Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / اے پی اسمبلی میں مارشلس اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی

اے پی اسمبلی میں مارشلس اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی

خصوصی موقف کے مسئلہ پر وائی ایس آر کانگریس ارکان کا برہم احتجاج ، اسپیکر کا مائیک توڑنے کی کوشش ، دو مرتبہ اجلاس ملتوی

حیدرآباد /9 ستمبر ( سیاست نیوز ) آندھراپردیش اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور زبردست شور و غل کے بعد اسپیکر اسمبلی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کل تک کیلئے ملتوی کردی ۔ اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان نے زبردست احتجاج کیا اور پیپر پھاڑکر اسپیکر اسمبلی پر پھینکے اور ان کے مائیک کو نقصان پہونچانے کی کوشش کی اور مارشلس نے اسپیکر کا بچاؤ کیا اور حفاظتی محاصرہ کیا ۔ایک موقع پر مارشلس اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی ۔ تلگودیشم حکومت نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان پر حملہ کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے اس واقع کو یوم سیاہ قرار دیا ۔ جبکہ اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے مارشلس کے ذریعہ ان کے ارکان پر حملہ کرانے کا حکومت پر الزام عائد کیا ۔ آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی اجلاس کے دوسرے دن جیسے ہی اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان جو سیاہ لباس زیب تین کئے ہوئے تھے کو خصوصی ریاست کا موقف دینے پر تحریک التواء یونٹس پیش کرتے ہوئے اس پر مباحث کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا ۔ ڈپٹی فلور لیڈر مسٹر پدی ریڈی نے آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ نہ دینے پر ریاست کے عوام میں پائے جانے والے احساسات کو پیش کرتے ہوئے مباحثہ کا مطالبہ کیا ۔ جس پر حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس پر پہلے بیان دیا جائے گا ۔ اس کے بعد مباحث شروع کئے جائیں گے ۔ حکومت کے اس بیان پر اپوزیشن نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے احتجاج کو جاری رکھا ۔ ریاستی وزیر فینانس و امور مقننہ مسٹر وائی راما کرشنوڈو نے اسمبلی کے قاعدے قانون سے ارکان کو واقف کرایا اور ایوان کی کارروائی میں تعاون کرنے کی اپیل کی ۔ اپوزینش کے بدستور احتجاج پر ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ ایوان اسمبلی میں لوئس پونڈ کے رولس نہیں چلتے ۔ جس پر اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس کے ارکان نے اسپیکر کے پوڈیم کے قریب پہونچکر احتجاج کیا ۔ مارشیلس نے اپوزیشن کے ارکان کو اسپیکر کے قریب پہونچنے سے روکنے کی اسی ہنگامہ آرائی کے دوران اسپیکر اسمبلی مسٹر کوڈیلا شیوا پرساد نے ایوان کی کارروائی کو دس منٹ کیلئے ملتوی کردی ۔ دوبارہ 11 بجے ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا ۔ ایوان کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد بھی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان نے اپنے احتجاج کو جاری رکھا ۔ اسپیکر کی کرسی کا گھیراؤ کیا ۔ اسپیکر کے مائیک کو نقصان پہونچانے کی کوشش کی ۔ مارشلس نے اسپیکر کی غیر موجودگی میں ان کی کرسی اور مائیک کی حفاظت کی احتجاج کے دوران اپوزیشن کے ارکان نے پیپرس پھاڑ کر اسپیکر پر پھینکیں ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان سرینواسلو اور راما کرشنا ریڈی نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر نعرے بازی کی ۔ اسپیکر کا تحفظ کرنے والے مارشلس سے ہاتھا پائی کی ۔ مارشلس اور اپوزیشن ارکان کے درمیان دھکم پہل ہوگئی ۔ اسپیکر کوڈیلا شیوا پرساد راؤ نے مارشلس کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی رکن کو ہاتھ نہ لگائیں۔ ایوان کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اسپیکر اسمبلی نے دوسری مرتبہ 15 منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی ۔ اسپیکر اسمبلی نے اپوزیشن کے غیر شائستہ رویہ کی مذمت کرتے ہوئے اپنا اور ایوان کا احترام برقرار رکھنے مشورہ دیا ۔ انہوں نے کرسی صدارت کا بھی احترام کرنے کا اپوزیشن کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کی کارروائی قاعدے قانون سے چلتی ہے ۔ اپوزیشن کے روئے کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے ارکان بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں ۔ ایوان میں شور و غل اور ہنگامہ آرائی کو دیکھتے ہوئے اسپیکر اسمبلی نے ایوان کی کارراوئی کو ہفتے تک ملتوی کردی ۔

TOPPOPULARRECENT