامریڈ بردھن پر فالج کا حملہ ہوا ۔ انھیں جی بی پنت ہاسپٹل دہلی میں شریک کرایا گیا جہاں انھوں نے 2 جنوری 2016 ء کو آخری سانس لی ۔ وہ اپنے دماغ پر حملہ اور برین ہیمرج تک بھی چاق و چوبند تھے ۔ ان کے ورثا میں فرزند برکلے یونیورسٹی کے پروفیسر اشوک بردھن اور دختر ریٹائرڈ ڈاکٹر الکا بروا ہیں ۔ ان کی شریک حیات کا پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے ۔ بردھن کی نعش اپنے مداحوں کو آخری دیدار اور خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سی پی آئی کے ہیڈ کوارٹر پر رکھی گئی تھی اور پیر کے دن ان کی آخری رسومات نگم بودھ گھاٹ برقی شمشان پر ادا کی گئیں ۔
ان کے انتقال پر صدر جمہوریہ پرنب مکرجی ، وزیراعظم نریندر مودی ، صدر کانگریس سونیا گاندھی ، سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری ، سی پی آئی کے قائد ڈی راجہ اور دیگر کئی سیاسی قائد شامل تھے ۔ لیکن کامریڈ اے بی بردھن کو حقیقی خراج عقیدت عوام کی جانب سے علاقائی اور مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنے والے سیاست دانوں کو انتخابات میں مسترد کردینے کی صورت میں ہوگا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ انتخابات میں زور اور زر کی سیاست کرنے والے سیاست دانوں اور عوام کے مذہبی جذبات کا استحصال کرنے والے سیاست دانوں ، بلند بانگ دعوے کرنے اور حقیقت میں کچھ بھی کام نہ کرنے والے سیاست دانوں کو عوام مکمل طور پر ناکام بنادیں ۔ اور عہد کریں کہ آئندہ بھی اس قسم کے سیاست دانوں کو مسترد کرتے رہیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT