Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اے ٹی ایم سنٹرس سے جعلی کرنسی نوٹس ، عوام کو دھوکہ دہی کیلئے بڑا ریاکٹ سرگرم

اے ٹی ایم سنٹرس سے جعلی کرنسی نوٹس ، عوام کو دھوکہ دہی کیلئے بڑا ریاکٹ سرگرم

بینکوں کی خانگی ایجنسیوں سے خدمات ، بینکوں کی خاموشی ، جعلی نوٹ دکھانے پر ضبطی ، استفسار پر خاموشی
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : شہر حیدرآباد میں جعلی کرنسی کا چلن جاری ہے ؟ اور یہ ریاکٹ اے ٹی ایم سنٹر کے ذریعہ سرگرمی کے ساتھ چلایا جارہا ہے ۔ شہریوں میں اکثر یہ شکایت عام ہے کہ اے ٹی ایم سنٹرز سے نکالی گئیں کرنسی بھی غیر محفوظ ہے اور شہر کے کسی نہ کسی علاقہ میں روزانہ اس طرح کی شکایتیں عام بات بن گئی ہے ۔ 1000 اور 500 روپئے کی بڑی کرنسی ہی کو استعمال کیا جارہا ہے ۔ جس سے راست غریب مزدور پیشہ افراد چھوٹے کاروباری اور ملازم پیشہ افراد متاثر ہورہے ہیں ۔ جب کہ بنکس اس سنگین مسئلہ سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے رہے ہیں اور ستم ظریفی کے شکایت پر وہ کرنسی نوٹ کو ضبط کررہے ہیں بنکوں اور اے ٹی ایم سنٹرز کے ذریعہ نقلی کرنسی کو بازار میں عام کرنے کے ایک بڑے ریاکٹ کا سابق میں خلاصہ ہوا تھا اور ملک کی سب سے بڑی سراغ رساں ایجنسی آئی بی نے بھی اس طرح کی اطلاع دی اور چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی تھی ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بنکس آج کل جدید ٹکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں اور گراہکوں کو راغب کرنے کے لیے آن لائن سہولیات کے ساتھ اب آن لائن 24 گھنٹے رقم جمع کرنے کی سہولیات کا بھی آغاز کیا ہے ۔ تاہم اے ٹی ایم سنٹرز کو معیاری بنانے کی کوئی سہولت نہیں ہے ۔ اب ہر چھوٹے کاروباری ادارے اور دفاتر میں جعلی کرنسی کی جانچ کی مشینیں استعمال کی جارہی ہیں اور بنکس اپنے الزامات اور شہریوں کو ہورہے نقصانات سے بچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کررہے ہیں ۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اگر اے ٹی ایم سنٹرز میں بھی کرنسی کی جانچ کا آلہ نصب کردیا جائے اور مشین سے کرنسی جانچ کے بعد گاہک کے ہاتھ لگے تو ایسے میں بنکس اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ گاہکوں کو مزید بہتر سہولیات اور نقصان سے بچا سکتے ہیں ۔ چونکہ اکثر بنکس خانگی ایجنسی کے ذریعہ اے ٹی ایم سنٹرز میں رقم جمع کرنے کی خدمات حاصل کرتے ہیں ۔ جب کہ شہر میں ایسے کئی واقعات منظر عام پر آئے جہاں سیکوریٹی ایجنسی کے عملہ نے جعلی کرنسی کو عام کرنے کے لیے اے ٹی ایم سنٹرز کا استعمال کیا ۔ اس عملہ پر الزام ہے کہ وہ سینکڑوں کرنسی نوٹوں میں چند جعلی کرنسی بھی رکھ دیتے ہیں جو اے ٹی ایم سے گاہک تک پہونچتی ہے ۔ شہری اپنی محنت کی کمائی ہوئی رقم کو اپنے مکانات میں رکھنے سے زیادہ بنکس میں جمع رکھنے میں زیادہ اطمینان تصور کرتے ہیں جس سے بنکس کو بھی زیادہ فائدہ حاصل ہوتاہے جب کہ بنکس بھی ڈپازیٹرس کی مدد ہی سے چلائے جاتے ہیں لیکن جب بنک کے اے ٹی ایم سنٹرز ہی سے ایسی دھوکہ دیہی ہو تو شہری انصاف کے لیے کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں ۔ ارباب مجاز کو چاہئے کہ وہ ایسے واقعات کا سخت نوٹ لیتے ہوئے جعلی نوٹوں کے چلن پر روک لگائے اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ متعلقہ سرکاری محکموں کو چوکس کرتے ہوئے اس طرح کے واقعات کا تدارک کریں ۔ اور ملک کی معیشت پر ہورہے اس خطرناک حملہ کو روکتے ہوئے شہریوں کی معیشت کی حفاظت کریں اور حکومت و پولیس کو چاہئے کہ وہ بنک ملازمین کے رول پر بھی تحقیقات کریں چونکہ ایسے الزامات پائے جاتے ہیں کہ بنک ملازمین کے رول کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہوتا ۔۔

TOPPOPULARRECENT