Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اے پی ، تلنگانہ کیلئے وزیر اعظم کے خصوصی پیاکیج کا اعلان متوقع

اے پی ، تلنگانہ کیلئے وزیر اعظم کے خصوصی پیاکیج کا اعلان متوقع

چندرا بابو پر خصوصی موقف کے حصول کیلئے پڑرہے دباؤ سے نریندر مودی واقف ، بہار کے بعد اے پی پر توجہ مرکوز
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اگست : ( ایجنسیز ) : ریاست آندھرا پردیش کو خصوصی موقف عطا کرنے کے مطالبہ میں ہورہی شدت کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی امکان ہے کہ آندھرا پردیش کے لیے جلد ہی ایک خصوصی مالی پیاکیج کا اعلان کریں گے جیسا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتہ بہار کے لیے مالی مدد کا اعلان کیا یہ اسی خطوط پر ہوگا ۔ بعد میں اس طرح کا ایک پیاکیج کا تلنگانہ کے لیے بھی اعلان کیا جائے گا ۔ وزیر اعظم کے دفتر کے ذرائع نے کہا کہ عہدیداروں کے ایک گروپ نے کل نریندری مودی کو کابینی اجلاس کے آغاز سے قبل آندھرا پردیش کے لیے خصوصی پیاکیج کے لیے کئے جانے والے اقدامات اور اصول و قواعد کے بارے میں بتایا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے خصوصی پیاکیج مسئلہ پر صرف عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کرنے اور تبادلہ خیال کرنے کو ترجیح دی آندھرا پردیش کے کسی وزیر کو اس میں شامل کئے بغیر ۔ ذرائع کے مطابق مختلف وزارتوں کے عہدیداروں نے وزیر اعظم کو اے پی اسٹیٹ دی آرگنائزیشن ایکٹ میں دئیے گئے مختلف تیقنات اور اب تک عمل درآمد کئے گئے وعدوں کے بارے میں واقف کروایا ۔ انہوں نے سمجھا جاتا ہے کہ ان امور کو بھی تفصیل سے بتایا کہ اے پی آر اے کی منظوری کے وقت اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی جانب سے ایوان میں کئے گئے وعدوں کو مرکزی حکومت کس حد تک پورا کرپائے گی ۔ عہدیداروں کی جانب سے وزیر اعظم کو جو تفصیلات بتائی گئی ہیں ان کی نوعیت صرف ابتدائی تفصیلات کی ہے اور وہ ایک یا دو دن میں اس سلسلہ میں وزیر اعظم کو قطعی معلومات فراہم کرسکتے ہیں ۔ وزیر اعظم کے دفتر کے ایک تلگو آئی اے ایس عہدیدار وی سیشادری اس پیاکیج کو قطعیت دینے کے سلسلہ میں مختلف وزارتوں کے عہدیداروں کے ساتھ کام کررہے ہیں ۔ قبل ازیں سیشادری نے بحیثیت کلکٹر وشاکھا پٹنم کام کیا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ وزیر اعظم نے ،جنہوں نے بہار کے لیے 1.25 لاکھ کروڑ روپئے کے ایک خصوصی پیاکیج کا اعلان کیا ہے اس کے لیے آندھرا پردیش کو ترجیحی فہرست میں رکھا ہے ۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کے حلیف این چندرا بابو نائیڈو پر ریاست آندھرا پردیش کے لیے خصوصی موقف حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ خصوصی موقف کے مطالبہ پر تروپتی میں ایک حالیہ ریالی میں ایک کانگریس ورکر کی خود سوزی اور دہلی میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر وائی ایس جگن موہن ریڈی کی جانب سے احتجاجی ریالی کے باعث تلگو دیشم پارٹی اور بی جے پی دونوں پر دباؤ پڑا ہے ۔ اگر اس مرحلہ پر ایک خصوصی پیاکیج کا اعلان کیا جاتا ہے تو دباؤ پر قابو پانے میں مسٹر نائیڈو کے لیے مدد ہوگی ۔ حالانکہ نریندر مودی آندھرا پردیش کے لیے فوری طور پر ایک بڑی مالی مددکا اعلان کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے کیوں کہ انتخابات کی وجہ بہار ایک ترجیح تھی ۔ بہار میں خصوصی پیاکیج کے اعلان کے بعد اب وہ آندھرا پردیش پر توجہ مرکوز کررہے ہیں ۔ ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ پی ایم او نے مسٹر نائیڈو سے یہ بھی کہا کہ وہ 20 اگست کو دہلی نہ آئیں کیوں کہ وزیر اعظم نے آندھرا پردیش کی ضرورتوں کا ابھی جائزہ نہیں لیا ہے ۔ پی ایم او نے کہا کہ مسٹر نائیڈو چار تواریخ 25 ، 28 ، 29 اور 31 اگست میں سے کسی تاریخ کو وزیر اعظم کے اپوائنٹـمنٹ طلب کرسکتے ہیں تاکہ خصوصی پیاکیج کے امور کو قطعیت دی جاسکے ۔ وزیر اعظم آندھرا پردیش کے لیے خصوصی پیاکیج کا فیصلہ کرنے کے بعد ریاست تلنگانہ کے لیے بھی ایک خصوصی پیاکیج کا اعلان کرسکتے ہیں ۔ بظاہر مودی دونوں تلگو ریاستوں کے پسماندہ اضلاع کے لیے ایک پیاکیج کا اعلان کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں تاکہ یہ اشارہ دے سکیں کہ وہ نئی تشکیل پائی ریاست کے ساتھ کوئی سوتیلا سلوک نہیں کریں گے ۔ بی جے پی ان دو ریاستوں میں اپنے استحکام پر توجہ دے رہی ہے اور ان ریاستوں کے لیے مرکز کے خصوصی پیاکیج سے وہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT