Tuesday , August 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / اے ماہ صوم اھلًاو سہلاً

اے ماہ صوم اھلًاو سہلاً

مولانا شاہ محمد فصیح الدین نظامی
اس صدی کی دوسری دہائی کا کارواں رواں دواں ہے اور الحمد للہ ماہ صوم کی آمدآمد سے عالم اسلام کا گھر گھر مسرور اور روح ودل اللہ کے حد سے سوا کرم سے معمور ہے۔دگر ماہ کی عطا محدو د ہے مگر اس ماہ کی عطا لا محدود ہے۔
اسلام کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد ر سول اللہ ہے ۔اور صوم ،عمود اسلام سے اک عماد  ۱؎   ہے-وحی کے واسطے سے اطلاع ہو ئی کہ صوم اک اہم حکم الہی ہے-
اک سالک  ۲؎  کے احوال کی اصلاح کے لئے سالہا سال کا عر صہ درکار ہے مگر اس ماہ کے واسطے سے، اللہ کا احساں ہوا کہ اس کا اک اک لمحہ کرم و عطا کا کہسارہے۔ اور اس ماہ کی ہر گھڑی اعلیٰ سلوک کی حامل ہے ۔ماہ صوم کے احکام و مسائل کا احا طہ کئی رسالوں کے واسطہ سے ہوا ۔اس لئے ہر مسلم اللہ کے حدود کی رکھوالی کرے اور رسوائی وہلاکی سے دور رہے۔
ہر کسی کو اس امرسے آگا ہی ہے کہ مادی علم اور الہامی علم کہاں مساوی ہوا۔ہراک کا حال الگ الگ ہے۔اس لئے عالم امر کو مادی علم اور عالم روح کو الہامی علم درکار ہے۔ لاکھوں رسائل لکھے گئے مگر کلام الہی اور رکلام رسول سے ہٹ کر کسی کو سکوں کہاں ملا؟سارا ماہ صوم عمومی طور سے اللہ کی حمد،رسول کی مدح اور اعمال صالحہ کے لئے ہی ہے ۔اس کا سود  ۳ ؎  ہردو عالم ملاکر ے گا اور دلی مراد حاصل ہو گی ۔عطار ہو کہ رومی ہو، سعدی ہو کہ حالی ہو، آہ سحر گاہی سے ہٹ کرکمال کہاں آئے گا ۔امام مسلم،سعد،ولد عمر،امام علی،عمر،مالک سے مروی کلام اس کا گواہ ہے کہ راہ محمدی ہی سے گل مراد حاصل ہو گا۔اللہ کا کرم حدومد سے ماوراء ہے۔اس کی عطا ہر کسی کے لئے عام ہے ۔اگر اسکا ارادہ اور امر ہو مٹی گوہر ہو اور محروم مالا مال ہو۔محرر ،ماہ صوم کے احوال کو عام محاوروں سے ہٹ کر اردوئے معرا سے لکھا ہے گو مر حلہ گراں ہے مگر اللہ کے کرم سے طئیــــــــ ہوا۔اہل علم اور اہل مطالعہ کو اس کا احساس ہے اک سطر اک کلمہ کے حصول کے لئے سرگرداں ہو کر رسائی ہو ئی ۔ وداع مکہ مکرمہ کے دوسرے سال صوم کے احکام وارد اور سدا کے لئے محکم ہوئے اور اسی سال کل اہل اسلام کو صوم کو حکم ہواکہ وہ ماہ صوم کہ اس ماہ کلام الہی وحی ہوا۔وہ لوگوں کے لئے راہ ھدیٰ ہے اور راہ ھدیٰ کا کھلم کھلا علم اس سے حاصل ہوگا۔اور اسی سے ھدیٰ اور گمراہی الگ ہو گی۔ اگر کوئی اس ماہ کو حاصل کرے اللہ کا حکم ہے کہ اس ماہ کے صوم رکھے ۔اور اللہ کے ڈرسے کامگاری حاصل کرے ۔صوم کے ارادہ سے علحدگی ہلاکی ورسوائی ہے۔ صوم، دائمی اور سر مدی آسودگی کی راہ ہے ۔دکھ والم سے دوری ہے ۔ہمدم رسول سے کلام رسول مروی ہے کہ اس ما ہ کا ’’اول دہا‘‘ رحم کا ہے ۔’’دوسرا دہا‘‘ کرم کے آسرے کا ہے اور ’’سوم دہا‘‘ آگ سے رہائی کا ہے۔
اللہ کے ڈر سے معمور اوردر مولا کھٹکھٹا کر کوئی سائل محروم کہاں ہوا۔علمائے اسلام کی رائے ہے کہ اس ماہ حد سے سوا اللہ کے اسم کاورد اورکلمئہ اسلام لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے اعادہ سے روح ودل مالامال ہوں۔رحم وکرم، کمال سلوک اور صلہ ر حمی کے عامل کو اللہ کی آس ہے۔ دوسروں کا ہمدرد اور آسرا ہو کر وہ کس طرح ہلاک ورسوا ہوگا ۔اس لئے اس ماہ اک مسلم دوسرے مسلم کی مدد کرے اور سہارا دے اس طرح کے عمل سے اللہ اس مسلم کی مدد کے علاوہ اس عا لم اور اس عالم کے ہرہر مرحلہ کو سہل کرے گا۔ اس ماہ لا کھوں مسلم عمرہ کے ارادہ سے مکہ مکرمہ رواں دواں ،لوگوں کے ہمراہ محودعا اور ہر دو حرم کی دعائوں اور ہوائوں سے روح ودل کو مسرور اور معمورکرکے کا مگار ہوں گے ۔اس کے علاوہ اہل اسلام کے مالدار کو حکم ہے کہ وہ ہر سال اللہ کے عطا کردہ مال سے ڈھائی حصہ الگ کرکے محروموں کو اس کا مالک کرے ۔اس عمل سے راہ ارم آساں اور آگ سے رہائی حاصل ہو گی۔صوم کے کئی مر حلوں سے عوام کا صوم ،حرام سے دوری ہے۔ اعلیٰ لو گوں کا صوم، حرام وحلال دونوں سے دوری ہے۔اولیٰ لوگوں کے صوم کا معاملہ اولیٰ ہے کہ اللہ کے سوا ہر اک سے دوری ر ہے۔اس طرح کے صوم سے روح ودل ہر دو سے صدائے لا الہ آئے گی ۔ اعمال کے دائرہ کار سے صوم کامل و اکمل عمل ہے۔دعا ہے کہ اللہ اس عمل کو دکھاوے سے دور رکھے ۔اس لئے ہر کو ئی صوم کے اصولوں کا احساس اور مکمل العمل ہو کر الہ واحد سے رحم وکرم کا معاملہ طے کرے۔کل ہمدم رسول، آئمہ کرام ،صلحاء اور اہل ولا ،اللہ ورسول کے حکم کے آگے سر رکھ کر گل مرادحاصل کئے۔اسلام کے احکام ومسائل کا معاملہ سہل اور مسلم ہے۔اس کو سال اور صدی سے کوئی واسطہ کہاں۔ ہلال صوم کا معاملہ لوگوں کے ہاں اک مسئلہ کی طرح کھڑا ہوا ہے۔عوامی رائے کس طرح مسلط اور روا ہو گی ؟اہل علم و گروہ کمال کی اطلاع کو دل سے لے کر آمادہ عمل مصمم ہوں۔ اس ماہ عطا کادر سحر ومسا کھلا ہے۔صوم کے عمل سے کردار کی اصلاح اور روح کی طلاء ہو گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیٰ رسو لہ وسلم کا کہا ہے کہ اس ماہ کلام الہی کا اعادہ اللہ کے رحم وکرم کو مکرر کرے گا۔اس ماہ اللہ ہر اس حاکم کے عمل کو گراں کرے گا کہ وہ اس کے محکوم کے عمل کو ہلکا کرے گا ۔ہر مسلم اس ماہ اکڑ،لڑائی، دکھاوا، اور کلام لہو سے دورر ہے اس طرح کا عمل سم۴؎ سے کم کہاں ؟ اس کے علاوہ اسلام کا معر کہ اول اسی ماہ ہوا۔رسول اکرم صلی اللہ علیٰ رسو لہ وسلم کی دعا سے اہل اسلام کی مدد کے لئے صدہا ملا ئکہ عمامے اوڑھے ہوئے مسلح ہوکر سردار ملائک کے ہمراہ آئے اورا عدائے اسلام کو ہلاک کرڈالا۔اسلامی عسکر، اعداء کو حاوی ہوا۔ اس ماہ کوئی اللہ کی عطا سے محروم کہاں۔اللہ ہر اک کے لئے ما ئل کرم ہے۔اس کا عام کرم راہ ارم کو ہموار کرے۔اور ہر سال لاکھوں کروڑوں لوگ آگ سے رہاہوں۔ اس ماہ اک داعی ،مدعو صا ئم ۵؎ کو دودھ، ماء ۶؎ کی گلاس کے اک حصہ سے صوم کھلواکر آگ سے رہائی حاصل کرے۔اہل اسلام اس ماہ اللہ سے دعا کرو کہ اے اللہ ہمارے کل اعمال سوء کو محو۷؎کرکے دل کو مسرور کردے اور اس عہد سے محکم ہوں کہ ہم سارے مل کر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیٰ رسولہ وسلم کی راہ اور امر کے عامل ہوں گے۔
۱؎ستون   ۲؎شریعت کی راہ چلنے والا  ۳؎فا ئدہ یا نفع  ۴؎ زہر  ۵ ؎روزہ دار  ۶ ؎ پانی  ۷؎ مٹا ہوا

TOPPOPULARRECENT