Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اے سی بی چارج شیٹ میں چندرابابو نائیڈو کا نام شامل

اے سی بی چارج شیٹ میں چندرابابو نائیڈو کا نام شامل

حیدرآباد 18 اگسٹ (پی ٹی آئی) تلگودیشم پارٹی کے رکن اسمبلی ریونت ریڈی سے متعلق نوٹ برائے ووٹ اسکام میں تلنگانہ کے محکمہ انسداد رشوت ستانی (اے سی بی) کی طرف سے پیش کردہ ابتدائی چارج شیٹ میں تلگودیشم پارٹی کے صدر اور آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم انھیں ملزم نہیں بنایا گیا ہے۔ اے سی بی کی خصوصی عدالت نے چارج شیٹ کا ہنوز تفصیلی جائزہ نہیں لیا ہے۔ نوٹ برائے ووٹ اسکام منظر عام پر آنے کے بعد ریاستی تلنگانہ حکومت اور حریف تلگودیشم پارٹی کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ 28 جولائی کو پیش کردہ 25 صفحات پر مبنی چارج شیٹ کے مطابق تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کے ڈپٹی فلور لیڈر اے ریونت ریڈی نے تلنگانہ اسمبلی کے ایک نامزد رکن ایلوس اسٹیفنسن (درخواست گذار) سے کہا تھا کہ چندرابابو نائیڈو نے اُنھیں (سباسٹین) سے بات چیت کرنے اور یکم جون کو ہونے والے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں تلگودیشم پارٹی کے امیدوار ایم نریندر ریڈی کے حق میں رائے دہی کی ترغیب دینے کیلئے مجاز گردانا ہے۔ چندرابابو نائیڈو نے 30 مئی کو سباسٹین سے مبینہ طور پر فون پر بات چیت کی تھی جس کے دوسرے ہی دن اے سی بی نے ریونت ریڈی اور ایک عیسائی پادری بشپ اسٹیفن ہیری اور رودرا ادئے سمہا کے ساتھ اُس وقت رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا جب وہ مبینہ طور پر اسٹیفنسن کو 50 لاکھ روپئے بطور رشوت ادا کررہے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سباسٹن نے اسٹیفن کو ٹیلی فون کال کرتے ہوئے کہا تھا کہ چندرابابو نائیڈو ان کے ساتھ ہیں اور ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ چارج شیٹ کے مطابق ٹیلی فونی بات چیت کے دوران چندرابابو نے اسٹیفنسن سے کہا تھا کہ ’’میرے لوگ ہیں۔ انھوں نے مجھ سے بات کی ہے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ آپ کسی بات پر خوفزدہ یا فکرمند نہ ہوں۔ ہر چیز کے لئے میں آپ کے ساتھ ہوں۔ کچھ ہے وہ (میرے لوگ) سب کہہ چکے ہیں۔ ہم اس کا احترام (پابندی) کریں گے۔ آزادی کے ساتھ آپ فیصلہ کرسکتے ہیں۔ بہرحال قطعاً کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ہمارا وعدہ ہے۔ ہم آھ کے ساتھ کام کریں گے‘‘۔ اسٹیفنسن نے اے سی بی سے کہاکہ ریونت ریڈی نے سب سے پہلے 2.5 کروڑ دینے کی پیشکش کی اور کہا تھا کہ چندرابابو نائیڈو شخصی طور پر قطعی فیصلہ کریں گے۔ انھوں نے اسٹیفنسن سے مبینہ طور پر یہ درخواست بھی کی تھی کہ وہ نائیڈو سے ملاقات کریں اور وعدہ کیا تھا کہ ان کی ملاقات رازداری میں رکھی جائے گی۔ تاہم اسٹیفنسن نے نائیڈو سے ملاقات کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف ریونت سے معاملت کرنے کو ترجیح دی تھی۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ جب ریونت نے اسٹیفنسن سے رقم کیلئے اپنے) مطالبہ کی وضاحت پر اصرار کیا تو انھوں (اسٹیفنسن) نے پانچ کروڑ روپئے دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ چارج شیٹ کے مطابق ریونت نے اس معاملت پر نائیڈو کو مطلع کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ چندرابابو نائیڈو آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی کے لئے اسٹیفنسن کو رکن نامزد کرسکتے ہیں یا پھر مرکز میں عیسائی اقلیت کے لئے محفوظ کوئی عہدہ دلاسکتے ہیں۔ اے سی بی نے اپنی چارج شیٹ میں چار افراد ریونت ریڈی، سباسٹین ہیری، اُدے سمہا اور متھیا جروشلم کو ملزمین بنایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT