Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اے ٹی ایم مشینوں کی عدم کارکردگی ، عوام کو مشکلات کا سامنا

اے ٹی ایم مشینوں کی عدم کارکردگی ، عوام کو مشکلات کا سامنا

حکومت کے اعلان پر عمل نظر انداز ، کیاش کیسیٹ کو تبدیل نہیں کیا گیا ، کم قدر والے نوٹس کی بھی عدم اجرائی
حیدرآباد۔11 نومبر (سیاست نیوز) شہر کے علاوہ ریاست کے بیشتر اضلاع میں اے ٹی ایم مشینوں کی عدم کارکردگی کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کئی مقامات پر اے ٹی ایم غیر کارکرد رہنے کے سبب اے ٹی ایم مراکز کے باہر طویل قطاریں دیکھی گئیں لیکن عوام کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کے اعلان کے مطابق ملک بھر میں 11نومبر سے اے ٹی ایم کے ذریعہ شہری 2000روپئے نکال سکتے تھے لیکن اس اعلان پر کوئی عمل نہیں ہو پایا ہے جس کی وجہ تکنیکی ہے اور ان تکنیکی وجوہات کو فوری دور کیا جانا مشکل امر ہے۔ جب تک اے ٹی ایم مشین میں انجینئر کی جانب سے شخصی طور پر کیاش کیسیٹ نصب نہیں کی جاتی اس وقت تک اے ٹی ایم میں نئے 2000یا 500کے نوٹ رکھے جانا ممکن نہیں ہے کیونکہ اے ٹی ایم مشین میں فی الحال پرانے 1000اور 500کے نوٹ کے کیسیٹ موجود ہیں جن میں نئے نوٹ جمع کیا جانا ممکن نہیں ہے اور ان کی جگہ نئے کیسیٹ کی تنصیب کے لئے شخصی طور پر انجینئر کو اے ٹی ایم مشین تک پہنچنا ہوگا۔ وہ بینک جن کے پاس 100روپئے کے کرنسی نوٹ موجود ہیں وہ اگر چاہیں تو اپنے اے ٹی ایم مشینوں کے ذریعہ 100روپئے کے نوٹ جاری کر سکتے ہیں لیکن 500اور2000کے نوٹ کی اے ٹی ایم کے ذریعہ اجرائی اس کیسیٹ کی تبدیلی کے بعد ہی ممکن ہے۔ اے ٹی ایم مشین کے تیار کنندگان کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جو اے ٹی ایم مشین استعمال کئے جا رہے ہیں ان میں فی الحال چار علحدہ کیسیٹ (گوشہ) ہوتے ہیں جن میں 1000,500,100اور 50کے نوٹ رکھنے کی گنجائش موجود ہے بعض دیہی علاقوں میں 10روپئے کے نوٹ کی گنجائش والے اے ٹی ایم بھی موجود ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے جبکہ ہر اے ٹی ایم مشین میں 500اور 1000کے نوٹ رکھنے کی سہولت زیادہ ہے کیونکہ اب تک جو لوگ اے ٹی ایم سے نقد حاصل کر رہے تھے ان میں بڑے نوٹ کے حصول کا رجحان رہا ہے اور اس رجحان کو ختم کیا جانا دشوار ہے۔ اسی لئے اب موجودہ اے ٹی ایم میں 2000اور 500 کے نوٹوں کی گنجائش فراہم کئے جانے تک کچھ بھی منتقلی یا حصول ممکن نہیں ہے۔مسٹر نوروز دستور منیجنگ ڈائیریکٹر این سی آر کارپوریشن ساؤتھ ایشیاء نے بتایا کہ اس تبدیلی کے لئے انجنیئرس کو اے ٹی ایم مراکز پہنچنے اور انہیں نئے نوٹ کے مطابق بنانے میں وقت لگے گا اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اتنے اے ٹی ایم مراکز کو کتنے وقت میں موجودہ کرنسی کی اجرائی کے قابل بنایا جا سکے گا۔

TOPPOPULARRECENT