Friday , July 28 2017
Home / Top Stories / اے ٹی ایم کے بعد اب بینکس بھی نقدی کی قلت سے دوچار

اے ٹی ایم کے بعد اب بینکس بھی نقدی کی قلت سے دوچار

بینک معاملتی فیس میں اضافہ کے اعلان پر کھاتہ دار رقومات نکالنے کوشاں
حیدرآباد۔20مارچ(سیاست نیوز) اے ٹی ایم میں نقدی کی قلت کے بعد اب شہر کے بیشتر بینک بھی نقد رقومات سے خالی ہونے لگے ہیں اور کئی بینکوں میں صارفین کو مطلوبہ رقومات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے جس کے سبب بینک کاری نظام سے مربوط افراد میں تشویش پیدا ہونے لگی ہے اور بینک عہدیدار یہ کہہ رہے ہیں کہ نقد کی عدم موجودگی کے سبب یہ مشکل پیش آنے لگی ہے اور اس مشکل کے حل کے لئے یہ ضروری ہے کہ لوگ بینک کاری نظام سے مربوط ہوں اور نقد لین دین کے بجائے اپنے کھاتوں میں رقومات جمع کروائیں ۔ بینکوں کی جانب سے معاملتوں پر فیس وصول کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر میں نقد بینک تک پہنچانے کا عمل مفقود ہوجانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جس کے نتیجہ میں بینکوں میں نقد کی قلت پیدا ہونے لگی ہے اور کھاتہ دار جب اپنی رقومات منہاء کرنے کیلئے بینک سے رجوع ہورہے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے بیشتر بینکوں سے اس بات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ بینکوں میں حکومت کی جانب سے منہائی کی حد برخواست کردیئے جانے کے فوری بعد اچانک نقدی کی قلت پیدا ہوچکی ہے جس کے سبب بینک عہدیدار اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے حد متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن نومبر 2016سے بینکوں میں جمع رقومات کی منہائی کیلئے پریشان کھاتہ داروں میں بینک عملہ کے رویہ سے شدید برہمی پیدا ہونے لگی ہے ۔بینک عہدیداروں کا کہنا ہے کہ رقم منہاء کرنے کی حد میں رعایت اور حد کی برخواستگی کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے بینکوں کی جانب سے بینک معاملتوں پر فیس عائد کرنے کے فیصلوں کے سبب صورتحال تبدیل ہوتی جا رہی ہے اور تاجرین جو بینکوں کو رقومات روانہ کرتے تھے وہ اب راست معاملتیں کرنے لگے ہیں جس کے سبب بینکوں تک نقد نہیں پہنچ پا رہا ہے اور بینکوں کی جانب سے معاملتوں پر فیس عائد کرنے کے فیصلہ کے بعد سے عوام کی مخالفت اور اس کے متعلق شعور بیداری کے نام پر جاری احتجاج کے اثرات بینک محسوس کرنے لگے ہیں ۔ اس کے علاوہ ذرائع کے مطابق نئی کرنسی کی اشاعت میں ریزرو بینک آف انڈیا نے کچھ تخفیف کی ہے جس کے سبب کرنسی نوٹوں کی قلت کو شدت سے محسوس کیا جانے لگا ہے ۔ حکومت نقد کے بغیر لین دین کے نظام کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے اور اسی کوشش کے تحت عوام کے ہاتھوں تک کرنسی کو پہنچنے سے روکا جانے لگا ہے۔

TOPPOPULARRECENT