Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / اے ٹی ایمس کی فاقہ کشی

اے ٹی ایمس کی فاقہ کشی

محمداکبر علی خاں
ّٓسائنس اینڈ ٹکنالوجی کی ترقی نے انسانی زندگی کو کئی سہولتیں ’ آرام اور آسائشیں دی ہیں ۔ زندگی کے کئی معاملات کو آسان بنادیا ہے۔ اس ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی بہت حد تک آرام طلب بھی ہوگئی ہے ۔انسان اس حد تک ان کا عادی  ہوگیا ہے کہ ان کے بغیر زندگی کا تصور مشکل ہوگیا ہے ۔رات میں سونے سے پہلے آخری کا م موبائیل کے تمام میسجس کو چک کرنا اور صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی حاجت ضروریہ سے پہلے موبائیل کی حاجت محسوس ہو رہی ہے ۔سائنس و ٹکنالوجی کی یہ ترقی بعض صورتوں میں انسان کے لئے مصیبت یعنی وبال جان  بھی بن گئی ہے ۔طیاروں کے حادثات‘ مشین گنوں کا استعمال’ بم’ نیوکلیئر ہتھیاروغیرہ انسان نے اپنے علم و ہنر کے ذریعہ تیار تو کرلئے ہیں لیکن ان کے استعمال نے انسانیت کو پریشان بھی کررکھا ہے۔ موجودہ حالات میں ہمارے ملک کے عوام بنکوں اور اے ٹی ایمس سے روپئے نکالنے کیلئے انتہائی پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ایک وقت تھا جب اپنی مرضی و منشاء کے مطابق اے ٹی ایمس سے رقم بآسانی نکالی جاسکتی تھی لیکن اب یہ صورتحال ہے بالکل تبدیل ہوچکی ہے۔وہ اے ٹی ایمس جو 24 گھنٹے اے سی رومس میں شکم سیر ہوکر عوام کی ضرورتوں کو عزت و احترام سے پورا کرتے تھے اب فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ان کی اس مجبوری نے ان کے چاہنے والوں کو بھی فاقہ کشی پر مجبور کردیا ہے ۔اے ٹی ایم اپنے چاہنے والوں کا دلی خیر مقدم  کرکے ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے آج ان کا رویہ بالکل برعکس ہوگیا ہے ۔کہتے ہیں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ۔ آج لوگ معمولی رقم نکالنے کیلئے انتہائی مجبور و بے بسی کے عالم میں طویل قطاروں میں ان ہی اے ٹی ایمس کے سامنے کھڑے ہیں ۔دوسری طرف اے ٹی ایمس نے بھی اپنے چاہنے والوں سے نگاہیں پھیر لی ہیں۔ برسوں کی دوستی’ رشتہ داری یا شناسائی ایک ہی لمحہ میں کافور ہوگئی ۔سب ہی کو طویل قطاروں میں گھنٹوں کھڑا کرکے ذلت و رسوائی کے ماحول میں یہ اے ٹی ایم مشنیں اپنی مرضی سے انتہائی قلیل رقم انہیں دے ر ہی ہیں جہاں سے وہ  عزت و احترام کے ساتھ کسی  بھی وقت اپنی من چاہی رقم نکالا کرتے تھے۔ موقع اور حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ مشکل حالات میں زیادہ رقم نکالنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اے ٹی ایمس کا رویہ سب کے ساتھ انتہائی سخت گیر ہے ۔ کسی کی محبت ’ دوستی اور سفارش بالکل بھی کام نہیں آرہی ہے ۔شاید دنیا کا یہی مزاج اور طریقہ کار ہے کہ وقت اور حالات کے ساتھ سب ہی اپنی نظریں پھیر لیتے ہیں ۔کل تک جو لوگ اے ٹی ایمس کی ہمیشہ قدر و عزت کیا کرتے تھے آج وہ انہیں بری ‘ بری گالیاں دے رہے ہیں ۔ جن کا غصہ زیادہ ہوتا ہے اور جن کو موقع مل رہا ہے وہ تو اے ٹی ایمس پر اپنی پوری بھڑاس بھی نکال رہے  ہیں ۔ بعض مقامات پر اچھی خاصی دھلائی اور پٹائی کے باوجود  اے ٹی ایمس کے جسموں سے خون تک نہیں نکل رہاہے۔موجودہ حالات میں اے ٹی ایمس بھی شاید شرمندگی محسوس کررہے ہیں ۔ وقت اور حالات نے انہیں اپنے چاہنے والوں کی نظروں میں انتہائی رسوا کردیا ہے ۔ وہ اب آسانی سے کسی کی ضرورت کو پورا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں ۔ لوگوں کی برہمی سے بچنے کیلئے اے ٹی ایمس یا تو گوشہ نشینی اختیار کررہے ہیں یا آدھی نقاب اوڑھ کر چھپنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ کسی سے نظر ملانے  کے قابل نہیں رہے یا پھر جھجک محسوس کررہے ہیں ۔اکثر آدھی نقاب ہٹاکر باہر دیکھتے ہیں کہ آیا طویل قطارو ں میں برہم لوگ ہیں یا نہیں اور جب باہر کوئی نظر نہیں آتا تو وہ کچھ دیر کیلئے اطمینان کی سانس لیتے ہیں۔لیکن انہیں اپنی مجبوری اور بے بسی پر کافی شرمندگی کا احساس  بھی ہورہا ہوگا ۔ لوگوں کی مجبوری اور بے بسی بھی شاید اے ٹی ایمس سے بھی دیکھی نہیں جارہی ہوگی۔لیکن وہ بھی کیا کریں ‘ حالات کا وہ بھی شکار ہیں اور حالات کے ہاتھوں مجبور و بے بس نظر آرہے ہیں ۔
اے ٹی ایمس کی ایجاد نے رقم کی نکاسی اور اس کے حصول کو دن و رات میں کسی بھی وقت انتہائی سہل و آسان بنادیا ہے ۔ اگرچہ سماج کا بڑا طبقہ اب بھی اس کے استعمال سے پوری طرح واقف نہیں ہے ۔اے ٹی ایم کے ابتدائی دور میں ہمارے ایک دوست کو ان کی کمپنی سے اے ٹی ایم کارڈ حاصل ہوا تھا۔کم پڑھے لکھے ہمارے دوست اس کے استعمال کا طریقہ کار معلوم کرنے کیلئے سیدھے ہمارے پاس چلے آئے ۔ پہلے تو ہم نے ان سے اے ٹی ایم کا تعارف کروایا ۔ بتا یا کہ یہ AUTOMATED TELLER MACHINE ہے ۔لوگ اپنی سہولت اور آسانی کیلئے اس کو ANYTIME MONEYیاALLTIME MONEYوغیرہ کے ناموں سے بھی پکار کرتے ہیں ۔ آپ اس مشین میں یہ کارڈ ڈال کر رقم نکا سکتے ہیں ۔انگریزی میں اے ٹی ایم کے دو‘ تین نام اور رقم نکالنے کی بات ان کے سر سے گذر گئی  اور وہ آنکھیں پھاڑ کر ہماری صورت تکتے رہے۔ ہمیں اچانک خیال آیا کہ یہ بات شاید ان کے پلے نہیں پڑی لہذا ہم نے سوچا کہ انہیں آسان اورموٹے انداز میں اے ٹی ایم کے استعمال کا طریقہ کار سمجھا یا جائے ۔ ہم نے بتا یا کہ یہ کارڈ آپ اے ٹی ایم کے منہ میں ڈالئے ’ چند لمحوں میں اے ٹی ایم کے پیٹ میں مروڑ ہوگی اور جوکچھ آپ  اس کے منہ پر لکھیں گے   وہ گڑ گڑ کی آوازوں کے ساتھ نیچے آجائے گا اور آپ دونوں ہاتھوں سے اسے سمیٹ لینا ۔یہ بات انہیں اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔ آنکھوں میں چمک اور چہرے پر خوشی کے ساتھ وہ فوری اے ٹی ایم کی طرف دوڑ نے لگے ۔
جہاں تک ہمارا تجربہ اور مشاہدہ ہے اے ٹی ایمس کا بھی اپنا مزاج اور انداز ہوتا ہے ۔بعض بڑی شان و شوکت والے ہوتے ہیں تو بعض سادہ لوح اور منکسرالمزاج ہوتے ہیں ۔دیکھنے میںآیا کہ بعض اے ٹی ایمس شریر بھی ہوتے ہیں ۔ جیسے مذاق کرنا تو ان کی عادت  ہے ۔ کسی ضدی بچے کے  منہ میں نوالا منہ سے انکار کر نے کی طرح کارڈ کو یہ اگل د یتے ہیں۔ایک مرتبہ ہم نے اپنا پن نمبر ٹائپ کیا تو اس نے کہہ دیا کہ ’’رانگ نمبر‘‘۔ہم پریشان ہوگئے۔ چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ۔ ہماری یہ حالت دیکھ کر شاید اے ٹی ایم لطف اندوز ہورہا تھا۔ ہم نے پریشانی کے عالم میں اپنا کارڈ نکالا اور پن نمبر چک کیادوبارہ ٹائب کیالیکن جواب پھر وہی تھا ۔ ہم بارہا کوشش کرتے رہے اور ہماری پریشانی بڑھتی گئی۔ہماری اس بے بسی پر شاید اے ٹی ایم کو رحم آگیا اور اس نے ہماری التجا سن لی اور ہمار ا مقصد اسی پن نمبر کے ساتھ پورا ہوگیا ۔ اے ٹی ایمس کا بھی شاید موڈ ہوتا ہے کبھی اچھا تو کبھی خراب ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات و ہ بھی ’’ out of order‘‘ یا’’ no cash‘‘کا بورڈ لگا کر آرام کرلیتے ہیں ۔
لوگوں کی ضرورتوں کا اتنا خیال رکھنے والے اے ٹی ایمس کی حالت اب ہم سے بھی دیکھی نہیں جارہی ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ برا وقت سب پر آتا ہے لیکن حالات بدلتے دیر بھی نہیں لگتی۔ اے ٹی ایمس کے بھی شاید اچھے دن جلد ہی آجائیں گے ۔ اسی امید کے سہارے وہ بھی اپنی زندگی کے دن پورے کررہے ہونگے ۔حکومت نے نوٹ بندی اور نوٹ تبدیلی کے فیصلے کے ذریعہ ’’جن ‘‘ ’’دھن‘‘سب کو پریشان کردیا ہے ۔ ان کے چکر میں بنکس اور اے ٹی ایمس بھی پس رہے ہیں اور ان کے سامنے مجبور‘ بے بس  اور ضرورت مندوں کی طویل قطاریں ہیں۔ اگر حکومت نے نوٹوں کی طرح دیگر پرانی چیزوں کو بدلنے کا فیصلہ کیا تو بعض صورتوں میں قطاریں اتنی طویل ہوسکتی ہیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے ۔

TOPPOPULARRECENT